| اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,337
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,885 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میں اسٹار بک کافی ہاؤس میں داخل ہوا اور بیٹھنے کے لیے ہرطرف نظردوڑائی لیکن کوئی سیٹ خالی نہیں تھی۔ میں آرڈر کرنے والی لائن میں کھڑا ہوگیا- لنچ کا وقت تھا، میں نے سوچا جب تک میں کھڑکی تک پہنچوں گا کوئی نہ کوئی سیٹ خالی ہوجائے گی۔ کافی لینے کے بعد میں نے ایک دفعہ پھر سے جگہ تلاش کرنے کے لیے ہر طرف نظر دوڑائی لیکن کوئی سیٹ خالی نہیں تھی۔ میں کاؤنٹر پرٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا۔ ہرطرح کے لوگ آ جا رہے تھے۔ قریب کی یونیورسٹی سے طالب علم ، آفس ورکر آس پاس کی بلڈنگوں سے اور وہ لوگ جو کہ خریداری سے وقفہ لے رہے تھے۔
وہ اکیلی گلاس کی دیوار کے نزدیک ایک کرسی پر بیٹھی تھی اس کی میز پر ایک خالی کافی کا کپ تھا اور اس کی نگاہ میز پر رکھے ہوئے پرچے پر تھی۔ بالو ں کی ایک لٹ اس کے گالوں کو چھو رہی تھی۔ میں نے اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کوگالوں پر ڈھلکتے دیکھا۔ آنسو گالوں سے پھسل کر کاغذ کے پرچے پرگرے۔ میں نے اندازہ لگانے کی کوشش کی اس کاغذ پر کیا لکھا ہوسکتا ہے جو کہ ایک حسین لڑکی کو سرے عام رلا دے۔ شاید اُس سے، اُس کے محبوب نے ملنے کا وعدہ کیا تھا لیکن نہیں آیا یا خط گھر سے آیا ہو اور والدین نے اس کی شادی کسی اور سے کرنے کا وعدہ کرلیا ہو یا وہ اس کی پڑھائی کے پیسے نہیں بھیج سکتے۔ میں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا اور میری نظریں اس پرتھیں کہ اس نے اپنی نظریں اوپر اٹھائیں۔ ہماری نظریں ایک مختصر سے لمحہ کے لیے ملیں اوراس نے اپنی آنکھوں کو پھر سے جھکا لیا۔ یہ آنکھیں کتنی اُداس ہیں ، میں نےان کا درد اپنے دل میں محسوس کیا۔ اس نے خط کو پھر سے پڑھا اور اس کےگالوں پر آنسؤں کی ایک لکیر سی بن گئ۔ اچانک وہ کھڑی ہوگئ اور تیزی سے دروازے کی طرف چلی گئی۔ اس نے دروزا ہ کھولا اور فٹ پاتھ پر اترگئ ۔ میں نے اس بھیڑ میں اس پر نگاہ رکھنے کی کوشش کی۔ وہ ٹریفک سِگنل کے پاس رکی، ایک لمحہ وہ فٹ پاتھ پہ تھی اور دوسرے لمحے سڑک پر۔ میں نے کار کے بریکوں کی آواز سنی۔ کپ رکھ کرمیں باہردوڑا۔ لوگ اس کے اردگرد جمع تھے۔ میں نے بڑی مشکل سے راستہ بنایا۔ وہ خون میں لت پت تھی۔ کیا کسی نے ایمبولِنس کے لیے کال کیا؟ میں چلایا۔ “ ہاں“ ۔ کسی نے کہا۔ میں نے اس کے قریب بیٹھ کر اس کی نبض تلاش کرنے کی کوشش کی۔ نبض نہیں تھی۔ میں نےاس کے سینے پر کان رکھ کراس کے دل کی دھڑکن کو سننے کی کوشش کی۔ دل بہت آہستگی سے دھڑک رہا تھا - اس نے ایک ہچکی لی اور اُس کا دل خاموش ہوگیا۔ کوئی چلایا۔ " اس کو سی پی آر دو"۔ میں نے اس کی ناک کو بند کرکے اس کے منہ سے منہ ملادیا اور اس کو لمبی لمبی سانسیں دینے لگا۔ پھر اس کے سینہ پر پندرہ دفعہ دباؤ ڈالا۔ میں نے پھر سے اس کے دل کی آواز کو سننا چاہا ۔ خاموشی بالکل خاموشی۔ میں نے پھر سے اس کو اپنا سانس دینے کی کوشش کی مگراس کے لب سرد ہو چکے تھے۔ سڑک پر مکمل خاموشی چھاگئ۔ دھیرے سے میں نے کاغذ کے پرچے کو اس کے ہاتھ سے جدا کیا۔ اس پر لکھا تھا۔ میں تمہارے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ تمہیں جب یہ خط ملے گا میں اس دنیا کو چھوڑ چکا ہوں گا۔ ایک مدہم آواز اس کے پرس میں رکھے ہوۓ سیل فون سے آرہی تھی۔ میں نے فون میں کہا ۔ “جی“۔ " کیا ناز وہاں ہیں مجھے ان کو بہت ضروری پیغام دینا ہے"۔ “ تم کون ہو"؟ میں نے پوچھا " میں اس کا بھائی ہوں۔ ناز سے کہنا کہ جمیل زندہ ہے“۔ میرے ہاتھ سے سیل فون گرگیا۔ سید تفسیر احمد
__________________
اور اس نے میرے ساغر میں
مئے سرخ انڈیلی ۔۔۔ تو کہا مت سوچو ! |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,209
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سرورق کے لیے پیش کریں۔
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,589
کمائي: 157,702
شکریہ: 8,078
5,023 مراسلہ میں 19,305 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بےوقوف لڑکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,337
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,885 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
آپکی طرح تو نہیں ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,589
کمائي: 157,702
شکریہ: 8,078
5,023 مراسلہ میں 19,305 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اتنی فالتو نہیں ہے زندگی کہ ایسی باتوں پر قربان کردی جائے۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,407
کمائي: 85,621
شکریہ: 4,982
4,949 مراسلہ میں 11,252 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہ شاید میں پہلے پوسٹ کر چکا ہوں۔
|
|
|
|
|
|
#7 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 15,974
کمائي: 276,878
شکریہ: 33,221
12,661 مراسلہ میں 37,019 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مرج کریں جی !
|
|
|
|
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,337
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,885 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فیصل بھائی ٹھیک کہہ رہے ہے
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 5,589
کمائي: 157,702
شکریہ: 8,078
5,023 مراسلہ میں 19,305 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وقاص بھائی
آپ اپنے دھاگے کا لنک ڈال دیں ذرا شکریہ |
|
|
|
| سحر کا شکریہ ادا کیا گیا | عدنان دانی (18-01-10) |
|
|
#10 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 21
مراسلات: 6,268
کمائي: 152,337
شکریہ: 4,794
4,340 مراسلہ میں 10,885 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وقاص بھائی کہا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فیصل, ہوں۔, فالتو, کہہ, کریں۔, کردی, ٹھیک, پہلے, پیش, پوسٹ, قربان, لڑکی, چکا, آپکی, ایسی, اتنی, بھائی, بےوقوف, باتوں, جائے۔, زندگی, سرورق, شاید, طرح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| قیمے کے پراٹھے | سیپ | باورچی خانہ | 8 | 24-03-11 05:10 PM |
| بولیاں / ماہیے / ٹپے | اکرم | پنجابی چوپال | 6 | 04-06-10 10:28 PM |
| وہاں اب درد ٹھہرا ہے۔ | شیراز احمد | شاعری اور مصوری | 7 | 15-07-09 01:17 PM |
| ہر شب کی آنکھ سے ٹپکا ہے | Shani | شاعری اور مصوری | 1 | 07-11-08 06:05 PM |
| بٹھہ | محمد کاشف حبیب | پاکستان کی سیاحت | 10 | 18-09-08 08:00 PM |