| اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,568
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لڑن رات ہو وچھڑن رات نہ ہو
باوجود اس کے کہ ہر روز ابر چھایا رہتا ہے لیکن بارش نہیں ہوتی۔ بارش کی آرزو ہم ہر روز کرتے ہیں لیکن یہ ہو نہیں پاتی اور اگر ہوتی بھی ہے تو بہت کم کم۔ بارش اور جاندار کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جیسا کہ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا ہے کہ سب جاندار پانی سے پیدا ہوۓ، کچھ ایسے جو پیٹ کے بل چلتے ہیں، کچھ ایسے جو دو ٹانگوں کے ہیں اور کچھ ایسے جو چوپاۓ ہیں۔ خواتین و حضرات پانی سے ہی یہ ساری آبادیاں قائم ہوئیں اور علیمِ مطلق بہتر جانتا ہے کہ کب بارش کرنی ہے اور کب روکنی ہے لیکن ہم لالچی بندے ہیں ہم اپنے مقصد کو دیکھتے ہیں اوربارش کے لیے آرزو مند ہیں۔ ایک مرتبہ میں بذریعۂ ریل کار لاہور سے پنڈی جا رہا تھا۔ اس وقت بارش ہو چکنے کے بعد دھوپ نکل آئی تھی لیکن ریل کار کے شیشے کے اوپر بے شمار بڑے بڑے بارش کے قطرے موجود تھے اور گاڑی ایک سٹیشن پر رکی ہوئی تھی اور میں ان خوب صورت قطروں کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ ایک قطرہ اپنی جگہ سے پھسلا درمیان میں آکر کھڑا ہو گیا پھر ایک اور قطرہ ایک اور جانب سے آیا اور اس قطرے کے ساتھ شامل ہو گیا۔ وہ تھوڑی دیر کو رُکے اور پھر اس قطرے میں سے ایک قطرہ علیحدہ ہو کر شمال کی طرف چلا گیا۔ ایک جنوب کی سمت چلا گیا اور میں انہیں بڑی دیر تلک دیکھتا رہا کہ اس میں سے وہ کون ہے؟ اور وہ دوسرا کون ہے؟ یعنی میں ان قطروں میں سے پہلے اور بعد میں آنے والے قطروں میں تمیز کرنے سے قاصر تھا۔ اس طرح انسان بھی اپنوں سے ملنے کی آرزو کرتا رہتا ہے۔ کسی نہ کسی صورت اس کا تعلق لوگوں سے ہو جبکہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ پیسوں سے ہیں۔جن کے پاس زیادہ دولت ہو وہ خیال کرتے ہیں کہ شاید زیادہ دولت ہونے سے ہمیں زیادہ آسانیاںملیں گی اس لیے میرے اور آپ کے درمیان دولت حائل ہو گئ ہے جس نے ہمارے درمیان ایک خلیج بنا دی ہے۔ ہم بڑی کوشش اور ہمت کے باوصف ایک دوسرے سے اس طرح نہیں مل سکتے جیسے بے غرض اور بے لوث انداز میں بارش کا ایک قطرہ شیشے پر سے پھسلتا ہوا دوسرے سے جا ملتا ہے اور پھر اس سے جدا ہو جاتا ہے اور پتہ ہی نہیں چلتا کہ کون کون تھا؟ اور کیا کیا تھا؟ اس معاملے میں ہم انسان قطروں سے پیچھے ہیں۔ ہم ایک دوسرے سے ملنے کی بجاۓ پیسوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ یہ بات بھی نہیں ہے کہ یہ دور ہی مادی آگیا ہے بلکہ انسان کے بل ہی اتنے بڑھ گۓ ہیں کہ وہ انہیں Pay ہی نہیں کر سکتا اور ان بلوں کے چنگل سے نکل ہی نہیں پاتا اور یہ بل ہماری ناجائز ضرورتوں کے باعث بڑھ گۓ ہیں۔ آپ اندازہ کریں کہ میرے تنخواہ یا آمدن کا ساٹھ سے باسٹھ فیصد حصہ ان چیزوں پر خرچ ہو رہا ہے جو 1960 میں ہوتی ہی نہیں تھیں اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ میں 1960 میں بھی زندہ تھا اور میں قسم کھا کے کہتا ہوں کہ ان سب چیزوں کے بغیر میں سن ساٹھ میں حیات تھا۔ اس وقت شیمپو کا تصور نہیں تھا اور ہم لال صابن سے نہایا کرتے تھے۔ اب شیمپو خریدنے کے چکر میں گھر کا بجٹ ٹیڑھا ہو جاتا ہے۔ اس وقت فوٹو سٹیٹ نام کی کوئی مصیبت نہیں تھی اس وقت صرف لاہور کے اندر پونے دو کروڑ کے قریب فوٹو مشینیں ہیں اور ایک اندازے کے مطابق دس سے بارہ لاکھ کی فوٹو کاپیاں روز ہوتی ہیں۔ (اشفاق احمد کا یہ پروگرام 2003 میں نشر ہوا تھا اور یہ اندازہ اس وقت کا ہے) سکول کے بچے پہلے ہاتھ سے کام کرتے تھے اور اب فوٹو کاپیاں کراتے ہیں۔ عدالتوں میں جس کاغذ کی ضرورت نہیں بھی ہوتی اس کی بھی کاپیاں کرانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ یہ اضافی بوجھ ہم پر پڑا ہے۔ آج سے چند سال پہلے موبائل فون کا کوئی چکر نہیں تھا اب ہرکوئی کانوں کو لگاۓ پھرتا ہے۔ زندگی ان کے بغیر بھی چل رہی تھی اور بڑی اچھی چل رہی تھی۔یہ دباؤ ہیں جو انسان کے اوپر پڑا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ آدمی کبھی بھی پیسے کے بل پر چل کر دوسرے آدمی سے نہیں مل سکتا ہے۔ ہم انسانوں سے حسد بھی کرتے ہیں، غصہ بھی رکھتے ہیں اور غیبت بھی کرتے ہیں لیکن آدمی کا آدمی سے ملنے کو دل بھی ضرور کرتا ہے اور انسان انسان سے ملے بغیر مکمل ہو ہی نہیںسکتا۔ کتاب لکھ دینے سے یا دانشوربن جانے سے انسان مکمل نہیں ہوتا۔ ایک آدمی بیچارہ تھا۔ سکول ٹیچر ہی ہوگا۔ اس نے بیوی سے کھانا مانگا۔ آگے سے انکار ہوا تو اس نے سوچا کہ چلو پیر صاحب سے مل آتے ہیں۔ تانگے والے سے کہا کہ پیسے نہیں، لے چل لیکن اس نے بھی کہا کہ پیدل چلو۔ اس نے بھی خیال کیا کہ میل ڈیڑھ میل کا راستہ ہے پیدل طے کر لیتے ہیں۔ وہ کافی راستہ طے کر کے دریا کنارے گیا تو وہاں پر بھی پیسے طلب کیے گۓ کہ گزرنا ہے تو پیسوںکی ادائیگی کرو۔ اب اس غریب نے اپنی دھوتی سر پر لپیٹی اور دریا میں چھلانگ لگا دی اور تیرتا ہوا دریا کراس کر گیا اور چلتا چلتا پیر صاحب کے حضور پہنچا۔ پیر صاحب اعلٰی درجے کے ریشمی بستر پر تکیہ لگاۓ مزے سے بیٹھے تھے اور ان کے ارد گرد پھلوں کے ٹوکرے رکھے ہوۓ تھے اور مٹھائیاں اور دیگر نعمتوں کے انبار لگے پڑے تھے۔ پیر صاحب مرید کو دیکھ کر خوش ہوۓ اور ابھی وہ بے چارہ بھوکا پیاسا گرتا پڑتا پیر صاحب کو درست طرح سے سلام بھی نہیں کر سکا تھا کہ پیر صاحب نے اپنی ٹانگ آگے کر دی کہ اس کو دابو۔ وہ مرید تھوڑی دیر ٹانگ دباتا رہا تو پیر صاحب کہنے لگے کہ واہ بھئ واہ۔ ہم دونوں کو کتنا ثواب ہو رہا ہے۔ اس نے کہا کہ پیر صاحب خدا کا خوف کریں مجھے تو ثواب ہو رہاہے آپ کو کدھر سے ہو رہا ہے؟ پیر صاحب نے ناگواری سے ٹانگ پیچھے کھینچی اور کہنے لگے“ لے کلا ہی ثواب لئی جا“۔(لو اب تم اکیلے ہی ثواب لیتے رہو)۔ ا س طرح آدمی کو آدمی کی ضرورت رہتی ہے چاہے وہ کسی بھی مقام پر ہو وہ انسان کو تلاش کرتا ہے۔ میری بھانجی کی ایک بیٹی ہے جسے پیار سے ببلی کہتے ہیں۔ وہ ساہیوال میں رہتی ہے۔ میری دوسری بھانجی کی بیٹی ٹینا اور ببلی بڑی گہری سہیلیاں ہیں۔ وہ ہم عمر ہیں۔ ٹینا لاہور میں رہتی ہے۔ کبھی کسی بیاہ شادی کے موقع پر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ساہیوال جانا پڑتا ہے اس طرح ٹینا ایک بار جب ساہیوال گئی تو وہ دونوں ایک ہی بستر میں لیٹی ہوئی تھیں کہ آدھی رات کے وقت ٹینا کے رونے کی آواز آئی۔ ببلی کی ماں نے اس سے پوچھا کہ ٹینا کیا بات ہے؟ ٹینا روتے ہوۓ کہنے لگی کہ ببلی مجھے مونگ پھلی نہیں دیتی۔ اس کی ماں نے کہا کہ ببلی کے پاس تو مونگ پھلی نہیں ہے۔ ٹینا روتے ہوۓ کہنے لگی کہ خالہ یہ کہتی ہے کہ جب بھی میرے پاس مونگ پھلی ہوئی میں تمہیں نہیں دوں گی۔ وہ رو رہی تھی لیکن ببلی کے بستر سے نہیں نکل رہی تھی کیونکہ نہ ہونے کے تعلق کو بھی انسان کھینچ کے اپنی ذات کے ساتھ شامل کر لیتاہے۔ لیکن اب بدقسمتی سے ہم نے تعلق کا باعث ڈھیر ساری دولت کو سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ یہ جو خاندانی نظام آہستہ آہستہ ٹوٹ رہے ہیں اور لوگ ایک دوسرے سے بے خبر، بے سدھ زندگی گزارنے کو ترجیح دے رہے ہیں اس کی وجہ روپے پیسے کی بہتات ہے۔ اس پیسے نے نزدیکی کی بجاۓ دوریاں پیدا کر دی ہیں۔ جب میری آپا زبیدہ حیات تھیں تو جہلم میں ان کے پاس ایک ٹی وی سیٹ تھا۔ ان کے گھر ایک ادھیڑ عمر شخص پیچ کس پلاس لے کر ان کا ٹی وی ٹھیک کر رہا تھا۔ وہ روز ٹی وی ٹھیک کرنے آتا۔ صبح صبح آجاتا، دوپہر اور شام کا کھانا کھا کر چلا جاتا۔ میں بھی وہاں ٹھہرا ہوا تھا۔ میں دو تین چار دن دیکھتا رہا اور جب میں نے دیکھا کہ ساتویں دن وہ ایک نئی ٹیوب لے کر آیا۔ اس نے کہا کہ آپا جی اس ٹیلی ویژن کی ٹیوب خراب ہو گئی ہے اسے یہ لگانے آیا ہوں۔انہوں نے بھی کہا کہ ٹھیک ہے لگا دو۔ اس نے وہ ٹیوب لگا دی تو وہ بلیک اینڈ وائٹ ٹیلیویژن چلنے لگا۔ جب وہ چلا گیا تو میں نےآپا زبیدہ سے کہا کہ آپا یہ جو سات دن کوشش میں لگا رہا اور آپ نے اسے کوشش کرنے دی اور اگر اس کی ٹیوب ہی بدلنی تھی تو پہلے دن ہی بدل دی ہوتی۔ وہ کہنے لگی کہ نہیں اگر ایسا ہو جاتا تو پھر وہ بیچارہ اتنے دن کس سے ملتا؟ اس کا بھی اتنے دن دل لگا رہا اور ہمارے گھر میں بھی رونق لگی رہی ہے۔ خواتین و حضرات! اب بندہ بندے سے ملنا پسند نہیں کرتا۔ اس کا وہ پہلے سا رشتہ نہیں رہاہے اور اب یہ تعلق اور رشتے ایک خواب بن چکے ہیں۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ڈھیر سارے ڈالر آجانے سے آپ Rich ہو جائیں گے۔ ہرگز ایسا نہیں ہوگا۔ آپ کے پاس پیسہ تو ہوگا لیکن آپ کی محرومیاں بڑھتی چلی جائیںگی۔ اس کا سدِّ باب ابھی سے کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ آج اپنے بھائی بندوں سے دور ہوتے گۓ اور ہمارے درمیان رخنہ آتا گیا تو خلیج بڑھ جاۓ گی اور دو طرح کے تعلیمی نصاب نے بھی ہمارے درمیان لکیر کھینچ دی ہے۔ اب آرٹ کےکلچر کے مظاہر اور شواہد میں بھی فرق ڈالا جا رہا ہے۔ بہاولپور میں ایک سکول ٹیچر حبیب اللہ صاحب تھے۔ وہاںایک کرم الٰہی صاحب بھی تھے وہ بھی استاد تھے۔ وہ ایک ساتھ کافی عرصہ اکٹھے پڑھاتے رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد جدا ہو گۓ۔ ان میں بڑا پیار تھا۔ کرم الٰہی صاحب لاہور آگۓ جبکہ حبیب اللہ صاحب بہاولپور میں ہی رہے۔ ایک دفعہ حبیب اللہ صاحب بہاولپور سے ملتان گۓ۔ ملتان بہاولپور سے کچھ زیادہ دور نہیں ہے۔ وہ وہاں اپنا کام کرنے کے بعد رات کو بس پکڑ کر ساہیوال پہنچ گۓ۔ ساہیوال بس سٹینڈ سے یکّہ لے کر کرم الٰہی صاحب کے گھر گاؤں چک گ۔ب یا ای۔بی جو بھی تھا وہاں چلے گۓ اور اپنے یارِ قدیم کے گھر پر دستک دی۔ حبیب اللہ صاحب کہنے لگے کہ میں چاۓ تو لاری اڈے سےہی پی آیا ہوں۔ چلیں اکٹھے چل کے نماز پڑھتے ہیں۔ (اس وقت فجر کی اذان ہو رہی تھی)۔ انہوں نے کہا کہ ملتان آیا ہوں۔ ساہیوال قریب ہی ہے چلو کرم الٰہی سے مل آتا ہوں۔ خواتین و حضرات بہاولپور سے ملتان اتنا سفر نہیں ہے جتنا ملتان سے ساہیوال ہے لیکن وہ اس سفر کو بھی “قریب ہی“ کا نام دے رہے تھے۔ انہوں نے اپنے یارِ عزیز سے کہا کہ تم سے ملنا تھا مل لیا۔ تمہیں دیکھ کر طبیعت خوش ہو گئی اور اکٹھے فجر پڑھ لی اور اب میں چلتا ہوں۔ کرم الٰہی صاحب نے بھی کہا کہ بسم اللہ آپ کے دیدار سے دل خوش ہوگیا۔ خواتین وحضرات! ہم ایسے نہیں کر سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ایک ایسا بے چارہ شہر بھی ہے جہاں بڑے پھول اور باغ ہیں۔ وہ بڑا خوب صورت بھی ہے لیکن وہاں کوئی بھی کسی سے ملنے نہیں جاتا۔بلکہ کام کی غرض ہی انسان کو وہاں لے جاتی ہے۔ وہ شہر اسلام آباد ہے۔ میں یہ کہتے ہوۓ معافی چاہتا ہوں کہ میں بھی وہاں جب گیا ہوں کسی نہ کسی کام کے سلسلے میں گیا ہوں اور کام ہو چکنے کے فوراً بعد وہاں سے لوٹ آیا ہوں۔ مجھے اس بات کی وجہ سے اسلام آباد پر پیار بھی آتا ہے۔ وہاںمیرے بہت پیارے دوست بھی رہتے ہیں جن میں نادر، عمار اور فراز بھی ہے لیکن وہاں جانا صرف کام کی غرضسے ہی ہوتا ہے۔ جوں جوں انسان کے درمیان فاصلے ہوتے جاتے ہیں اور نظر نہ آنے والی دراڑیںپڑتی جاتی ہیں۔ انسان بیچارہ ان فاصلوں کو پیسوں کی کمی سے جوڑ رہا ہے اور اس نے سارا زور معاشی پوزیشن بہتر کرنے پر لگا رکھا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ اگر معاشی صورتحال اچھی ہو گئی اور انسانوں کا منہ ایک دوسرے کے مخالف رہا تو پھر ان پیسوں، ڈالروں کا آخر کیا فائدہ ہوگا؟ اس لیے ہمیں اپنے اپنے طور پر سوچنا پڑے گا کہ چاہے ایک دوسرے سے لڑائی ہوتی رہے لیکن وچھوڑا تو نہ ہو جس طرح پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ “لڑن رات ہو پر وچھڑن رات نہ ہو“۔ جب ہم کالج میں پڑھتے تھے تو ہم سینما دیکھنے جایا کرتے تھے۔ عام طور پر گھر والے ہمارا سینما جانا پسند نہیں کرتے تھے لیکن ہم چلے جایا کرتے تھے۔ ان دنوںسینما کی ٹکٹ خریدنے کے لیے لکشمی چوک میں ایک قطار لگتی تھی۔ ایک دفعہ ہم قطار میں کھڑے تھے اور قطار بہت لمبی تھی۔ اس قطار میں ایک بڑی داڑھی والا آدمی بھی کھڑا تھا۔ اس نے پرانی سی واسکٹ پہنی ہوئی تھی اور اس کی ہیئت کچھ اچھی نہ تھی۔ نوجوان جو اس شخص کو اور اس جیسے دیگر لوگوں کو پسند نہیں کرتے ویسا ہی ایک نوجوان وہاں تھا۔ اس نے اس شخص سے کہا“باباجی تسی فلم ویکھنی اے“ اس نے جواب نہیں دیا تو نوجوان نے غصے سے کہا کہ پھر تم قطار میں کیوں پھنسے کھڑے ہوۓ۔ وہ کہنے لگا“جی میں بندیاں دے کول ہونا چاہناں واں مینوں کوئی نیڑے نئیں آن دیندا“۔(میں لوگوں کے قریب آنا چاہتا ہوں لہکن مجھے کوئی اپنی قربت اختیار نہیں کرنے دیتا ہے) اس شخص نے کہا کہ میں اس غرض سے ہر روز لائن میں آ کے کھڑا ہو جاتا ہوں اور اس طرح میرے ہر طرف آدمی ہی آدمی ہوتے ہیں حالانکہ میں نے نہ کبھی فلم دیکھی ہے اور نہ ہی دیکھنی ہے۔ ایسے ترسے ہوۓ لوگ بھی ہیں اور اس قسم کے بے شمار لوگ ہمارے ارد گرد ہیں جن کو انسانی کندھے کی ضرورت ہے لیکن بیچارے انسان کا المیہ یہ ہے کہ وہ ایسے ہی گھبرایا رہتا ہے۔ مجھے وہ بابا اب بھی یاد ہے جو ایک دن اپنی 80 سال کی بوڑھی بیوی کو مرجا مرجا کہے جا رہا تھا۔ میں وہاں سے گزر رہا تھا۔ اس سے پوچھا کہ بابا آخر قصہ کیا ہے۔ تو وہ کہنے لگا کہ یہ دوائی نہیں کھاتی اور اگر اس نے دوائی نہ کھائی تو مر جاۓ گی۔ میں نے وہ دوائی دیکھی تو وہ عام سی ملٹی وٹامن کی گولیاں تھیں۔ کسی خاص بیماری کی بھی نہیں تھیں۔ میں نے کہا بابا تو نوے سال کا ہے اور یہ اسی سال کی بڑھیا۔ اب تو اسے مرنے دے تو نے اس کا کیا کرنا ہے۔ تو وہ بابا کہنے لگا صاحب جی اس کی بڑی ضرورت ہے۔ یہ اینٹیں پاتھنے والوں کی بیٹی ہے اور روڑے اکٹھے کرنے والوںکی اولاد ہے۔ و ہ کہنے لگا کہ صاحب جی“ایس دی بڑی لوڑ اے۔ جدوں میںسویرے سے شام تیکر کنکر کنکر روڑے روڑے ہو جاتا ہوں تو چونکہ اس کو روڑے اکٹھے کرن دا ول آوندا اے اور ایہہ میرے روڑے کنکر اکٹھے کر کر مینوںفیئر زندہ کر دیتی ہے۔ خواتین و حضرات“ ایسے لوگ آپ کے شہر میں ابھی بھی موجود ہیں جو اس لیے قریب قریب بیٹھے ہیں جو دوسروں کو بکھرنے سے بچا لیتے ہیں۔ میرے اپنی ذاتی آرزو ہے کہ پیسہ واقعی ضروری چیز ہے لیکن انسان کا احترام زیادہ لازمی ہے۔ اس سے آپ کو زیادہ خوشی، محبت، حدت اور Love عطا کرسکتا ہے جو آپ کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ میری دعا اور آرزو ہے کہ ہم سب انسانوں کے قریب آئیں اور ان کو سمجھنے کی کوشش کریں چاہے وہ ببلی اور ٹینا کی لڑائی کی صورت میں یا گورنمنٹ کالج کے عقب میں رہنے والے اس بڈھے بابے کی طرح جو اپنی بوڑھی بیوی سے لڑ رہا تھا اور اس کی لڑائی میں بے پناہ محبت پنہاں تھی اور وہ ایک دوسرے کے لیے زندہ رہنا چاہتے تھے۔ اللہ آپ کو آسانیاں عطا فرماۓ اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا فرماۓ۔ اللہ حافظ دولت کتاب کے اصل متن میں لفظ "دوست" تھا مگر موضوع کی مناسبت اور سیاق و سباق سے "دولت" لفظ صحیح لگتا ہے۔ ہوسکتا ہے اصل کتاب میں دوست کتابت کی غلطی ہو۔ جویریہ مسعود
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
بہت خوب فوٹو ٹیک بھائی
بہت عمدہ شئیرنگ ہے |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فوٹو, فراز, کالج, ٹیک, پھول, پیارے, پیاسا, پسند, قصہ, نماز, نظر, مکمل, موبائل, ماں, آج, اللہ, اسلام, تلاش, خواتین, خدا, دوست, داڑھی, دعا, رات, راستہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|