| اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکیب جلالی وہ شاعر ہے جس نے 35 سال کی عمر میں خود کشی کر لی ۔ مرنے کے بعد اُس کی جیب سے ایک کاغذ کا ٹکڑا ملا جس پر یہ شعر لکھا ہوا تھا:
تونے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ ان کے ہاں کلاسیکی لطف ضرور ہے لیکن وہ بہت سے حوالوں سے جدید شاعر ہیں جس نے اپنی غزل میں جدید ماحول،اقدار اور جدید روےے پیش کیے ہیں ۔ ان کے ہاں ایک گہری بے اطمینانی اور انتشار کی کیفیت موجود ہے۔ جس میں سماجی گھٹن اور تنہائی بنیادی کردار ہیں اور یہ بے اطمینانی کا سلسلہ اس کی شخصیت سے مل جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ خودکشی کرتا ہے۔ محبوب کو اُنھوں نے ایک نئے زواےے سے دیکھا ایسا زاویہ جس سے شاید آج تک کسی نے نہ دیکھا ہو ۔ ان کے ہاں سارے رویوں میں بنیادی چیز جدید دور کی منافقت ہے جسے وہ سماج سے محبوب تک لے آیا ہے۔ دھوکے سے اُس حسین کو اگر چوم بھی لیا پائو گے دل کا زہر لبوں کی مٹھاس میں یہ اور بات وہ لب تھے پھول سے نازک کوئی نہ سہہ سکے لہجہ کرخت ایسا تھا ملبوس خوشنما ہیں مگر جسم کھوکھلے چھلکے سجے ہو جیسے پھلوں کی دکا ن پر اپنی انتشاری کیفیت کی وجہ سے وہ فطرت سے مکالمہ کرتا ہے۔اور اپنے دکھ فطرت کے ساتھ بانٹنا چاہتا ہے۔ او رآخر یہ ساری بے اطمینانی ایک نقطے پر آکر ختم ہوجاتی ہے جب انسان نجات حاصل کرکے وقت سے آگے نکل جاتا ہے۔ کنارے آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی گماں گزرتا ہے یہ شخص دوسرا ہے کوئی درخت راہ بتائیں ہلاہلا کر ہاتھ کہ قافلے سے مسافر بچھڑ گیا ہے کوئی فیصل ِ جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں حدودِ وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی اور آخر میں کچھ شاعری جناب شکیب صاحب کی آ کر گرا تھا ایک پرندہ لہو میں تر تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر کیا کہیے کہ اب اس کی صدا تک نہیں آتی اونچی ہوں فصیلیں تو ہوا تک نہیں آتی شاید ہی کوئی آسکے اس موڑ سے آگے اس موڑ سے آگے تو قضا تک نہیں آتی وہ گل نہ رہے نکبتِ گُل خاک ملے گی یہ سوچ کے گلشن میں صبا تک نہیں آتی اس شورِ تلاطم میں کوئی کس کو پکارے کانوں میں یہاں اپنی صدا تک نہیں آتی خوددار ہوں کیوں آؤں درِ ابلِ کرم پر کھیتی کبھی خود چل کے گھٹا تک نہیں آتی اس دشت میں قدموں کے نشاں ڈھونڈ رہے ہو پیڑوں سے جہاں چھن کےضیا تک نہیں آتی یا جاتے ہوئے مجھ سے لپٹ جاتی تھیں شاخیں یا میرے بلانے سے صبا تک نہیں آتی کیا خشک ہوا روشنیوں کا وہ سمندر اب کوئی کرن آبلہ پا تک نہیں آتی چھپ چھپ کے سدا جھانکتی ہیں خلوتِ گل میں مہتاب کی کرنوں کو حیا تک نہیں آتی یہ کون بتائے عدم آباد ہے کیسا ٹوٹی ہوئی قبروں سےصدا تک نہیں آتی بہتر ہے پلٹ جاؤ سیہ خانۂ غم سے اس سرد گُپھا میں تو ہوا تک نہیں آتی
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|
|
|
#2 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,234
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب جناب۔۔ اپ بہت زبردست کام کر رہے ہیں۔۔ مجھے ابھی پہلی دفعہ پتہ چلا کہ شکیب نے اتنی کم عمری میں خودکشی کی تھی۔
زبردست شاعری کا انتخاب اور پس منظر ہے۔۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
|
#3 | |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکر یہ
|
|
|
|