| اردو ادب سے اقتباسات یہاں پر اردو ادب کی مشہور و معروف کتب سے منتخب اقتباسات پر بحث کی جائے گی۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,234
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
پاکستان میں اردو اور دیگر زبانوں میں علم و ادب کی ’ترقی‘ کے سلسلے میں بہت سے ادارے قائم کیے جاتے رہے ہیں۔ سرکاری انتظام میں چلنے والے یہ ’علمی ادارے‘ ،جنہیں انگریزی میں ’لرنڈ باڈیز‘(learned bodies) کہا جاتا ہے، یوں کاغذ پر تو عموماً بڑے بلندوبالا عزائم رکھتے ہیں لیکن ان کی مطلوبہ کارکردگی کے معیار متعین کرنے اور پھر ان اداروں کی اصل کارکردگی کو ان معیاروں پر پرکھنے کا رواج ہمارے ملک میں قطعی نہیں۔اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ جب ریاست کا انتظام چلانے والے اعلٰی اداروں میں جواب دہی کا کلچر رواج نہ پا سکا ہو تو پھر ایسے نسبتاً کم اہم اداروں سے ایسی توقع کیونکر رکھی جا سکتی ہے۔ طرحدار شاعر منیر نیازی اپنے مخصوص انداز میں ایسے اداروں کو ’معذور ادیبوں کی پرورش گاہیں‘ قرار دیتے تھے، لیکن، ظاہر ہے، ان سے ہر ایک کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
کراچی یونیورسٹی میں اس قسم کا ایک ادارہ شعبۂ تصنیف و تالیف و ترجمہ کے نام سے 1960کے لگ بھگ یونیورسٹی کے اشاعت گھر کے طور پر قائم کیا گیا۔ یونیورسٹی کے قیام کے مقاصد کے پیش نظر شروع ہی میں ایک اہم فیصلہ یہ کیا گیا تھاکہ اردو زبان کو علمی اعتبار سے ترقی دے کر اس مقام پر پہنچایا جائے گا جہاں وہ ’طیلسان‘ اور اس سے بلند تعلیمی سطحوں پر ذریعہ تعلیم کے طور پر استعمال کی جا سکے۔ آپ تو خیرتعلیم یافتہ ہیں اور اس قسم کی اصطلاحوں سے ضرور مانوس ہوں گے، لیکن بعض کم علم لوگ پوچھ سکتے ہیں کہ بھلا یہ طیلسان کیا ہوا؟ تو ایسے لوگوں کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ طیلسان خاص جامعہ کراچی کی وضع کی ہوئی اصطلاح ہے جس کے معنی ہیں ’گریجویشن‘۔ رہی اس سے بلندتر تعلیمی سطح تو اسے غالباً چیستان کہا جائے گا۔ شعبۂ تصنیف و تالیف و ترجمہ سے ایک رسالہ ’جریدہ‘ کے عنوان سے شائع ہوتا ہے۔ جنوری 2004 کے بعد سے اس رسالے کی ظاہری صورت اور اس کے مشمولات میں ایک گہری اور نہایت دلچسپ اور معنی خیز تبدیلی واقع ہوئی ہے جو کراچی یونیورسٹی کے بارے میں مضامین کے اس سلسلے کی اصل محرک ہے۔ اس کا تفصیلی ذکر تو آگے چل کر ہو گالیکن اس کے پس منظر کے بارے میں اپنی خوش دلانہ تحقیق کے دوران بیدل لائبریری میں ’جریدہ‘ کی فائل پر نگاہ ڈالتے ہوئے مجھے اس خیال کو اپنے ذہن سے باربار جھٹکنا پڑا کہ کہیں منیرنیازی کا تبصرہ صداقت پر مبنی تو نہیں تھا۔ 1960اور 2003کے درمیانی عرصے میں ’جریدہ‘ کے بیس شمارے شائع ہوئے، اور ان شماروں میں مختلف علوم و فنون کی ان اردو اصطلاحوں کی فہرستیں انگریزی مترادفات کے ساتھ شائع کی جاتی رہیں جنہیں کراچی یونیورسٹی کے قابل احترام اہل علم اساتذہ کی علمی کمیٹیوں نے بظاہر بڑی عرق ریزی کے ساتھ وضع کیا تھا۔ چالیس سے زیادہ برسوں پر پھیلی ہوئی اس اجتماعی عرق ریزی کا مقصد یونیورسٹی کے اس ’تاریخی فیصلے‘ کو عمل کا روپ دینا تھا جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ ان اردو اصطلاحوں کو پڑھنے والا اس قسم کی سراسیمگی سے تو ضرور دوچار ہوتا ہے جیسی کسی طیلسان کے روبرو آنے پر طاری ہو سکتی ہے، لیکن خدانخواستہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ اصطلاحیں کسی مصرف کی نہیں ہیں۔ ایک سامنے کی بات تو یہی ہے کہ مثال کے طور پر’ آلۂ مکبرالصوت‘پر نظر پڑتے ہی اس کے انگریزی مترادف ’لاؤڈسپیکر‘ اور ’ایمپلی فائر‘ (جی ہاں، یہ بھاری اصطلاح دونوں پر حاوی ہے) نہایت سادہ، مسکین اور گھریلو معلوم ہونے لگتے ہیں۔ آپ جو یہ تحریر انٹرنیٹ کی مدد سے اپنے کمپیوٹر کی سکرین پر پڑھ رہے ہیں، آپ ہی بتائیے کہ کمپیوٹر سے متعلق ایک شے کو، جو کئی سال ہوئے دنیا سے رخصت ہو چکی ہے، اگر ’انعطاف پذیر قرص‘ کے نام سے یاد کرایا جائے تو کیا آپ کو مرحومہ کے اصل نام یعنی ’فلاپی ڈسک‘ پر نئے سرے سے پیار نہیں آنے لگے گا؟ غالب کا وضعِ احتیاط سے جی رُکنے لگا تھا؛ کہیں ان کا واسطہ اس قسم کی ’وضعِ اصطلاح‘سے پڑا ہوتا تو خداجانے کیا ہوتا۔ کراچی یونیورسٹی کے زیراہتمام وضع کی گئی ان اصطلاحوں کی فہرستوں پر نگاہ ڈالتے ہوئے آدمی ان کے موجدوں کے بارے میں سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ آخر یہ عالم و فاضل لوگ، جن کی نیک نیتی پر کسی قسم کا شبہ نہیں کیا جا سکتا، اپنی اس سرگرمی کے عملی پہلو کے بارے میں کیا رائے رکھتے تھے۔ براؤزر (browser) کو ’برقی ورقی اطلاعات‘، کاشے (cache)کو ’محفوظ کار‘ اور ڈیٹا بیس (database) کو ’کوائفی اساس‘ کا نام دینا خانہ پری اور تنخواہ کو حلال کرنے کی حد تک تو ٹھیک ہے، لیکن یہ بات فوراً ظاہر ہو جاتی ہے کہ ان دلچسپ اصطلاحوں کو ’جریدہ‘ کے صفحات سے اٹھ کر میدانِ عمل تک جانے کی تکلیف دینا کسی کا مقصود قطعی نہیں۔ مقصود اگر ہے تو صرف یہ کہ انگریزی کا جو لفظ سامنے ہے ، اس کا اردو (بلکہ عربی فارسی) میں جوں توں لفظی ترجمہ کیجیے اور پھر اسے ہمیشہ کے لیے فراموش کر کے اگلے لفظ پر متوجہ ہو جائیے۔ کوئی لفظ اصطلاح کس طرح بنتا ہے، اور پھر ایک دوسرے سے منسلک لفظوں کے گروہ میں اصطلاحی معنی کس طرح روشن ہوتے ہیں، اس پورے عمل سے یکسر بےخبری اور بے نیازی کے عالم میں اسی قسم کی اصطلاح سازی ہو سکتی ہے جیسی اردو زبان میں اسلامی ریاست حیدرآباد کی عثمانیہ یونیورسٹی کے زمانے سے کراچی یونیورسٹی تک ہوتی چلی آ رہی ہے۔ رہا یہ سوال کہ یونیورسٹی کے فیصلہ سازوں نے ہمارے آپ کے ٹیکسوں سے مہیا کردہ وسائل اس بظاہر بے نتیجہ سرگرمی میں کیوں ضائع کیے، اور جووقت اور رقمیں اس پر صرف ہوئیں ان کی تلافی کی کیا صورت ہو سکتی ہے، تو اس سوال کا تعلق اسی جواب دہی سے ہے جس کا کہیں اور وجود نہیں تو بھلا کراچی یونیورسٹی کے شعبۂ تصنیف و تالیف و ترجمہ ہی میں کیوں ہو؟ بشکریہ بی بی سی تمام احباب اور اراکین سے درخواست ہے کہ اپنی اپنی رائے اس اہم موضوع کے بارے میں دیں۔ کیونکہ آج کل وکی پیڈیا پر بھی کچھ ایسا ہی چل رہا ہے۔ اردو کی خدمت کے نام پر اردو کا بیڑا غرق کیا جا رہا ہے۔ والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (24-05-09) |
|
|
#2 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مراسلات: 19
کمائي: 155
شکریہ: 8
9 مراسلہ میں 23 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
زبان کا بدلنا اس کا مقدر ہے۔ آپ اس کو روک نہیں سکتے۔ اصطلاحات وہ وضع کی جائیں جو عام فہم ہوں۔ یا اپنی حریف اصطلاحات سے آسان کہ منہ پر چڑھ جائیں۔ ورنہ مروجہ بیرونی اصطلاحات کو ہی اپنی زبان میں (بمطابق لہجہ اور صوتیات) لے لینا ٹھیک رہتا ہے۔ جیسے فارسی والوں نے کیٹیگری کے ساتھ کیتگری کرکے کیا ہے۔ ہمارے پاس زمرہ لفظ موجود ہے ہم وہ استعمال کرتے ہیں۔
ان اصطلاحات کو استعمال کرنا بھی ایک قدم ہے جس کے بغیر یہ مروّج نہیں ہوسکیں گی۔ وسلام |
|
|
|
| دوست کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (25-05-09) |
![]() |
| Tags |
| database, کمپیوٹر, پاکستان, قدم, لوگ, نظر, معلوم, آج, آدمی, اللہ, انٹرنیٹ, انشا, اردو, اسلامی, تحریر, جواب, جلد, خوش, درخواست, عالم, صفحات, صداقت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|