![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,503
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,766 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اج اکھاں وارث شاہ نوں کیتوں قبراں وچوں بول
تے اج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقہ کھول اج سبھے کیدوبن گئے خسن وعشق دے چور اج کتھوں لیایئے لبھ کے وارث شاہ اک ہور برصغیر پاک و ہند میں بے شمار صوفی شاعر، عالم باعمل، مفتی، مقرر، مصنف و ادیب اور اپنے اپنے زمانے کے جید امام پیدا ہوئے ان میں امام احمد رضا خان بریلوی،حافظ محمد لکھوی، مولانا عبدالمنان، پیر کرم شاہ، پیر طریقت ابو انیس صوفی محمد برکت علی لدھیانوی، صفی الدین مبارک پوری، علامہ وحید الزمان، علامہ احسان الٰہی ظہیر، مولانا حبیب الرحمن، مفتی محمد عنایت اللہ، ابوالفیض محمد عبدالکریم ابدالوی شامل ہیں۔ ایسا ہی ایک نام نیرو تاباں، مہر و درخشاں اور جادہ عشق کے عظیم شہسوار پنجابی زبان کے عظیم صوفی شاعر حضرت پیر سید وارث شاہ کا ہے جنہوں نے اپنے پیغام میں امن و محبت کو فروغ دینے کے علاوہ پتھر دلوں کو اپنی شاعری سے چاشنی بخشی، آپ کی تصنیف ”قصہ ہیر رانجھا“ نے پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اپنی کامیابی کا لوہا منوایا اور عالمی سطح پر آپ لازوال تصانیف کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا اور عالمی سطح پر پنجابی زبان کے شکسپیئر کا لقب پایا۔ پیر سید وارث شاہنے اور بھی تصانیف تحریر کی ہیں جن میں وہڑے تے باراں ماہیے، چوٹیٹری نامہ اور نصیحت نامہ شامل ہیں لیکن آپ کی تصنیف، ہیر وارث شاہ نے بین الاقوامی حاصل کی ہے جس کے اشعار کو جن بھی خیال اور انداز سے پڑھا جائے ہر پڑھنے والا بھر پور انداز میں لطف اندوز ہوتا ہے اگر اپنے اشعار کو تصوف کے انداز میں پڑھا جائے تو پیر سیدوارث شاہ کا ہر شعر اللہ کی یاد اور عشق حقیقی میں ڈوبا ہوا ملے گا۔ آپ نے ”ہیر رانجھا“ لکھ کر دنیا بھر اور آنیوالی نسلوں کیلئے ہر بات کر کے دریا کو کوزے میںبند کر دیا ہے پیر سید وارث شاہ جو پنجاب کے تہذیب و تمدن رہن سہن اور یہاں کے کلچر کے وارث و امین اور محافظ ہیں آپ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے ایک چھوٹے سے قصبہ جنڈیالہ شیر خان میں 1722ءمیں پیدا ہوئے آپ نہ صرف اپنے پیدائشی قصبہ بلکہ دنیا بھر میں جہاں جہاں پر پنجابی سمجھی جاتی ہے وہاں شیخوپورہ کی پہچان ہیں۔ جنڈیالہ شیر خان کی سرزمین شیر شاہ سوری اور مغل شہنشاہوں کے گھوڑوں کے سموں نے آباد کی اس قصبہ کی زمین بھی ملتان شہر کی طرح درویشوں اور اولیاءاللہ کیلئے بہت اہم ہے۔ اس علاقے میں پیر سید وارث شاہ کے علاوہ متعدد بزرگوں کی آخری آرام گاہیں اور ان کے مزارات نے پورے گاﺅں کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ حضرت پیر سید وارث شاہ کا سن ولادت مختلف مصنفین اور محققین نے اپنی کتابوں میں 135 ہجری بمطابق 1726ءتحریر کیا ہے آپ کے والد محترم کا نام سید گل شیر تھا۔ پیر سیدوارث شاہ کے شجر ہ نسب کے مطابق تیسویں پشت میں حضرت امام جعفر صادق کے ساتھ جا ملتا ہے۔ پیر سید وارث شاہ بابا فرید الدین گنج شکرکے روحانی شاگرد اور بابا بلھے شاہ کے ہم عصر تھے ان کی لازوال تصنیف ”ہیر وارث شاہ“ صرف پنجابی زبان میںہی نہیں بلکہ دنیا کے تمام مذاہب کے زبانوں میں اس کے ترجمے شائع ہو چکے ہیں اور عالمی ادب میں بھی بے پناہ اہم مقام رکھتی ہے عشق حقیقی میں ڈوب کر آپنے جو شعر لکھے ہیں وہ موتیوں کی طرح آج بھی چمک رہے ہیں۔ حضرت پیر سید وارث شاہ نے ابتدائی تعلیم جنڈیالہ شیر خان گاﺅں میں ہی حاصلکی آپبچپن ہی سے بڑے ذہین تھے سن بلوغت کو پہنچے تو حصول علم کیلئے قصور چلے گئے یہاں پنجابی کے مشہور شاعر سید بلھے شاہ بھی آپ کے ہم درس تھے. قصور اس وقت علم و ثقافت کا محور مرکز تھا سید وارث شاہ نے مولانا غلام مرتضیٰ قصوری سے فیض حاصل کیا سید وارث شاہ نے بابا بلھے شاہ کے ساتھ حضرت بابا فرید الدین شکر گنج سے بھی درس لیا ان دونوں کے مرشد کامل پیر حافظ محمد عنایت اللہ قادی شطاری جن کا مزار شریف شارع فاطمہ جناح لاہور پر ہے سے فیض حال کرنے کے بعد کسی اور مرشدکامل کی تلاش میں نکلتے ہوئے پاک پتن پہنچے۔ اس وقت دستور تھا کہ دنیاوی علم کے بعد باطنی علم بھی حاصل کرنا پڑتاتھا۔ اس لئے آپ بابا فرید الدین گنج شکرکی درس گاہ پر حاضر ہوئے اور اس وقت کے گدی نشین (مخدوم جہانیاں) کے دست و حق پر بیعت کر لی اور معرفت کا علم حاصل کرتے رہے جب معرفت کی ساری رمزیں سیکھ لیں تو مرشد پاک سے اجازت لے کر واپس چل پڑے ۔ پیر سید وارث شاہ پاکپتن شریف سے چل کر ٹھٹھہ جا پہنچے اور ایک عورت بھاگ بھری کے عشق میں پھنس گئے۔ بقول ڈاکٹر فقیر محمد بھاگ بھری بلوچنی تھی۔ بقول افضل چودھری وہ ایک لوہاری تھی اور بعض دیگر روایتوں کے مطابق وہ جٹی تھی۔ بھاگ بھری وہ لڑکی تھی جس نے وارث شاہ کے دل میں عشق کی شمع کو روشن کیا اور ان سے ”ہیر“ جیسی شہر آفاق چیز لکھوا کر انہیں لافانی بنا دیا آہستہ آہستہ اس بات کا سارے گاﺅں والوں کو پتہ چل گیا تو بھاگ بھری کے رشتہ داروں نے وارث شاہ کو گاﺅں سے نکال دیا تو آپ نے ضلع ساہیوال کے ایک علاقہ ملکہ ہانس کے محلہ مجاہد کی مسجد میں قیام کیا بعدازاں انہوں نے محلہ اجاطبہ کی مسجد میں ڈیرہ ڈالا اور آج یہ مسجد ”مسجد وارث شاہ“ کے نام سے منسوب ہے اسی مسجد میں انہوں نے 1180 ہجری اپنی معروف تصنیف ”ہیر وارث شاہ“ مکمل کی۔ ایک روایت کے مطابق 1171 ہجری میں آپ پاک پتن شریف پہنچے وہاں دو برس تک قیام کیا اور بعدازاں ملکہ ہانس چلے گئے اور کتاب ہیر رانجھا مکمل کرنے تک وہاں پرہی قیام کیا۔ پیر سید وارث شاہ اپنی تصنیف ”ہیر وارث شاہ“ مکمل کرنے کے بعد آپ واپس جنڈیالہ شیر خان کیلئے چل پڑے راستے میں قصور ٹھہر کر اپنے استاد محترم غلام مرتضیٰ قصوری کی خدمت میں سلام پیش کرنے کی غرض سے حاضر ہوئے۔ سلام پیش کرنے کے بعد سید وارث شاہ نے اپنی تصنیف کے شعر سنائے تو ان پر وجد طاری ہو گیا اور آپ کے استاد فرمانے لگے بلھے کو پڑھایا تو اس نے سارنگی پکڑ لی اور تمہیں پڑھایا تو عشق و عاشقی کے قصے لکھنے شروع کر دئیے۔ آپے پیر بنیا آپے ہیر بنیا آپے رانجھے داروپ وٹا بیٹھا کتے بنیا سہتی ،کتے بنیاجوگی،کتے قاضی داروپ وٹابیٹھا ہیر وارث شاہ پڑھکر بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ایک فطری آفاقی اور روحانی شاعر تھے انہوں نے جو کچھ لکھا تصوف میں ڈوب کر لکھا انہیں پنجابی زبان میں وہی مقام حاصل تھا جو فارسی میں مولانا جلال الدین رومی اور انگریزی میں شکسپیئر کو حاصل ہے وارث شاہ نے پنجاب کی تہذیب و ثقافت کو مختلف زاویوں سے بیان کیا ہے۔انہوںنے پنجاب کی دھرتی کے رسم و رواج بودوباش صنعت و حرمت حتیٰ کہ جانوروں تک کا تذکرہ کرکے دریاکو کوزے میں بند کر دیا ہے ہیر وارث شاہ مکمل کرنے کے بعد وہ اپنے آبائی قصبہ جنڈیالہ شیر خان واپس لوٹ آئے اور اپنی باقی زندگی وہی پر گزاری حضرت پیر سید وارث شاہ کی وفات 1790ءمیں جنڈیالہ شیر خان میں ہوئی جہاں ان کا مزار شریف ہے اور ان کا سالانہ عرس ہر سال 8,9,10 ساون کو بڑے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے اور آپ کے عرس کی تقریبات تین روز تک جاری و ساری رہتی ہیں وارث شاہ کا عرس سرکاری طور پر منایا جاتا ہے جس میں متعدد کھیلوں کے مقابلے ہونے کے علاوہ ہیر پڑھنے والوں کے درمیان بھی زبردست مقابلہ ہوتا ہے ۔ آپ کے عرس مبارک میں ملک بھر کے علاوہ بھارت، کینیڈا، برطانیہ، امریکہ اور بنگلہ دیش سے لاکھوں عقیدت مند شرکت کر کے دھوم دھام سے پیر سید وارث شاہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ عرس کے موقعہ پر عقیدت مند آپ کے مزار پر چادریں چڑھانے کے علاوہ لنگر بھی تقسیم کرتے ہیں۔ راث کو مزار پر چراغاں ہونے کے علاوہ زائرین میں دیسی گھی کی خاص علاقائی ڈش ”چور ی“ پیش کی جاتی ہے۔عرس کی تقریبات میں دور دراز سے آئے ہوئے لوگوں کے درمیان ہیر خوانی کے مقابلوں کا انعقاد ہوتا ہے ۔ سیدوارث شاہ نے ”ہیر رانجھا“ کی عشقیہ داستان کو منظوم صورت اس منفرد دلکش انداز میں بیان کیا کہ وہ آج تک پنجابی ادب میں آپ کی پہچان بنی ہوئی ہے اورہیر رانجھے کی بجائے ”ہیر وارث شاہ“ کے طورپر مشہور کیا ہے۔ وارث شاہ عربی و فارسی کے جید عالم اور سیاسی سماجی، معاشرتی اور مذہبی شعور اداراک کے حامل تھے آپ نے ایک عشقیہ داستان میں تاریخی حقائق کو اس طرح سمود دیا ہے کہ اسے اپنے دور کی تاریخ کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ سیدوارث شاہ نے اس دور میں آنکھ کھولی جب انگریز ملازمین ہندو پاک کو سونے کی چڑیا سمجھتے تھے اور اسے اپنے دام قفس میں پھانسنے کی تگ دور میں مصروف تھے اوریہاں کی مغل حکمران انگریزی، چیرہ دستیوں، چالبازیوں، مکاریوں اور عباریوں کے شکار تھے ایک ضعیف، لاغر اور لاچار تہذیب دم توڑ رہی تھی اور جبکہ اس کی کوکھ سے ایک نئی تہذیب جنم لینے والی تھی وارث شاہ بحیثیت ایک باشعور اور حساس انسان ان حالات سے آگاہ و آشنا تھے سو انہوں نے ”ہیر “ میں جگہ جگہ اس پنجاب کی جھک دکھائی ہے جو کہ افراتفری اور انتشار کے دور سے گذر رہا تھا۔ ہیر کے مطالعہ کے دوران ہمیں واقع نگاری کے بڑے واضح اور اعلیٰ نمونے ملتے ہیں یو لگتا ہے کہ وارث شاہ ہمیں کسی ایسی بلند جگہ لیے کھڑے جہاں سے پنجابی کے تمام تر روز مرہ زندگی کی جھلکیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔پیر سید وارث شاہ کو پنجابی زبان کا شکسپیئر بھی کہا جاتا ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ انگریزی شاعری کے طالب علم جب کبھی پنجابی کلام پڑھتے ہیں تو یورپ کے شکسپیئر لارڈ باٹرن اور وارڈز ورتھ جیسے شاعروں سے وارث شاہ کو بڑا شاعر پاتے ہیں۔ وہ وارث شاہ کی ہیر کے سب کچھ ڈھونڈ سکتے ہیں جو انہیں ورڈز ورتھ اور شکسپیئر کی شاعری سے ملتا ہے۔ وارث شاہ او سدا ای جیوندے نیں جنہاں کیتیا ں نیک کمائیاں نیں تحریر : نوشیروان وڑائچ
__________________
![]() اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ تر خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
Last edited by خرم شہزاد خرم; 04-08-09 at 03:37 PM. وجہ: شعر کا رنگ ٹھیک کیاہے نظر نہیںآ رہا تھا |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا |
| کمائي نے رضی کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 04-08-09 | ایس اے نقوی | وارث شاہ او سدا ای جیوندے نیں | 150 |
|
|
#2 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مراسلات: 150
کمائي: 2,737
شکریہ: 83
90 مراسلہ میں 249 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت سنا ہے حضرت وارث شاہ (رح) اور ہیر رانجھا کے بارے میں لیکن کبھی کوئی شعر نہ سن سکئے اج بھی کچھ سنے کو نہ مل سکا ، ،
اگر کچھ ہو تو ضرور تحریر فرماییں ، ، ،
__________________
علی (ع) مولا ۔ ۔(خدا کے چار صحیفوں میں، جسے آخری قرآن) ۔ ۔ |
|
|
|
| علی....Ali کا شکریہ ادا کیا گیا | رضی (04-08-09) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 555
کمائي: 12,037
شکریہ: 8
388 مراسلہ میں 913 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وارث علی شاہ
پنجابی کے ڈرامہ نگار وارث علی شاہ واقعی قابل تعریف ہیں |
|
|
|
|
|
#4 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,264
شکریہ: 24,741
15,345 مراسلہ میں 39,167 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لو جی کر لو گل
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,201
کمائي: 48,866
شکریہ: 4,236
1,721 مراسلہ میں 6,483 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہیر وارث شاہ, ہندو, کتابوں, پہچان, پاک, پاکستان, لڑکی, مکمل, مقابلہ, محبت, مسجد, آج, انسان, امریکہ, استاد, اشعار, اعلیٰ, تلاش, تعلیم, خان, شاعری, عورت, علی, عشق, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 2 (0 members and 2 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| تفسیر ضیاءالقرآن از پیر محمد کرم شاہ الازہری چہارم ،پنجم | گوندل | کتاب گھر | 0 | 19-08-10 06:51 PM |
| سپیدئ اَوراق کرن سیاہ میں چھپائی | بزم خیال | اپکے کالم | 5 | 25-01-10 09:41 AM |
| تفسیرتفسیر احسن البیان پروف ریڈ ورژن اردو ان پیج فارمیٹمیں ! | جان جی | ترجمہ و تفسیر | 10 | 21-04-09 09:30 AM |
| نقشِ پا انکے ہیں جنت کے نشاں (پیر سید علی عباس شاہ ) | Real_Light | تاریخ و عبر | 6 | 12-06-08 09:44 PM |