واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > ادب کی تاریخ




ملا نصیرالدین

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-08-07, 07:30 AM   #1
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 24,802
کمائي: 2,339,073
شکریہ: 17,793
12,252 مراسلہ میں 28,468 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default ملا نصیرالدین

ملا نصیرالدین

مُلا نصیرالدین 1208ء کو ”حورتو“ نامی گاؤں میں پیدا ہوئے جو تُرکی کے صوبہ حشار میں واقع ہے ۔ ان کے والد کا نام آفندی اور والدہ کا نام صدیقہ خانم تھا ۔ والد ایک مسجد کے پیش امام تھے ۔ ملا نصیرالدین بعد میں ”اک شہر“ نامی شہر میں جا کر بس گئے تھے ۔ 1284ء میں اسی شہر میں ان کا انتقال ہوگیا ۔
ان کے مزار کے لیے ایک دروازہ بنایا گیا اور بڑا سا تالا لگا کر اسے مضبوطی سے بند کر دیا گیا ۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ مزار کے چاروں طرف کی دیواریں غائب تھیں ، کیونکہ مُلا نے ایسا ہی چاہا تھا ۔ یہ ان کی زندگی کا آخری مذاق تھا ۔ 1907ء میں اس مزار کو دوبارہ تعمیر کیا گیا جو آج بھی قائم ہے ۔

ملا نصیرالدین اپنی ذات میں لطیفوں ، چٹکلوں اور حاضر جوابیوں کی ایک دنیا آباد کیے ہوئے تھے ۔ ان کی انہی خوبیوں کی وجہ سے ان کی شہرت دنیا ترکی سے نکل کر دنیا کے مختلف ممالک میں پھیل گئی ۔ تُرک انہیں ”حوجا“ یعنی استاد کے نام سے پکارتے ۔ ان سے وابستہ چند دلچسپ واقعات درج ذیل ہیں ۔

* * * * * * *

ایک دن مُلا کو خیال آیا کہ ساری عمر گدھے کی سواری کی ہے کیوں نہ اب گدھے کو فروخت کر کے کوئی اچھی سی گھوڑی خریدی جائے ۔ چنانچہ انہوں نے ایک گھوڑی کے مالک سے رابطہ کیا اور اس کی گھوڑی مول لینے کی بات کی ، گھوڑی کا مالک رضامند ہو گیا ۔ اب ملا نے سوچا کہ کثیر رقم خرچ کرنی ہے کیوں نے پہلے اس پر سواری کر کے تسلی کر لی جائے ۔ یوں وہ گھوڑی پر سوار ہو گئے ۔ اب گھوڑی نے جو برق رفتاری دکھائی تو ملا اسے سنبھال نہ سکے اور زمین پر آرہے ۔ لوگوں نے ملا سے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے آج تک گھوڑی پر سواری نہیں کی ۔ ملا نے جواب دیا ”اس میں میرا کوئی قصور نہیں تھا ۔ میں تو آرام سے بیٹھا تھا ، یکایک کاٹھی سے آگے کھسک گیا ۔ پھر تھوڑی دور جا کر ایک شدید جھٹا لگا تو میں ذرا آگے گردن کے قریب چلا گیا ۔ لگام میرے ہاتھ میں تھی اور میں لمحہ بہ لمحہ آگے سِرکتا چلا جا رہا تھا ۔ رفتہ رفتہ میں گھوڑی کی گردن پر آگیا ۔ ابھی میں اپنے سرکنے کی وجہ پر غور کر رہا تھا کہ اچانک میں نے محسوس کیا کہ گھوڑی کی لگام میرے ہاتھ میں ہے اور میں اس کےسر پر بیٹھا ہوں ۔ “
”اچھا پھر کیا ہوا“ ۔ لوگوں نے سوال کیا ۔
”ہونا کیا تھا ، اتنے میں گھوڑی ختم ہو گئی اور میں زمین پر آرہا“ ۔

* * * * * * *

مُلا نصیرالدین کا گدھا مر چکا تھا اور اس کے بغیر ان کی زندگی بڑی مشکل سے گزر رہی تھی ۔ چنانچہ کئی مہینوں کی محنت و مشقت کے بعد کچھ رقم جمع کی اور ایک نیا گدھا خریدنے کی غرض سے بازار کا رخ کیا ۔ حسبِ منشا گدھا خریدا اور گھر کی راہ اس طرح لی کہ وہ گدھے کی رسی تھامے آگے آگے چل رہے تھے اور گدھا ان کے پیچھے آرہا تھا ۔ راستے میں چند ٹھگ قسم کے لوگوں نے ملا کو گدھا لے جاتے ہوئے دیکھا تو وہ ان کے قریب ہو گئے ۔ ان میں سے ایک آدمی گدھے کے بالکل ساتھ ساتھ چلنے لگا ۔ تھوڑی دیر بعد اس نے آہستہ سے گدھے کی گردن سے رسی نکال کر اپنی گردن میں ڈال دی اور گدھا اپنے ساتھیوں کے حوالے کر دیا ۔ جب ملا اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے اور مڑ کے پیچھے جو دیکھا تو چار ٹانگوں والے گدھے کی بجائے دو ٹانگوں والا گدھا نظر آیا ۔ یہ دیکھ کر ملا سخت حیران ہوئے اور کہنے لگے ”سبحان اللہ! میں نے تو گدھا خریدا تھا یہ انسان کیسے بن گیا؟“ ۔
یہ سن کر وہ ٹھگ بولا
”آقائے من! میں اپنی ماں کا ادب نہیں کرتا تھا اور ہر وقت ان کے درپے آزار رہتا تھا ۔ ایک دن انہوں نے مجھے بددعا دی کہ تو گدھا بن جائے ۔ چنانچہ میں انسان سے گدھا بن گیا تو میری ماں نے مجھے بازار میں لے جا کر فروخت کر دیا ۔ کئی سال سے میں گدھے کی زندگی بسر کر رہا تھا ۔ آج خوش قسمتی سے آپ نے مجھے خرید لیا اور آپ کی روحانیت کی برکت سے میں دوبارہ آدمی بن گیا۔“ یہ کہہ کر اس نے ملا کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور بہت عقیدت کا اظہار کیا ۔
ملا کو یہ بات بہت پسند آئی ۔ وفورِ مسرت میں نصیحت فرماتے ہوئے کہنے لگے ” اچھا اب جاؤ اور اپنی ماں کی خدمت کرو ۔ کبھی اس کے ساتھ گستاخی نہ کرنا “ ۔
ٹھگ ملا کا شکریہ ادا کر کے رخصت ہو گیا ۔ دوسرے دن ملا نے کسی سے کچھ رقم ادھا لی اور پھر گدھا خریدنے بازار میں پہنچ گئے ۔ ان کی حیرانی کی کوئی حد نہ رہی جب انہوں نے دیکھا کہ وہی گدھا ایک جگہ بندھا کھڑا ہے جو انہوں نے کل خریدا تھا ۔ چنانچہ وہ اس گدھے کے قریب گئے اور اس کے کان میں کہنے لگے ” لگتا ہے تم نے میری نصیحت پر عمل نہیں کیا اس لیے پھر گدھے بن گئے ہو “ ۔
__________________
http://voobuzz.com
it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
عبدالقدوس آن لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 16-08-07, 11:08 AM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,172
کمائي: 167,189
شکریہ: 9,675
7,367 مراسلہ میں 22,061 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب ملا دو پیازہ کے لطیفے کافی مشہور ہیں۔ اگر کوئی اور صاحب بھی بتانا چاہیں تو خوب مزا رہے گا۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
فروخت, پسند, واقعات, نظر, ماں, مسجد, معلوم, آج, آدمی, اللہ, انسان, استاد, خوش, زندگی, سال, صوبہ, صدیقہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تمام انسانوں تک نبی ا کا پیغام پہنچایاجائے،پیرنصیر الدین نصیر عبدالقدوس خبریں 1 19-05-11 09:12 AM
اہم تنصیبات اور شخصیات پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے لشکر جھنگوی کے سات دہشت گرد گرفتار جاویداسد خبریں 0 14-10-10 03:08 PM
باپ بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئےکہانصیحت The Great قہقہے ہی قہقے 0 16-09-09 05:07 PM
نصیب اپنا تیرے نصیب سے شیراز احمد شاعری اور مصوری 2 24-07-09 11:01 AM
فرخ نصیر کے انتقال پر ممتاز شخصیات کا اظہار تعزیت عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 02:03 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:58 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger