واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > اسلام اور معاشرہ > اخلاق و آداب



اخلاق و آداب اخلاق و آداب


::::::: عُلماء کی فضیلت اور ادب :::::::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-03-10, 11:45 PM   #1
::::::: عُلماء کی فضیلت اور ادب :::::::
عادل سہیل عادل سہیل آف لائن ہے 20-03-10, 11:45 PM

::::::: عُلماء کی فضیلت ، اور أدب :::::::
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد اللہ وحدہ و الصلاۃ السلام علی مَن لانبی بعدہ و علٰی أصحابہِ و أزواجہِ و ذُریتہِ و مَن تَبعھُم بِاِحسانٍ اَلیٰ یَوم الدِّین ،

اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا ((((( إِنَّمَا يَخشَى اللَّهَ مِن عِبَادِهِ العُلَمَاء إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ ::: بے شک اللہ کے بندوں میں سے اللہ سے (مکمل طور پر ) ڈرنے والے عُلماء ہی ہوتے ہیں ، بے شک اللہ بڑا زبردست اور مغفرت کرنے والا ہے ))))) سُورت فاطر آیت 28،
اور اِرشاد فرمایا ((((( يَرفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُم وَالَّذِينَ أُوتُوا العِلمَ دَرَجَاتٍ وَاللَّهُ بِمَا تَعمَلُونَ خَبِيرٌ ::: تُم لوگوں میں سے جو اِیمان لائے اللہ اُن کے اور (اُن میں سے (خاص طور پر اُن کے ) جنہیں عِلم دیا گیا رُتبے بُلند کرتا ہے اور جو کچھ تُم لوگ کرتے ہو اللہ سب کی خُوب خبر رکھتا ہے ))))) سُورت المجادلة / آیت 11 ،
اور ارشاد فرمایا ((((( شَهِدَ اللّهُ أَنَّهُ لاَ إلَـهَ إِلاَّ هُوَ وَ المَلاَئِكَةُ وَ أ ُولُوا العِلمِ قَآئِمَا ً بِالقِسطِ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ العَزِيزُ الحَكِيمُ ::: اللہ گواہی دیتا ہے کہ اُس کے عِلاوہ کوئی سچا حقیقی معبود نہیں ، اور فرشتے (بھی) اور وہ جنہیں عِلم دیا گیا اور وہ اُس عِلم پر انصاف کے ساتھ قائم ہیں (بھی یہ گواہی دیتے ہیں کہ ) اللہ کے عِلاوہ کوئی سچا حقیقی معبود نہیں اور وہ زبردست ہے اور حِکمت والا ہے ))))) سُورت آل عمران / آیت 18،
ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے """ عُلماء """ یعنی """ عِلم رکھنے والے """ لوگوں کی فضیلت بیان فرمائی ، اور یہ بھی بیان فرمایا کہ اللہ کے ہاں """ عالِم """ اسے کہا گیا ہے جو اللہ کی توحید کا """ عِلم """ رکھتے ہوئے اس پر قولی اور عملی طور پر گواہ ہو ،
دُنیاوی عُلوم میں سے کوئی عِلم رکھنے والا لغوی طور پر تو """ عالِم """ کہلائے گا لیکن اسلامی شرعی طور پر نہیں،
اِن آیا ت مبارکہ میں ہمیں یہ خبر بھی ملتی ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں میں سے کچھ کو اِس بہت ہی خاص فضیلت سے نوازا اور نوازتا ہے ، جِسے """عِلم """ کہا جاتا ، اور اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کو جب یہ فضیلت دیتا ہے تو اس لیے دیتا ہے کہ اُسکے درجات بُلند فرمائے ،
جسے اللہ تعالیٰ """ عِلم """ دیتا ہے اُسے اپنے نبیوں کے وارثوں میں سے بناتا ہے ، جیسا کہ اپنے آخری نبی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زُبان مُبارک سے یہ خوشخبری سنوائی کہ ((((( مَن سَلَكَ طَرِيقًا يَطلُبُ فيه عِلمًا سَلَكَ الله بِهِ طَرِيقًا مِن طُرُقِ الجَنَّةِ ، وَإِنَّ المَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ العِلمِ ، وَإِنَّ العَالِمَ لَيَستَغفِرُ لَهُ مَن في السَّماواتِ وَمَن في الأرض وَالحِيتَانُ في جَوفِ المَاءِ ، وَإِنَّ فَضلَ العَالِمِ على العَابِدِ كَفَضلِ القَمَرِ لَيلَةَ البَدرِ على سَائِرِ الكَوَاكِبِ ، وَ إِنَّ العُلَمَاءَ وَرَثَةُ الأَنبِيَاءِ وَإِنَّ الأَنبِيَاءَ لم يُوَرِّثُوا دِينَارًا ولا دِرهَمًا وَرَّثُوا العِلمَ فَمَن أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ::: جو عِلم حاصل کرنے والے راستے پر چلا اللہ اُسے جنّت کے راستے پر چلا دیتا ہے ، اور بے شک فرشتے طالب عِلم کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں ، اور آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے ، اور (حتیٰ کہ ) پانی کے اندر مچھلیاں بھی عالِم کے لیے بخشش کی دُعا کرتے ہیں ، اور بے شک عالِم کی فضیلت عابِد پر اُسی طرح ہے جِس طرح تمام تر ستاروں پر چاند کی ہے ، اور بے شک """ عُلماء """ نبیوں کے وارث ہیں اور بے شک نبی وراثت میں کوئی دِینار اور درھم نہیں چھوڑتے بلکہ عِلم چھوڑتے ہیں ، لہذا جو کوئی یہ وراثت حاصل کرے تو بہت زیادہ حاصل کرے ))))) صحیح ابن حبان / حدیث 88 /کتاب العِلم / باب 28 ، سنن ابن ماجہ/ حدیث 223 / بَاب فَضلِ العُلَمَاءِ وَالحَثِّ على طَلَبِ العِلمِ ، سنن ابو داؤد /حدیث 3641 /کتاب العلم / باب 1 ، (حدیث صحیح ہے )
::::::: اس حدیث مبارک میں جہاں ہمیں اور بھی بہت سی باتوں کا پتہ چلتا ہے ، وہاں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ وہ دولت ہے جو انبیاء کی وراثت میں سے ملتی ہے اور اس کا وارث بننے کے لیے نسلی حسبی نسبی وارث ہونے کی حاجت نہیں ہوتی ، اس دولت کا وارث بننے کے لیے صرف اِیمان کا حسب نسب ہونا چاہیے اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس دولت کے جتنے بھی وارث ہوں یہ دولت کم نہیں ہوتی ، بلکہ سب کو یہ دولت زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی ترغیب دی ،
اور اس حدیث مبارک میں """ عِلم """ اور """ عالِم """ کی فضیلت کا بھی پتہ چلتا ہے ، اور سب سے اہم وضاحت یہ ملتی ہے کہ یہ فضیلت کسی بھی """ عِلم """ کے """ عالِم """ کی نہیں بلکہ صرف دینی علوم کے """ عُلماء """ کی ہے ، اور یہ پابندی ، یا قید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اِس مذکورہ بالا فرمان مُبارک کے آخری حصے میں ملتی ہے ، کہ ((((( وَ إِنَّ العُلَمَاءَ وَرَثَةُ الأَنبِيَاءِ وَإِنَّ الأَنبِيَاءَ لم يُوَرِّثُوا دِينَارًا ولا دِرهَمًا وَرَّثُوا العِلمَ ::: نبیوں کے وارث ہیں اور بے شک نبی وراثت میں کوئی دِینار اور درھم نہیں چھوڑتے بلکہ عِلم چھوڑتے ہیں ، لہذا جو کوئی یہ وراثت حاصل کرے تو بہت زیادہ حاصل کرے ))))) ،
پس یہ خیال رہے کہ ہم یہاں کسی ایسے کی بات نہیں کر رہے جو صرف لغوی """ اعتبار """ سے """ عالِم """ کہلایا جاتا ہو یا کہلایا جا سکتا ہو ، بلکہ ہم اُن """ عُلماء """ کے بارے میں کر رہے ہیں جنہیں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے یہ مذکورہ بالا فرامین مُبارکہ """ عالِم """ قرار دیتے ہیں ، وہ لوگ جنہیں رب الوحی نے اپنے رسول صلی اللہ علی و علی آلہ وسلم کی ز ُبانء پر اپنی وحی کے ذریعے """ انبیاء کے وارث """ قرار دلویا ہے ،
پس ہم مُسلمانوں پر یہ واجب ہے کہ ہم قران اور صحیح سُنّت کی موافقت کے مطابق اِن عُلماء کی پیروی کریں ،
کسی نے کتنی اچھی بات کہی ہے کہ """ ضَلَت أ ُمةٌ لا تَعرِفُ قَدر عُلمَائِها ::: وہ اُمت گمراہ ہو جاتی ہے جس نے اپنے عُلماء کی قدر نہ جانی """
یہ حال آج ہمیں اپنی اُمت میں نظر آ رہا ہے اور شاید سابقہ اُمتوں سے کہیں زیادہ خرابی کے ساتھ نظر آ رہا ہے کہ آج ہم اپنے عُلماء کی قدر یہ کرتے ہیں کہ """ مولواٹا """ ، """ مُلاں """ ، """ مذہبی جنونی """ ، """ داڑھی میجر """ ، """ دقیانوسی """ ، """ قدامت پسند """ تنگ نظر """ ، """ اورسب سے نیا اور بین الاقوامی لقب """ دھشت گرد """،
اگر یہ القاب غیروں یعنی کافروں کی طرف سے ہوں ، تو ان کا سبب سمجھ میں آتا ہے ، لیکن افسوس کہ یہ سب اپنے ہی مسلمان کہتے اور لکھتے ہیں ، اور اُن میں سے بھی اکثریت ایسوں کی ہے جنہیں معاذ اللہ دِین کے ابتدائی معاملات کی بھی درست خبر نہیں ہوتی ، یا چند بنیادی معلومات کی کچھ سُدھ بُدھ حاصل کر کے دینی معاملات میں حکم لگانے والے ہوتے ہیں ، اور دُنیاوی علوم میں سے کسی کی علم کی کوئی سند حاصل کرنے کی بنا پر دین عُلوم کے عُلماء کو تو کیا أئمہ تک کو """ جاھل """ کہتے ہیں ،
کسی نےعُلماء پر اس بہتان بازی کے بارے میں غیبت کی صفت کے پس منظر میں خوب کہا ہے کہ """ عُلماء "" کا گوشت انتہائی زہریلا ہوتا ہے اور جو عُلماء کی اہانت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کے دِل کو قبولء ہدایت کے معاملے میں مردہ کر دیتا ہے ، یہ ایسی بات ہے جس کے حسی دلائل با کثرت ہمارے ارد گرد موجود ہیں ،
افسوس صد افسوس کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے کلام کے ذریعے اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرمان کے ذریعے اتنے بلند رتبوں والا قرار دے انہیں چند """ پڑھے لکھے """ لیکن درحقیقت """جاھل """ مذاق و طعن و تشنیع کا نشانہ بنائیں ،
جی اس بات سے کوئی انکار نہیں کہ دینی علوم کے حامل لوگوں میں ایسے لوگ ہوتے ہی ہیں جو خود ان علوم کا تقاضا پورا نہیں کرتے ، اُن کے کردار میں دینی لحاظ سے ، معاشرتی لحاظ سے ، اخلاقی لحاظ سے ، معاشی لحاظ سے کئی خامیاں اور برائیاں ہوتی ہیں ، سوائے ظاہری حلیے کے شاذ و نادر ہی اُن میں اچھے دین دار مسلمان کے کردار کی کوئی جھلک دکھائی دیتی ہے ،
اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کے اقوال و افعال ہوتے تو دینی لباس میں ہیں لیکن حقیقتا اُن کی دَین میں‌کوٕئی صحیح دلیل نہیں ہوتی ، ایسے عُلماء کو """ عُلماء سوء """ کہا جاتا ہے ،
لیکن ، ان سب کمزوریوں اور غلطیوں کی موجودگی کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ایسے چند لوگوں کی وجہ سے بلا لحاظ اور بلا تمیز تمام """ عُلماء """ اور اچھے دین دار مسلمانوں کو طنز و مذاق کا نشانہ بنا کر ، اپنے ہی دِین جس کے علاوہ کوئی اور دِینء حق نہیں ، کو خود ہی رسوا کیا جائے ،

آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ایک دو فرامین مبارکہ سنا کر بات ختم کرتا ہوں ،
ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کردہ ایک حدیث میں سے رسول اللہ صلی اللَّہ علیہ و علی آلہ وسلم کا یہ فرمان ہے ((((( وَ مَن بَھَتَ مؤمناً أو مؤمنۃً حَبَسَہُ اللَّہ ُ فی ردغَۃ الخَبَالِ یوم القیامۃ حتیٰ یَخرُج مما قالَ و لیس بِخارجٍ ::: جِس نے کِسی اِیمان والے مرد یا عورت پر کوئی الزام لگایا ، تو اللہ تعالیٰ اُس الزام لگانے والے کو اہل جہنم کو پیسنے والی جگہ میں قید کر دے گا اور وہ شخص وہاں سے اُس وقت تک نہیں نکلنے پائے گا جب تک کہ وہ اپنے لگائے ہوئے الزام سے نہیں نکل پاتا ، اور ایسا کبھی نہیں ہوگا ))))) معجم الکبیر ، حدیث صحیح ہے ، مسند أحمد /حدیث ٥٥٤٤ ، ٥٥٥٢
عُبادہ ابن صامت رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ((((( [ لَیسَ مِنّا] لَيس مِن أمتي مَن لَم يُجِلَّ كَبِيرَنَاوَيَرحَم صَغِيرَنَا وَيَعرف لِعَالِمِنَا [حقہُ ]::: وہ [ ہم میں سے نہیں ] میری اُمت میں سے نہیں جِس نے ہمارے بوڑھوں کی عِزت نہ کی اور ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کیا اور ہمارے عُلماء[کے حق] کو نہ جانا ))))) المستدرک الحاکم /حدیث 421 /کتاب العلم / فصل فی توقیر العالم ، مسند أحمد /حدیث 22807 ، 22906، المعجم الکبیر للامام الطبرانی ، بحوالہ مجمع الزوائد للامام الہیثمی /کتاب العِلم ، باب 9،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اور ہمارے تمام مُسلمان بھائیوں بہنوں کو کسی کی بھی غیبت اور کسی پر بہتان بازی سے بچنے کی ہمت دے اور خاص طور پر اُس کے دِینء حق کے عُلماء حق کے بارے میں ان کبیرہ گناہوں میں ملوث ہونے سے بچائے ۔
و السلام علیکم۔
__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 561
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (22-03-10), فیصل ناصر (21-03-10), کنعان (21-03-10), ھارون اعظم (21-03-10), ضِرار Derar (02-05-10), عبداللہ آدم (26-03-10), عبداللہ حیدر (21-03-10)
پرانا 21-03-10, 12:15 AM   #2
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,642
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,939 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللٰہ خیراً۔ واقعی اچھی تحریر ہے۔ البتہ میرے ذہن میں ایک سوال ہے کہ آج کل جس طرح ہمارے کچھ علماء کرام آپس کی فروعی اختلافات کی بنیاد پر دشمنیاں پال رہے ہیں، کیا اس سے ان کی نیک نامی پر اثر نہیں پڑے گا؟ اور اس صورت میں عوام، جن کو زیادہ علم نہیں ہوتا، ان کو اس طرح کی لڑائیوں میں استعمال کرنا جائز ہے کیا؟

میں علماء کا نہایت قدردان ہوں۔ صرف اپنے علم میں اضافے کے لئے پوچھ رہا ہوں۔ شکریہ
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
sahj (22-03-10), فیصل ناصر (21-03-10), ضِرار Derar (02-05-10)
پرانا 21-03-10, 09:25 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,864
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ھارون اعظم مراسلہ دیکھیں
جزاک اللٰہ خیراً۔ واقعی اچھی تحریر ہے۔ البتہ میرے ذہن میں ایک سوال ہے کہ آج کل جس طرح ہمارے کچھ علماء کرام آپس کی فروعی اختلافات کی بنیاد پر دشمنیاں پال رہے ہیں، کیا اس سے ان کی نیک نامی پر اثر نہیں پڑے گا؟ اور اس صورت میں عوام، جن کو زیادہ علم نہیں ہوتا، ان کو اس طرح کی لڑائیوں میں استعمال کرنا جائز ہے کیا؟

میں علماء کا نہایت قدردان ہوں۔ صرف اپنے علم میں اضافے کے لئے پوچھ رہا ہوں۔ شکریہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا بھائی ھارون اعظم ،
کسی بھی دو مسلمانوں کو آپس میں کسی سبب سے دشمنی نہیں‌پالنی چاہیے ، ہر مشکل کا علاج ہماری شریعت میں موجود ہے ،
عُلماء کرام کے اختلافات بالخصوص فروعی مسائل میں اختلافات قطعا ایسا سبب نہیں‌ ہیں‌ جس کی بنا پر مسلمانوں میں دشمنی ہو جائے ،
جو عُلماء مسلمانوں کو ایسے مسائل کی بنا اس طرح ایک دوسرے سے الجھا دیتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں میں تو ایسے عُلماء کو عُلماء سوء میں‌ سے سمجھتا ہوں ،
کوئی عالمء حق دوسروں سے اپنے اختلافات کے سبب کہیں دو مسلمانوں کے درمیان دشمنی پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتا ، بلکہ اختلافات کو دلائل کی روشنی میں‌ واضح کرنے کی کوشش کرتا ہے ،
ہم جیسے عام لوگوں کو بھی چاہیے کہ ہم سچی لگن کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے حق کے حصول کی دعا کرتے ہوئے عُلماء کے اختلافات کو مقبول شرعی دلائل کی روشنی میں‌ سجھنے کی کوشش کریں اور کسی دوسرے کلمہ گو کے لیے اپنے دل میں‌کوئی بغض‌ نہ رکھیں ، جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ وہ غلطی کو غلطی سمجھ چکنے کے بعد بھی کسی تعصب کی بنا پر اس پر قائم ہے،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایک دوسرے کے حقوق کی پہچان اور احترام اور ادائیگی کی ہمت دے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (22-03-10), فیصل ناصر (22-03-10), کنعان (21-03-10), ھارون اعظم (21-03-10), ضِرار Derar (02-05-10), عبداللہ حیدر (21-03-10)
پرانا 21-03-10, 10:02 PM   #4
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,514
کمائي: 118,821
شکریہ: 13,538
4,915 مراسلہ میں 16,726 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

جزاک اللہ خیر عادل بھائی

میں ایسے ہی موضوع اور مضمون کی تلاش میں تھا بہت عرصہ سے بہت اچھی طرح آپ نے سب پہلو آسانی سے سمجھائے ہیں۔ جزاک اللہ

بہت سے لوگ جو دینی مدرسہ تو دور کی بات ھے طالب علم بھی نہیں ہوتے، جو اپنے آئیڈیل علامہ کو ہی افضل جانتے ہیں اور اپنی کم عقلی سے دوسرے علماء کرام کا احترام نہیں کرتے اور ان پر بہتان لگا دیتے ہیں یہ بات کچھ اچھی نہیں لگتی، ہونا یہ چاہئے کہ دونوں کی بات کو سنا جائے اور جس کی بات آپ کے ذہن میں آتی ھے اسے قبول کریں اور جس کی بات آپ کے ذہن میں نہیں آتی تو اس کو برا بھلا یا بہتان نہ لگایا جائے۔

مجھے آپ کی طرف سے لکھی ہوئی تحریر بہت اچھی لگی جزاک اللہ۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
sahj (22-03-10), فیصل ناصر (22-03-10), عادل سہیل (21-03-10), عبداللہ آدم (26-03-10), عبداللہ حیدر (21-03-10)
پرانا 21-03-10, 10:17 PM   #5
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,642
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,939 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جزاک اللٰہ عادل صاحب۔ میں نے اپنے مشاہدات کی بناء پر یہ سوال کیا تھا۔ ایسی صورتحال دیکھ کر عام آدمی تو بہت مایوس ہوجاتا ہے۔ آپ نے صحیح رہنمائی کی۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
sahj (22-03-10), عادل سہیل (21-03-10), عبداللہ حیدر (21-03-10)
پرانا 22-03-10, 12:45 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,864
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

جزاک اللہ خیر عادل بھائی

میں ایسے ہی موضوع اور مضمون کی تلاش میں تھا بہت عرصہ سے بہت اچھی طرح آپ نے سب پہلو آسانی سے سمجھائے ہیں۔ جزاک اللہ

بہت سے لوگ جو دینی مدرسہ تو دور کی بات ھے طالب علم بھی نہیں ہوتے، جو اپنے آئیڈیل علامہ کو ہی افضل جانتے ہیں اور اپنی کم عقلی سے دوسرے علماء کرام کا احترام نہیں کرتے اور ان پر بہتان لگا دیتے ہیں یہ بات کچھ اچھی نہیں لگتی، ہونا یہ چاہئے کہ دونوں کی بات کو سنا جائے اور جس کی بات آپ کے ذہن میں آتی ھے اسے قبول کریں اور جس کی بات آپ کے ذہن میں نہیں آتی تو اس کو برا بھلا یا بہتان نہ لگایا جائے۔

مجھے آپ کی طرف سے لکھی ہوئی تحریر بہت اچھی لگی جزاک اللہ۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
اللہ تعالیٰ آپ کو بھی بہترین اجر سے مالا مال فرمائے ، کنعان بھائی کافی عرصے بعد آپ کو اپنے پاس دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے ، اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی حفاظت میں رکھے ،
کنعان بھائی اللہ تعالیٰ اگر مجھے کسی خیر کی توفیق دیتا ہے تو یہ سب اور صرف اسی کی مہربانی اور اسی کا کرم ہے ، اور شاید اس کے اسباب میں آپ جیسے بھائیوں کی دعائیں بھی ہوں ،
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ہر مسلمان بھائی اور بہن کی عزت کا احترام کرنے اور اس کے حقوق ادا کرنے کی توفیق دے ،
اپنی دعاوں میں یاد رکھیےگا کنعان بھائی ، و السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (22-03-10), فیصل ناصر (22-03-10), کنعان (22-03-10), ضِرار Derar (02-05-10), عبداللہ آدم (26-03-10)
پرانا 22-03-10, 12:48 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,864
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ھارون اعظم مراسلہ دیکھیں
جزاک اللٰہ عادل صاحب۔ میں نے اپنے مشاہدات کی بناء پر یہ سوال کیا تھا۔ ایسی صورتحال دیکھ کر عام آدمی تو بہت مایوس ہوجاتا ہے۔ آپ نے صحیح رہنمائی کی۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
اللہ تعالیٰ آپ کو بھی بہترین اجر سے نوازے ، بھائی ہارون اعظم ،
اگر اللہ تعالیٰ نے مجھ سے آپ کے لیے کسی راہنمائی کا کام لیا ہے تو یہ محض ہم دونوں پر اس کا کرم ہے کہ اُس نے آپ کو سوال کی توفیق دی اور مجھے ایسے جواب کی جو ان شاء اللہ درست بھی ہے ، اور آپ کی تشفی کا سبب بھی، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
sahj (22-03-10), فیصل ناصر (22-03-10), کنعان (22-03-10), ھارون اعظم (22-03-10), ضِرار Derar (02-05-10)
پرانا 22-03-10, 10:35 PM   #8
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,042
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام و علیکم دوستو
عادل سہیل بھائی کے حکم کے مطابق
فلموں کی حرمت نامی تھریڈ میں اپنی جانب سے پوسٹ کیا گیا ایک مراسلہ یہاں پوسٹ کر رہا ہوں
میں نے اسلام پر اسپیشلائزیشن تو نہیں کی ہوئی
اور نہ ہی میرا علم ایک عالم کے برابر ہے
لیکن پاکستان کی ایک مانی ہوئی یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری لے رکھی ہے اور حالات نے اجازت دی تو طلب علم کی تسکین کے لیئے مزید پڑھنے کا ارادہ بھی ہے ۔
سوال پہلا تو یہ ہے کہ عالم کون ہوتا ہے ، کیا ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے لے کر پروفیسر ڈاکٹر محمود اعوان تک اور ڈاکٹر اسرار سے لے کر ڈاکٹر شاہد مسعود تک یہ تمام کے تمام اپنے شعبہ ہائے کے نابغے ہیں کیا یہ عالم نہیں کہلائیں گے ، اور ان کا علم علم نہیں ہے ، عالم علم رکھنے والے ہی کو کہتے ہیں نا
تو ایک بات صاف کر لیں کہ اگر عالم صرف مذہبی علم رکھنے والا کہلاتا ہے تو دیگر تمام علوم کی نفی تو یہیں سے ہو گئی ، اور یہی وہ سازش ہے جو کہ ہمیں گھیرے ہوے ہے اور آج تک ہم اس چکر سے باہر نہیں آ سک رہے ۔
علما کتنی معتبر ہستیاں ہیں کہ ان پر اعتراض نہیں ہو سکتا ، جبکہ ایک بدو خلیفہ وقت جن کے عالم ہونے میں کوئی شبہ نہیں بلکہ ایک عالم سے کہیں زیادہ ان کا رتبہ ہے سے جواب طلب کرتا ہے اور وہ بھی ایسے توہین آمیز انداز میں کہ اگر کوئی ظالم حکمران ہوتا تو وہیں اس بدو کی گردن زنی کا حکم دے دیتا ۔
اب ایک جھلک ان علما کی بھی دیکھہ لیں ، جن کی اس قدر عزت ہے کہ ان کے خلاف زرا سی بات بھی برداشت نہیں کی جا سکتی ۔
مولانا طوفانی ایک بار ایک جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے ، انہوں نے آدھے گھنٹے میں اپنی طرف سے یہ ثابت کر دیا کہ حضور پاک ہماری بات نہیں سن سکتے اور اسلام میں ہم انہیں زیادہ سے زیادہ احترام اگر دے سکتے ہیں تو ۔ ۔ ۔ ۔
نقل کفر کفر نہ باشد کے تحت ان کا قول یہاں نقل کر رہا ہوں کہ
جیسے ہم اپنے بڑے بھائی کا احترام کرتے ہیں ۔
خاص طور پر انہوں نے یہ نقطہ اٹھایا تھا کہ یا رسول اللہ کہنا اور نعتوں کی محفل سجانا ناجائز ہے کیوں کہ حضور پاک اسے نہیں سن سکتے ، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ بے شک آپ روزہ رسول پر جا کر سلام بھیجو وہ نہیں سن سکتے ، یہ تقریر کرتے ہوے وہ جوش میں آ گئے اور حاضرین کو ڈانٹتے ہوے کہا کہ ان میں وہ جوش و خروش نظر نہیں آ رہا جو اس قدر پیاری تقریر پر نظر آنا چاہئیے تھا ، ساتھ ہی دونوں ہاتھ فضا میں بلند کئیے اور کہا تھوڑا سا جلال یا شیخ القرآن تھوڑا سا جلال ، اب یہ بھی جان لیں کہ وہ یہ تھوڑا سا جلال کس سے مانگ رہے تھے ، شیخ القرآن سے مراد مولانا غلام اللہ تھے جن کے جلال اور مقررانہ صلاحیتوں کے قصیدے وہ پڑھ چکے تھے اور جن کو فوت ہوے زمانہ گزر چکا تھا ،
ان کی اس بات پر بہت سے لوگ میدان سے اٹھ کر چلے گئے اور دوسرے دن ان کے مسلک کے لوگوں کی زبان پر یہ سوال تھا کہ حضور پاک کو تو یا کہنا درست نہیں کیوں کہ وہ نہ تو اس کو سنتے ہیں اور نہ ہی مدد کے لیئے تشریف لاتے ہیں تو یہ شیخ القرآن کیا قبر سے اٹھ کر ان کی مدد کے لیئے آئیں گے
یاد رہے کہ ہم نے واقعہ کے شاہد ہونے کی حیثیت سے جو کچھ سنا اور دیکھا وہ بغیر کسی فرق کے یہاں لکھ دیا ۔
ویسے بھی ہمارے ایک مولوی دوست جو کہ علم حدیث کی طلب میں شہر شہر مارے مارے پھرتے ہیں ، ان کی سنائی ہوئی ایک حدیث ہمیں یاد آ رہی ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب علما جہنم کے دروازوں میں کھڑے ہو کر لوگوں کو کھینچ کھینچ کر جہنم میں پھینکیں گے ۔
آپ کی مدلل رائے کا انتظار رہے گا
اگر کوئی بات بری لگے تو پیشگی معزرت خواہ ہوں
شاہ جی 90 آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
sahj (22-03-10), فیصل ناصر (23-03-10), کنعان (22-03-10), رضی (22-03-10), عادل سہیل (22-03-10), عبداللہ آدم (26-03-10)
پرانا 23-03-10, 12:11 AM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,864
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہ جی 90 مراسلہ دیکھیں
اسلام و علیکم دوستو
عادل سہیل بھائی کے حکم کے مطابق
فلموں کی حرمت نامی تھریڈ میں اپنی جانب سے پوسٹ کیا گیا ایک مراسلہ یہاں پوسٹ کر رہا ہوں
و علیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا ، بھائی شاہ جی ، آپ نے میری درخواست قبول فرمائی اور اللہ آپ پر راضی ہو اور آپ کو بہترین اجر عطا فرمائے ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہ جی 90 مراسلہ دیکھیں
میں نے اسلام پر اسپیشلائزیشن تو نہیں کی ہوئی
اور نہ ہی میرا علم ایک عالم کے برابر ہے
لیکن پاکستان کی ایک مانی ہوئی یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری لے رکھی ہے اور حالات نے اجازت دی تو طلب علم کی تسکین کے لیئے مزید پڑھنے کا ارادہ بھی ہے ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کو زیادہ سے زیادہ علمء نافع عطاء فرمائے ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہ جی 90 مراسلہ دیکھیں
سوال پہلا تو یہ ہے کہ عالم کون ہوتا ہے ، کیا ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے لے کر پروفیسر ڈاکٹر محمود اعوان تک اور ڈاکٹر اسرار سے لے کر ڈاکٹر شاہد مسعود تک یہ تمام کے تمام اپنے شعبہ ہائے کے نابغے ہیں کیا یہ عالم نہیں کہلائیں گے ، اور ان کا علم علم نہیں ہے ، عالم علم رکھنے والے ہی کو کہتے ہیں نا
تو ایک بات صاف کر لیں کہ اگر عالم صرف مذہبی علم رکھنے والا کہلاتا ہے تو دیگر تمام علوم کی نفی تو یہیں سے ہو گئی ، اور یہی وہ سازش ہے جو کہ ہمیں گھیرے ہوے ہے اور آج تک ہم اس چکر سے باہر نہیں آ سک رہے ۔
بھائی شاہ جی آپ کے اس سوال کا جواب اس دھاگے کے بنیادی مضمون میں موجود ہے :::
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
ن آیات مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے """ عُلماء """ یعنی """ عِلم رکھنے والے """ لوگوں کی فضیلت بیان فرمائی ، اور یہ بھی بیان فرمایا کہ اللہ کے ہاں """ عالِم """ اسے کہا گیا ہے جو اللہ کی توحید کا """ عِلم """ رکھتے ہوئے اس پر قولی اور عملی طور پر گواہ ہو ،
دُنیاوی عُلوم میں سے کوئی عِلم رکھنے والا لغوی طور پر تو """ عالِم """ کہلائے گا لیکن اسلامی شرعی طور پر نہیں،
شاہ جی ، آپ نے جن صاحبان کے نام ذکر کیے ہیں صرف وہی کیا ہر وہ شخص جو کسی بھی علم کا حامل ہو لغوی طور پر عالم کہلائے گا ، یہاں اور فلموں والے دھاگے میں‌بھی ہماری گفتگو لغوی طور پر عالِم کہلائے جا سکنے والے لوگوں کے بارے میں نہیں ، بلکہ اُن لوگوں کے بارے میں ہے جو اسلامی طور پر عالِم کہلا سکتے ہوں ، اور کہلاتے ہوں ،
یوں بھی سارے ہی مسلم معاشروں میں آج تک لفظ """ عالِم """ کا عام اور پہلا مفہوم """ اسلامی علوم کا حامل """ جانا جاتا ہے ، اس لیے جب کوئی بھی مسلمان """ عالِم """ کہتا یا لکھتا ہے تو ہر سامع اور قاری کے ذہن میں یہی مفہوم آتا ہے ،
پس اس عام مفہوم کا وجود دُنیاوی علوم کے عالِموں کے عالِم ہونے کا انکار نہیں ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہ جی 90 مراسلہ دیکھیں
علما کتنی معتبر ہستیاں ہیں کہ ان پر اعتراض نہیں ہو سکتا ، جبکہ ایک بدو خلیفہ وقت جن کے عالم ہونے میں کوئی شبہ نہیں بلکہ ایک عالم سے کہیں زیادہ ان کا رتبہ ہے سے جواب طلب کرتا ہے اور وہ بھی ایسے توہین آمیز انداز میں کہ اگر کوئی ظالم حکمران ہوتا تو وہیں اس بدو کی گردن زنی کا حکم دے دیتا ۔
بھائی شاہ جی ، """ علما کتنی معتبر ہستیاں ہیں کہ ان پر اعتراض نہیں ہو سکتا """ یہ ایک بے دلیل بات ہے ، میں آپ کا ہمنوا ہوں کہ یہ سوچ بالکل درست نہیں ،
بس فرق اتنا ہے کہ دین کے علوم کے حامل شخصیات کے ساتھ ، یا ان کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہر مسلمان کو اور خاص طور پر ہم جیسے عامی کو اُس عالِم کی وہ عزت بجا لانی چاہیے جس کا وہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین کی روشنی میں حق دار ہے ،
اور صرف عالِم ہی کیا کسی بھی مسلمان اور کسی بھی انسان سے بات کرتے ہوئے ، حتیٰ کہ اس پر اعتراض کرتے ہوئے ہمیں تو اپنی مسلمانی میں کمی نہیں کرنی چاہیے ، یعنی اسلامی اخلاق اور اسلامی احکام کی حدود سے خارج نہیں ہونا چاہیے ،
رہا معاملہ اعتراضات کا تو ظاہر ہے ہے کہ ہر شخص کو کسی بھی عالم کی بات پر کوئی اعتراض کرنے سے پہلے اتنا ضرور سیکھ لینا چاہیے کہ وہ کس دلیل کی بنا پر اعتراض کر رہا ہے ،
اگر اعتراض محض اس کی اپنی رائے سوچ و سمجھ اور چند نا مکمل یا غیر مصدقہ معلومات و اطلاعات کی بنا پر ہے تو اسے ایک اچھے مسلمان کی طرح اس وقت تک خاموش رہنا چاہیے جب تک کہ وہ اعتراض کرنے کے لیے علم حاصل نہ کرلے ،
اور اگر وہ اس کی صلاحیت یا استظاعت نہیں رکھتا اور اعتراض کرنے سے صبر بھی نہیں کر سکتا تو اسے چاہیے کہ وہ اپنا مشاھدہ کسی صاحب علم کے پاس لے جائے اور اس سے مدد طلب کرے،
بھائی شاہ جی اس کے بعد اتنی تفصیلات بیان ہو سکتی ہیں جن کے لیے میرے پاس فی الحال وقت نہیں‌، تین چار دن میں مجھے بھائی عابد عنایت صاحب کے لیے کچھ جوابات لکھنے ہیں اور اس کے بعد اگلے دس دن اپنے ماہانہ پراجیکٹ کی تکمیل میں لگ جإیں گے اس لیے معذرت خواہ ہوں اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ اتنے ہی الفاظ کو آپ کے لیے آپ کے سوال کا شافی جواب بنا دے ،
اور اللہ نہ کرے کہ اگر ایسا نہ ہو ، تو بھی میرے بھائی بلا تکلف اپنے سوال اور اشکال سامنے لایے گا ، ان شاء اللہ جواب ملے گا ، میں نہ دے سکا تو ان شاء اللہ کوئی نہ کوئی بھائی یا بہن دے دے گا ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہ جی 90 مراسلہ دیکھیں
اب ایک جھلک ان علما کی بھی دیکھہ لیں ، جن کی اس قدر عزت ہے کہ ان کے خلاف زرا سی بات بھی برداشت نہیں کی جا سکتی ۔
مولانا طوفانی ایک بار ایک جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے ،،،،،،،،،،،،،
بھائی شاہ جی آپ کے بیان کردہ اس واقعہ کے بعد یہ کہنا ہی چاہیے کہ """ اِنا للہ و اِنا الیہ راجعون """
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
جی اس بات سے کوئی انکار نہیں کہ دینی علوم کے حامل لوگوں میں ایسے لوگ ہوتے ہی ہیں جو خود ان علوم کا تقاضا پورا نہیں کرتے ، اُن کے کردار میں دینی لحاظ سے ، معاشرتی لحاظ سے ، اخلاقی لحاظ سے ، معاشی لحاظ سے کئی خامیاں اور برائیاں ہوتی ہیں ، سوائے ظاہری حلیے کے شاذ و نادر ہی اُن میں اچھے دین دار مسلمان کے کردار کی کوئی جھلک دکھائی دیتی ہے ،
اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جن کے اقوال و افعال ہوتے تو دینی لباس میں ہیں لیکن حقیقتا اُن کی دین میں‌کوٕئی صحیح دلیل نہیں ہوتی ، ایسے عُلماء کو """ عُلماء سوء """ کہا جاتا ہے ،
لیکن ، ان سب کمزوریوں اور غلطیوں کی موجودگی کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ایسے چند لوگوں کی وجہ سے بلا لحاظ اور بلا تمیز تمام """ عُلماء """ اور اچھے دین دار مسلمانوں کو طنز و مذاق کا نشانہ بنا کر ، اپنے ہی دِین جس کے علاوہ کوئی اور دِینء حق نہیں ، کو خود ہی رسوا کیا جائے ،
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شاہ جی 90 مراسلہ دیکھیں
ویسے بھی ہمارے ایک مولوی دوست جو کہ علم حدیث کی طلب میں شہر شہر مارے مارے پھرتے ہیں ، ان کی سنائی ہوئی ایک حدیث ہمیں یاد آ رہی ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب علما جہنم کے دروازوں میں کھڑے ہو کر لوگوں کو کھینچ کھینچ کر جہنم میں پھینکیں گے ۔
آپ کی مدلل رائے کا انتظار رہے گا
اگر کوئی بات بری لگے تو پیشگی معزرت خواہ ہوں
بھائی شاہ جی ، آپ نے اپنے دوست کی سنائی ہوئی جس حدیث کا ذکر کیا ہے غالبا اس میں کہیں سننے سنانے میں‌کچھ اونچ نیچ ہو گئی ہے ، یہ حذیفہ ابن الیمان رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث ہے جس میں ایسے لوگوں کا ذکر ہے جو جہنم کے دروازوں پر گھڑے ہوں گے اور جو ان کی بات مانے گا اسے جہنم میں دھکیل دیں گے ،
یہ حدیث مکمل طور پر میری زیر تیاری کتاب """ مثالی شخصیات """ میں حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہما کے ذکر میں موجود ہے ،
وہاں سے یہاں نقل کیے دیتا ہوں :::
""""""" آیے یہاں ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ ُ کی بیان فرمائی ہوئی ایک حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے اپنی اُمت کے لیے ایک بہترین سبق ہے اور اسلام کے نام پر گمراہی پھیلانے والوں کی ، اور مسلمانوں میں جماعت سازی کی حقیقت بیان کرنے والی ہے :::
((((( كان الناس يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللَّہُ علیہ وعلی آلہ وسلم عن الْخَيْرِ وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عن الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي ::: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے خیر کے بارے میں سوال کیا کرتے تھے اور میں اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے شر کے بارے میں پوچھا کرتا تھا اس خوف سے کہ کہیں شر مجھے قابو نہ کر لے ( اور میں اسے جانتا نہ ہوں ) ،
فقلت يا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كنا في جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ فَجَاءَنَا الله بهذا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هذا الْخَيْرِ مِن شَرٍّ ؟::: پس میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ہم جہالت اور شر کی حالت میں تھے تو اللہ ہمارے پاس یہ خیر ( یعنی اسلام) لے کر آیا تو کیا اس خیر کے بعد شر میں سے کچھ ہے ؟
قال ((((( نعم ))))) اِرشاد فرمایا ((((( جی ہاں )))))
قلت وَهَلْ بَعْدَ ذلك الشَّرِّ من خَيْرٍ ؟ ::: میں نے عرض کی اور کیا اس شر کے بعد خیر میں کچھ ہے ؟
قال ((((( نعم وَفِيهِ دَخَنٌ ))))) اِرشاد فرمایا ((((( جی ہاں اور اس میں دُھندلاہٹ ہے )))))
قلت وما دَخَنُهُ ؟ ::: میں نے عرض کی اور اُس شر کی دُھندلاہٹ کیا ہے ؟
قال ((((( قَوْمٌ يَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ منهم وَتُنْكِرُ ))))) اِرشاد فرمایا ((((([اس کی دُھندلاہٹ ] ایسی قوم ہو گی جو میری دی ہوئی ہدایت کے عِلاوہ ہدایت اختیار کرے گی تُم انہیں پہچانو گے بھی اور ان پر انکار بھی کرو گے )))))
قلت فَهَلْ بَعْدَ ذلك الْخَيْرِ من شَرٍّ ؟ ::: میں نے عرض کی، تو کیا اُس خیر کے بعد شر میں سے کچھ (اوربھی ) ہو گا ؟ ،
قال ((((( نعم دُعَاةٌ على أَبْوَابِ جَهَنَّمَ من أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فيها ))))) اِرشاد فرمایا ((((( جی ہاں ، [ اسکے بعد یہ شر ہو گا کہ ] ایسے لوگ ہوں گے جو جہنم کے دروازوں پر سے کھڑے ہو کر (بظاہر اسلام کی ) دعوت دیں گے جو کوئی ان کی بات قبول کرے گا اسے وہ جہنم میں گاڑ دیں گے )))))
قلت يا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لنا ::: میں نے عرض کی، اے اللہ کے رسول ہمیں ان کی نشانی بتایے ،
قال ((((( هُمْ من جِلْدَتِنَا وَيَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا ))))) اِرشاد فرمایا ((((( وہ ہماری ہی جِلد (یعنی اسلام کے لبادے میں ) ہوں گے اور ہماری ہی زُبانوں میں بات کریں گے )))))
قلت فما تَأْمُرُنِي إن أَدْرَكَنِي ذلك؟ ::: میں نے عرض کی، اگر میں ایسی حالت پاؤں تو آپ مجھے اس کے بارے میں کیا حُکم فرماتے ہیں ؟ ،
قال ((((( تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ ))))) اِرشاد فرمایا ((((( مسلمانوں کی جماعت اور ان کے اِمام کے ساتھ مضبوطی سے لگے رہو )))))
قلت فان لم يَكُنْ لهم جَمَاعَةٌ ولا إِمَامٌ؟ ::: میں نے عرض کی، اگر (اُس وقت) مسلمانوں کی کوئی جماعت نہ ہو اور نہ ہی کوئی اِمام (تو میں کیا کروں)،
قال ((((( فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حتى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ على ذلک ))))) اِرشاد فرمایا ((((( اُن تمام فرقوں سے بالکل الگ رہنا خواہ تُمہیں(تنہا زندہ رہنے کے لیے) درخت کی جڑ چوسنا پڑے(اسی طرح اپنا وقت گذارنا) یہاں تک موت تم آن لے اور تُم اسی حال میں ہو ))))) مُتفقٌ علیہ ، صحیح البُخاری /حدیث6673 /کتاب الفِتن /باب 11 ، صحیح مُسلم /حدیث1847/کتاب الأمارۃ /باب13،
اس حدیث پاک میں حذیفہ رضی اللہ عنہ ُ کے شر سے بچے رہنے کے لالچ کے سبب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زُبان مبارک سے ہمیں نہ صِرف ایک بہت بڑے شر کی خبر دے دی بلکہ اُس کی پہچان بھی بتا دی اور قیامت تک کے لیے اُس سے بچنے کا حُکم بھی فرما دیا اور صبر اور استقامت کی تعلیم بھی فرما دی ،
وہ فتنہ ایسے لوگ ہیں جو مسلمانوں میں سے ہوتے ہیں اور مسلمانوں کی زُبانوں میں بات کرتے ہیں اور اسلام کی ہی بات کرتے ہیں لیکن اپنی اپنی الگ الگ جماعتیں بنائے رکھتے ہیں ، اور اِسلام کا لِبادہ اوڑھے ہوئے ، اپنی جماعت اور فرقے وغیرہ و ہی درست کہتے ہوئے اس کی اتباع کی دعوت دیتے ہیں حقیقتا وہ لوگ جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہوتے ہیں جو کوئی ان کی دعوت قبول کرتا ہے یہ لوگ اس شخص کو جہنم میں داخل کر دینے کا سبب بن جاتے ہیں ، اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں ایسے لوگوں کی پہچان عطا ءفرمائےا ور ان کے شر سے ہمیں اور ہر ایک مسلمان کو محفوظ رکھے """"""" و السلام علیکم ۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (23-03-10), کنعان (23-03-10), ضِرار Derar (02-05-10), عبداللہ آدم (26-03-10), عبداللہ حیدر (23-03-10)
پرانا 23-03-10, 12:45 AM   #10
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,493
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم، چچا جی! یہاں جماعت المسلمین اور امام سے کیا مراد ہے؟ کچھ لوگ اسے "جماعت المسلمین" نامی تنظیم سمجھتے ہیں۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (23-03-10), کنعان (23-03-10), شاہ جی 90 (24-03-10), عبداللہ آدم (26-03-10)
پرانا 23-03-10, 12:57 AM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,864
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ حیدر مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم، چچا جی! یہاں جماعت المسلمین اور امام سے کیا مراد ہے؟ کچھ لوگ اسے "جماعت المسلمین" نامی تنظیم سمجھتے ہیں۔
و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
بوڑھے چچا سے کام کرواتے ہو کیا فإئدہ بھتیجا بننے کا
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
قال ((((( تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ ))))) اِرشاد فرمایا ((((( مسلمانوں کی جماعت اور ان کے اِمام کے ساتھ مضبوطی سے لگے رہو )))))
قلت فان لم يَكُنْ لهم جَمَاعَةٌ ولا إِمَامٌ؟ ::: میں نے عرض کی، اگر (اُس وقت) مسلمانوں کی کوئی جماعت نہ ہو اور نہ ہی کوئی اِمام (تو میں کیا کروں)،
قال ((((( فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حتى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ على ذلک ))))) اِرشاد فرمایا ((((( اُن تمام فرقوں سے بالکل الگ رہنا خواہ تُمہیں(تنہا زندہ رہنے کے لیے) درخت کی جڑ چوسنا پڑے(اسی طرح اپنا وقت گذارنا) یہاں تک موت تم آن لے اور تُم اسی حال میں ہو )))))
جواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرمان میں موجود ہے ، ڈھونڈ لو بھتیجے اور مجھے بھی بتاو ، جیڑا بولے اوہو کنڈی کھولے ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (23-03-10), شاہ جی 90 (24-03-10), ضِرار Derar (02-05-10), عبداللہ آدم (26-03-10), عبداللہ حیدر (24-03-10)
پرانا 23-03-10, 10:57 AM   #12
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,655
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تو پھر اپ دنیاوی علوم کے ماہرین کے متعلق کیا فرماتے ہیں۔ ان کو علم کو اپ علم ماننے سے انکاری کرتے ہیں؟ اور اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ ان کی عزت نہیں‌کی جانی چاہیے؟ کیا اپ اس فلسفے کے حامی ہیں کہ یہ علم نہیں‌یہ تو معلومات ہیں؟
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
شاہ جی 90 (24-03-10), عبداللہ آدم (26-03-10)
پرانا 23-03-10, 11:39 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,864
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Lightbulb

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : منتظمین مراسلہ دیکھیں
تو پھر اپ دنیاوی علوم کے ماہرین کے متعلق کیا فرماتے ہیں۔ ان کو علم کو اپ علم ماننے سے انکاری کرتے ہیں؟ اور اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ ان کی عزت نہیں‌کی جانی چاہیے؟ کیا اپ اس فلسفے کے حامی ہیں کہ یہ علم نہیں‌یہ تو معلومات ہیں؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
منتظمین بھائی اپنے اسلوب کے مطابق سوال کے لیے شکریہ قبول فرمایے ،
اگر آپ نے میرے سابقہ مراسلات بغور پڑھے ہوتے تو شاید یہ سوال نہ کرتے ،
منتظمین بھائی میں‌ نے مراسلہ رقم 1 میں لکھا تھا :::
""""""" ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے """ عُلماء """ یعنی """ عِلم رکھنے والے """ لوگوں کی فضیلت بیان فرمائی ، اور یہ بھی بیان فرمایا کہ اللہ کے ہاں """ عالِم """ اسے کہا گیا ہے جو اللہ کی توحید کا """ عِلم """ رکھتے ہوئے اس پر قولی اور عملی طور پر گواہ ہو ،
دُنیاوی عُلوم میں سے کوئی عِلم رکھنے والا لغوی طور پر تو """ عالِم """ کہلائے گا لیکن اسلامی شرعی طور پر نہیں، """""""
اور پھر بھائی شاہ جی کے لیے جواب میں ، مراسلہ رقم 9 میں لکھا تھا :::
""""""" شاہ جی ، آپ نے جن صاحبان کے نام ذکر کیے ہیں صرف وہی کیا ہر وہ شخص جو کسی بھی علم کا حامل ہو لغوی طور پر عالم کہلائے گا ، یہاں اور فلموں والے دھاگے میں‌بھی ہماری گفتگو لغوی طور پر عالِم کہلائے جا سکنے والے لوگوں کے بارے میں نہیں ، بلکہ اُن لوگوں کے بارے میں ہے جو اسلامی طور پر عالِم کہلا سکتے ہوں ، اور کہلاتے ہوں ،
یوں بھی سارے ہی مسلم معاشروں میں آج تک لفظ """ عالِم """ کا عام اور پہلا مفہوم """ اسلامی علوم کا حامل """ جانا جاتا ہے ، اس لیے جب کوئی بھی مسلمان """ عالِم """ کہتا یا لکھتا ہے تو ہر سامع اور قاری کے ذہن میں یہی مفہوم آتا ہے ،
پس اس عام مفہوم کا وجود دُنیاوی علوم کے عالِموں کے عالِم ہونے کا انکار نہیں ، """""""
امید ہے ان اقتباسات میں آپ کو آپ کے سوالات کا جواب مل جائے گا ، و السلام علیکم۔
عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (24-03-10), شاہ جی 90 (24-03-10), ضِرار Derar (02-05-10), عبداللہ حیدر (24-03-10)
پرانا 24-03-10, 05:53 AM   #14
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,042
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وہ فتنہ ایسے لوگ ہیں جو مسلمانوں میں سے ہوتے ہیں اور مسلمانوں کی زُبانوں میں بات کرتے ہیں اور اسلام کی ہی بات کرتے ہیں لیکن اپنی اپنی الگ الگ جماعتیں بنائے رکھتے ہیں ، اور اِسلام کا لِبادہ اوڑھے ہوئے ، اپنی جماعت اور فرقے وغیرہ و ہی درست کہتے ہوئے اس کی اتباع کی دعوت دیتے ہیں حقیقتا وہ لوگ جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہوتے ہیں جو کوئی ان کی دعوت قبول کرتا ہے یہ لوگ اس شخص کو جہنم میں داخل کر دینے کا سبب بن جاتے ہیں ، اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں ایسے لوگوں کی پہچان عطا ءفرمائےا ور ان کے شر سے ہمیں اور ہر ایک مسلمان کو محفوظ رکھے """"""" و السلام علیکم ۔
اسلام و علیکم بھائی جان
بات تو یہ ہے کہ آج کے دور میں مجھے کوئی ایسا عالم بتا دیں جو کہ اپنے فرقے یا مسلک کی تبلیغ نہیں کر رہا ، یا جو لوگوں کو کھینچ کھینچ کر اپنے مسلک کی جانب لانے کی کوشش نہیں کر رہا ۔
ہاں ہمارے استاد اعلی حضرت مولانا زاہد الحسینی اللہ ان کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے ، وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ ہم صرف مسلمان ہیں ، یعنی نی تو سنی ہیں نہ وہابی وغیرہ ، ان کے شاگرد اب جہاں جہاں مسجد سنبھالے ہوے ہیں ان کا بھی یہی طریقہ ہے ۔
تو اس پیرا گراف کے مطابق تو تمام علما ہی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔
شاہ جی 90 آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
کنعان (24-03-10), عبداللہ آدم (26-03-10)
کمائي نے شاہ جی 90 کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
24-03-10 کنعان بات تو یہ ہے کہ آج کے دور میں مجھے کوئی ایسا عالم بتا دیں جو کہ اپنے فرقے یا مسلک کی تبلیغ نہیں کر رہا ، یا جو لوگوں کو کھینچ کھینچ کر اپنے مسلک 50
پرانا 24-03-10, 10:08 AM   #15
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,655
شکریہ: 9,809
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عادل سہیل مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
منتظمین بھائی اپنے اسلوب کے مطابق سوال کے لیے شکریہ قبول فرمایے ،
اگر آپ نے میرے سابقہ مراسلات بغور پڑھے ہوتے تو شاید یہ سوال نہ کرتے ،
منتظمین بھائی میں‌ نے مراسلہ رقم 1 میں لکھا تھا :::
""""""" ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے """ عُلماء """ یعنی """ عِلم رکھنے والے """ لوگوں کی فضیلت بیان فرمائی ، اور یہ بھی بیان فرمایا کہ اللہ کے ہاں """ عالِم """ اسے کہا گیا ہے جو اللہ کی توحید کا """ عِلم """ رکھتے ہوئے اس پر قولی اور عملی طور پر گواہ ہو ،
دُنیاوی عُلوم میں سے کوئی عِلم رکھنے والا لغوی طور پر تو """ عالِم """ کہلائے گا لیکن اسلامی شرعی طور پر نہیں، """""""
اور پھر بھائی شاہ جی کے لیے جواب میں ، مراسلہ رقم 9 میں لکھا تھا :::
""""""" شاہ جی ، آپ نے جن صاحبان کے نام ذکر کیے ہیں صرف وہی کیا ہر وہ شخص جو کسی بھی علم کا حامل ہو لغوی طور پر عالم کہلائے گا ، یہاں اور فلموں والے دھاگے میں‌بھی ہماری گفتگو لغوی طور پر عالِم کہلائے جا سکنے والے لوگوں کے بارے میں نہیں ، بلکہ اُن لوگوں کے بارے میں ہے جو اسلامی طور پر عالِم کہلا سکتے ہوں ، اور کہلاتے ہوں ،
یوں بھی سارے ہی مسلم معاشروں میں آج تک لفظ """ عالِم """ کا عام اور پہلا مفہوم """ اسلامی علوم کا حامل """ جانا جاتا ہے ، اس لیے جب کوئی بھی مسلمان """ عالِم """ کہتا یا لکھتا ہے تو ہر سامع اور قاری کے ذہن میں یہی مفہوم آتا ہے ،
پس اس عام مفہوم کا وجود دُنیاوی علوم کے عالِموں کے عالِم ہونے کا انکار نہیں ، """""""
امید ہے ان اقتباسات میں آپ کو آپ کے سوالات کا جواب مل جائے گا ، و السلام علیکم۔
زیادہ بہتر یہ ہے کہ اپ واضح‌ طور پر میرے جواب کا سیدھا جواب دیں جو کہ ہم جیسے کم فہموں کی سمجھ بھی آ جائے۔

والسلام
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (24-03-10)
جواب

Tags
color, کلام, پسند, قید, قران, نظر, مکمل, آج, اللہ, الزام, اسلامی, توحید, حکم, حال, حدیث, خبر, دُعا, داڑھی, شخص, عورت, علی, عمران, عادل سہیل،عُلماء فضیلت،, صفت, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:39 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger