واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > اردو ادب سے اقتباسات > آپ بیتی




کرن کرن سورج

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-03-09, 05:09 AM   #1
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,377
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default کرن کرن سورج

کرن کرن سورج

--------------------------------------------------------------------------------

کرن کرن سورج از واصف علی واصف سے اقتباسات
محب اور محبوب
محب اور محبوب کی الگ الگ تعریف مشکل ہے۔ محبت کے رشتے سے دونوں ہیں۔ کسی کی کسی پر فوقیت کا بیان نہیں ہوسکتا۔ مقام محبوب مقام محب سے کم تر یا بر تر نہیں کہا جاسکتا۔ ایک کی ہستی دوسرے کے دم سے ہے۔ دنیاوی رشتوں میں محب اور محبوب کا تقابل ناممکن ہے۔ حقیقت کی دنیا میں تو اور بھی ناممکن۔ اللہ کو اپنے محبوب سے کتنی محبت ہے کہ اسے باعث تخلیق کائنات فرما دیا۔ اللہ اپنے فرشتوں کے ہمراہ اپنے محبوب پر دورد بھیجتا ہے ، اس کے ذکر کو بلند کرتا ہے ، اس کی شان بیان کرتا ہے اور محبوب اپنے اللہ کی عبادت کرتے ہیں ، اس کی تسبیح بیان فرماتے ہیں ، اس کے لیے زندگی اور زندگی کے مشاغل وقف فرماتے ہیں۔

کامیابی اور ناکامی
کامیابی اور ناکامی اتنی اہم نہیں جتنا کہ انتخاب مقصد۔ نیک مقصد کے سفر میں ناکام ہونے والا برے سفر میں کامیاب ہونے والے سے بدرجہا بہتر ہے۔ ایسا ممکن ہوسکتا ہے کہ ایک آدمی مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے لیکن اس کی زندگی ناکام ہو۔

کلام ، تاثیر اور صداقت
جھوٹا آدمی کلام الہی بھی بیان کرے تو اثر نہ ہوگا۔ صداقت بیان کرنے کے لیے صادق کی زبان چاہیے۔
بلکہ صادق کی زبان ہی صداقت ہے۔ جتنا بڑا صادق ، اتنی بڑی صداقت

انسان کا اصل جوہر صداقت ہے ، صداقت مصلحت اندیش نہیں ہوسکتی۔ جہاں اظہار صداقت کا وقت ہو وہاں خاموش رہنا صداقت سے محروم کر دیتا ہے۔ اس انسان کو صادق نہیں کہتے جو اظہار صداقت میں ابہام کا سہارا لیتا ہو۔

حکومت
حکومت نااہل ہوسکتی ہے ، غیر مخلص نہیں ۔ ملک سے مخلص ہونا حکومت کی ذمہ داری بھی ہے اور ضرورت بھی۔ ملک سلامت رہے گا تو حکومت قائم رہ سکتی ہے۔ اس لیے حکومت ہمیشہ مخلص ہی ہوتی ہے۔
حزب اختلاف حکومت کو غیر مخلص کہتا ہے اور حکومت اپنے مخالفوں کو وطن دشمن کہتی ہے ، جو انسان دس سال سے زیادہ عرصے سے ملک میں رہ رہا ہو وہ ملک دشمن نہیں ہوسکتا۔ جس کے ماں باپ کی قبر اس ملک میں ہے وہ غدار نہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــ

اپنی دعاوں میں اللہ کریم کو راہ نہ سجھایا کریں کہ اسے یوں کرنا چاہیے ، ایسے نہ کرنا چاہیے۔ اس قوم پر رحم کرنا چاہیے ، فلاں پر غضب اور فلاں کو تباہ کرنا چاہیے۔ کچھ لوگ اپنے آپ کو اللہ کا ایڈوائزر سمجھتے ہیں اور اسے کہتے رہتے ہیں: یہاں فضل کرو ۔ یہاں تباہی کا گولہ پھینکو ۔ اس کو نیست و نابود کردو۔ مجھے اور میری اولاد کو سلطان سلاطین بنا دو۔
ایسا قطعا نہیں۔ اللہ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دشمن کو بھی تباہ نہیں کیا۔ شرار بولہبی ، چراغ مصطفوی کی ضد ہے لیکن پہچان ہے۔ شیطان اللہ کا دشمن ہے ، اس کی ضد ہے لیکن پہچان ہے۔ سنت اللہ یہ نہیں کہ اللہ اپنے دشمنوں کو زندہ ہی نہ رہنے دے۔ اللہ کا دستور کچھ ایسا ہے جیسے نہ ماننے والوں سے کہہ رہا ہو کہ "تم نہ مانو ، میں تمہاری بینائی نہیں چھین لوں گا۔ خوراک دینا بند نہ کروں گا۔ میں اپنے احسانات کرتا رہوں گا۔ تم بغاوت کے بعد آخر میرے ہی پاس آو گے ۔ اور اس دن جان لو گے کہ تم کیا کرتے رہے تھے"
اللہ سے کسی کی تباہی نہ مانگو۔ سب کی اصلاح ، سب کی خیر ، سب کا بھلا مانگو۔
ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــ
جو شخص اس لیے اپنی اصلاح کر رہا ہے کہ دنیا اس کی تعریف و عزت کرے ، اس کی اصلاح نہیں ہوگی۔ اپنی نیکیوں کا صلہ دنیا سے مانگنے والا انسان نیک نہیں ہوسکتا۔ ریا کار اس عابد کو کہتے ہیں جو دنیا کو اپنی عبادت سے مرعوب کرنا چاہے۔

دانا ، نا دانوں کی اصلاح کرتا ہے ، عالم بے علم کی اور حکیم بیماروں کی۔ وہ حکیم علاج کیا کرے گا جس کو مریض سے محبت ہی نہ ہو۔ اسی طرح وہ مصلح جو گنہگاروں سے نفرت کرتا ہے ان کی اصلاح کیا کرے گا۔ ہر صفت اپنی مخالف صفت پر اثر کرنا چاہتی ہے ، لین نفرت سے نہیں ، محبت سے۔
ـــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــ
غیر یقینی حالات پر تقریریں کرنے والے کتنے یقین سے اپنے مکانوں کی تعمیر میں مصروف ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــ
بچہ بیمار ہو تو ماں کو دعا مانگنے کا سلیقہ خود ہی آجاتا ہے۔

بشکریہ! جناب الف نظامی۔
ام غزل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا
محمدعدنان (04-04-09), ایس اے نقوی (13-04-09)
پرانا 22-03-09, 12:25 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,171
کمائي: 167,166
شکریہ: 9,674
7,366 مراسلہ میں 22,057 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
بچہ بیمار ہو تو ماں کو دعا مانگنے کا سلیقہ خود ہی آجاتا ہے۔
نظامی صاحب نے بہت ہی عمدہ فقرہ لکھا ہے۔ اس سے بہت ساری باتوں کی سمجھ آ جاتی ہے۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
ام غزل (22-03-09)
پرانا 04-04-09, 07:38 PM   #3
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,587
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,624 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت اچھی تحریر ہے پاک نیٹ پر سے میں تحریریں چوری کر رہا ہوں مگر واضح کرتا چلوں کہ یہ تحریریں پاک نیٹ پر ہی رہیں گی فرق یہ ہوگا کہ میں ان کے لنک منتظمین کے سامنے پیش کروں گا کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ ہم سب لوگ کچھ منفرد لکھا کریں اور وہ منفرد تحریرں لوگوں کی نظروں کے سامنے سے گزرا کریں
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (04-04-09), ام غزل (05-04-09)
پرانا 11-04-09, 11:49 AM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,171
کمائي: 167,166
شکریہ: 9,674
7,366 مراسلہ میں 22,057 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ تحریر سرورق کے لیے بیس اپریل کے لیے شیڈول کر دی گئی ہے۔
منتظمین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 11-04-09, 11:58 AM   #5
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,587
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,624 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت شکریہ منتظمین آپ کا تحریر واقعی سرورق کی زینت بننے کے قابل ہے
میں جو لکھتا ہوں وہ تو بس ایک خانہ پری ہوتی ہے تاہم ام غزل بہت اچھی تحریر ہے آپ کی مبارک ہو میری جانب سے آپ کو
اور شکریہ منتظمین کا
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 11-04-09, 08:30 PM   #6
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 189
کمائي: 5,392
شکریہ: 47
168 مراسلہ میں 485 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام غزل مراسلہ دیکھیں
--------------------------------------------------------------------------------

کرن کرن سورج از واصف علی واصف سے اقتباسات
محب اور محبوب
محب اور محبوب کی الگ الگ تعریف مشکل ہے۔ محبت کے رشتے سے دونوں ہیں۔ کسی کی کسی پر فوقیت کا بیان نہیں ہوسکتا۔ مقام محبوب مقام محب سے کم تر یا بر تر نہیں کہا جاسکتا۔ ایک کی ہستی دوسرے کے دم سے ہے۔ دنیاوی رشتوں میں محب اور محبوب کا تقابل ناممکن ہے۔ حقیقت کی دنیا میں تو اور بھی ناممکن۔ اللہ کو اپنے محبوب سے کتنی محبت ہے کہ اسے باعث تخلیق کائنات فرما دیا۔ اللہ اپنے فرشتوں کے ہمراہ اپنے محبوب پر دورد بھیجتا ہے ، اس کے ذکر کو بلند کرتا ہے ، اس کی شان بیان کرتا ہے اور محبوب اپنے اللہ کی عبادت کرتے ہیں ، اس کی تسبیح بیان فرماتے ہیں ، اس کے لیے زندگی اور زندگی کے مشاغل وقف فرماتے ہیں۔

کامیابی اور ناکامی
کامیابی اور ناکامی اتنی اہم نہیں جتنا کہ انتخاب مقصد۔ نیک مقصد کے سفر میں ناکام ہونے والا برے سفر میں کامیاب ہونے والے سے بدرجہا بہتر ہے۔ ایسا ممکن ہوسکتا ہے کہ ایک آدمی مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے لیکن اس کی زندگی ناکام ہو۔

کلام ، تاثیر اور صداقت
جھوٹا آدمی کلام الہی بھی بیان کرے تو اثر نہ ہوگا۔ صداقت بیان کرنے کے لیے صادق کی زبان چاہیے۔
بلکہ صادق کی زبان ہی صداقت ہے۔ جتنا بڑا صادق ، اتنی بڑی صداقت

انسان کا اصل جوہر صداقت ہے ، صداقت مصلحت اندیش نہیں ہوسکتی۔ جہاں اظہار صداقت کا وقت ہو وہاں خاموش رہنا صداقت سے محروم کر دیتا ہے۔ اس انسان کو صادق نہیں کہتے جو اظہار صداقت میں ابہام کا سہارا لیتا ہو۔

حکومت
حکومت نااہل ہوسکتی ہے ، غیر مخلص نہیں ۔ ملک سے مخلص ہونا حکومت کی ذمہ داری بھی ہے اور ضرورت بھی۔ ملک سلامت رہے گا تو حکومت قائم رہ سکتی ہے۔ اس لیے حکومت ہمیشہ مخلص ہی ہوتی ہے۔
حزب اختلاف حکومت کو غیر مخلص کہتا ہے اور حکومت اپنے مخالفوں کو وطن دشمن کہتی ہے ، جو انسان دس سال سے زیادہ عرصے سے ملک میں رہ رہا ہو وہ ملک دشمن نہیں ہوسکتا۔ جس کے ماں باپ کی قبر اس ملک میں ہے وہ غدار نہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــ

اپنی دعاوں میں اللہ کریم کو راہ نہ سجھایا کریں کہ اسے یوں کرنا چاہیے ، ایسے نہ کرنا چاہیے۔ اس قوم پر رحم کرنا چاہیے ، فلاں پر غضب اور فلاں کو تباہ کرنا چاہیے۔ کچھ لوگ اپنے آپ کو اللہ کا ایڈوائزر سمجھتے ہیں اور اسے کہتے رہتے ہیں: یہاں فضل کرو ۔ یہاں تباہی کا گولہ پھینکو ۔ اس کو نیست و نابود کردو۔ مجھے اور میری اولاد کو سلطان سلاطین بنا دو۔
ایسا قطعا نہیں۔ اللہ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دشمن کو بھی تباہ نہیں کیا۔ شرار بولہبی ، چراغ مصطفوی کی ضد ہے لیکن پہچان ہے۔ شیطان اللہ کا دشمن ہے ، اس کی ضد ہے لیکن پہچان ہے۔ سنت اللہ یہ نہیں کہ اللہ اپنے دشمنوں کو زندہ ہی نہ رہنے دے۔ اللہ کا دستور کچھ ایسا ہے جیسے نہ ماننے والوں سے کہہ رہا ہو کہ "تم نہ مانو ، میں تمہاری بینائی نہیں چھین لوں گا۔ خوراک دینا بند نہ کروں گا۔ میں اپنے احسانات کرتا رہوں گا۔ تم بغاوت کے بعد آخر میرے ہی پاس آو گے ۔ اور اس دن جان لو گے کہ تم کیا کرتے رہے تھے"
اللہ سے کسی کی تباہی نہ مانگو۔ سب کی اصلاح ، سب کی خیر ، سب کا بھلا مانگو۔
ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــــ ـــــــــــــــــــــــ
جو شخص اس لیے اپنی اصلاح کر رہا ہے کہ دنیا اس کی تعریف و عزت کرے ، اس کی اصلاح نہیں ہوگی۔ اپنی نیکیوں کا صلہ دنیا سے مانگنے والا انسان نیک نہیں ہوسکتا۔ ریا کار اس عابد کو کہتے ہیں جو دنیا کو اپنی عبادت سے مرعوب کرنا چاہے۔

دانا ، نا دانوں کی اصلاح کرتا ہے ، عالم بے علم کی اور حکیم بیماروں کی۔ وہ حکیم علاج کیا کرے گا جس کو مریض سے محبت ہی نہ ہو۔ اسی طرح وہ مصلح جو گنہگاروں سے نفرت کرتا ہے ان کی اصلاح کیا کرے گا۔ ہر صفت اپنی مخالف صفت پر اثر کرنا چاہتی ہے ، لین نفرت سے نہیں ، محبت سے۔
ـــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــ
غیر یقینی حالات پر تقریریں کرنے والے کتنے یقین سے اپنے مکانوں کی تعمیر میں مصروف ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــ
بچہ بیمار ہو تو ماں کو دعا مانگنے کا سلیقہ خود ہی آجاتا ہے۔

بشکریہ! جناب الف نظامی۔
واصف علی واصف تصوف کی لائن کا آدمی ھے اسرار ربی کا قلب پر منکشف ھونا اور پھر لفظوں کی صورت ڈھل کر ھدائت کامل بننا عطائے ربی ھے یہی وہ نظام حیات ھے جو اصل دین ھے اور فرقوں کے مذھب سے جدا ھے آپکو تصوف سے شغف ھے اور ایسی کتابیں پڑھتی ھیں تو یقینا خدا کا خاص کرم ھے آپ پر اگر آپ اقتباسات سے زیادہ کسی ایک موضوع پر تسلسل سے لکھ دیں تو بندہ اور بھی مشکور ھوگا ۔

سدید مسعود
سد ید مسعو د آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
سد ید مسعو د کا شکریہ ادا کیا گیا
ام غزل (12-04-09)
پرانا 12-04-09, 02:32 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,377
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی ضرور مگر میں نے کبھی اس طرح کچھ تحریر نہیں کیا تاہم کوشش کروں‌گی اگر کچھ کامیابی ہوئی تو تو ضرور بتاؤں گی۔
آپ کی بےحد مشکور ہوں کہ آپ نے اس تحریر کو وقت دیا ۔
بہت بہت شکریہ۔
ام غزل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ام غزل کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 12-04-09, 09:53 AM   #8
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 189
کمائي: 5,392
شکریہ: 47
168 مراسلہ میں 485 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام غزل مراسلہ دیکھیں
جی ضرور مگر میں نے کبھی اس طرح کچھ تحریر نہیں کیا تاہم کوشش کروں‌گی اگر کچھ کامیابی ہوئی تو تو ضرور بتاؤں گی۔
آپ کی بےحد مشکور ہوں کہ آپ نے اس تحریر کو وقت دیا ۔
بہت بہت شکریہ۔
تصوف میں ھر عبد کی اپنی ایک پرواز ھوتی ھے اور یہ پرواز بنیادی ایک نقطہ سے شروع ھوتی ھے کہ اے مالک تری رضا اور خوشی کا طالب ھوں‌۔ اسے منزل طلب کہتے ھیں بس عبد ھمیشہ طلب پر رھتا ھے اور اگر وہ عطا کر دے تو آپ وہ سچے حرف لکھیں گی کہ پتھر بھی بول پڑیں گے شرط طلب صادق کی ھے اور قلب صادق کی ھے۔ شکریہ
سد ید مسعو د آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
سد ید مسعو د کا شکریہ ادا کیا گیا
ام غزل (12-04-09)
پرانا 12-04-09, 10:44 AM   #9
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,606
کمائي: 40,497
شکریہ: 25,317
4,018 مراسلہ میں 10,765 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سد ید مسعو د مراسلہ دیکھیں
تصوف میں ھر عبد کی اپنی ایک پرواز ھوتی ھے اور یہ پرواز بنیادی ایک نقطہ سے شروع ھوتی ھے کہ اے مالک تری رضا اور خوشی کا طالب ھوں‌۔ اسے منزل طلب کہتے ھیں بس عبد ھمیشہ طلب پر رھتا ھے اور اگر وہ عطا کر دے تو آپ وہ سچے حرف لکھیں گی کہ پتھر بھی بول پڑیں گے شرط طلب صادق کی ھے اور قلب صادق کی ھے۔ شکریہ
بہت خوب جناب، ۔
رضی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
ام غزل (12-04-09)
پرانا 12-04-09, 12:09 PM   #10
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,587
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,624 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام غزل مراسلہ دیکھیں
جی ضرور مگر میں نے کبھی اس طرح کچھ تحریر نہیں کیا تاہم کوشش کروں‌گی اگر کچھ کامیابی ہوئی تو تو ضرور بتاؤں گی۔
آپ کی بےحد مشکور ہوں کہ آپ نے اس تحریر کو وقت دیا ۔
بہت بہت شکریہ۔
غزل آپ کی تحریر اس سے کہیں سے پڑھی جانے کے قابل ہے اور غور طلب بھی ہے اور انسان کو کوشش کرتے رہنا چاہیئے کامیابی اس کا مقدر بنتی ہے خوش رہیں اور اپنا خیال رکھیں
اور دعائوں میں یاد رکھیں
آپکا بھی شکریہ کہ آپ نے اتنی اچھی تحریر ہمیں پڑھنے کی لئے دی

( آپ کا شکریہ )
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا
ام غزل (12-04-09)
پرانا 12-04-09, 01:18 PM   #11
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 189
کمائي: 5,392
شکریہ: 47
168 مراسلہ میں 485 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Razi مراسلہ دیکھیں
بہت خوب جناب، ۔
کبھی آپ نے سوچا یہ بہت خوب کی آواز کہاں سے آئی ھے یہ وہ نور حق ھے جو اللہ پاک نے آپ کے دل میں رکھا ھے یہ وہ شیشہ ھے جو زنگ آلود ھونے کے باوجود خالق حقیقی کی طلب کر رھا ھے، دنیاوی مشکات ھر نفس کے ساتھ ھیں مگر یہ آپکا مقدر نہیں ھیں‌ ذرا ایک بار اسکی بار گاہ میں سر رکھیں اور دعا میں دولت نہ مانگیں بس اسکی خوشی مانگیں اور مانگنے کے طریقے سے مانگیں یہ کام مشکل ضرور ھے مگر ایک دن آے گا وہ کردگار بھی آپ کے دل میں اتر کر کہے گا بہت خوب مرے بندے۔۔۔۔بہت خوب بتا کیا لکھوں تری تقدیر میں بقول اقبال

خودی کو کر بلند اتنا کہ ھر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تری رضا کیا ھے
سد ید مسعو د آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سد ید مسعو د کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (12-04-09), ام غزل (12-04-09)
پرانا 12-04-09, 01:57 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,377
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سبحان اللہ سدید بھائی آج تو آپ سچ میں موڈ میں‌ہیں ،لگتا ہے آج کوئے تحریر ہمیں موصول ہونیوالی ہے ۔
بہت بہت شکریہ۔
ام غزل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
ام غزل کا شکریہ ادا کیا گیا
فیصل ناصر (12-04-09)
پرانا 12-04-09, 04:47 PM   #13
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,918
کمائي: 351,587
شکریہ: 20,498
4,944 مراسلہ میں 14,624 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

خواتین و‌ حضرات متوجہ ہوں
ابھی جناب سید انجم شاہ صاحب کی تحریر بھی آنے والی ہے سوچیے کہ اس بار کس موضوع پر لکھوں گا میں ؟
آپ سوچیئے میں بھی سوچ کر لکھتا ہوں
ایس اے نقوی آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 12-04-09, 08:32 PM   #14
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 189
کمائي: 5,392
شکریہ: 47
168 مراسلہ میں 485 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام غزل مراسلہ دیکھیں
سبحان اللہ سدید بھائی آج تو آپ سچ میں موڈ میں‌ہیں ،لگتا ہے آج کوئے تحریر ہمیں موصول ہونیوالی ہے ۔
بہت بہت شکریہ۔
ارے آپ تو موڈ کو بھی سمجھتی ھیں اور بھائی کو بھی، آج سے چار سال پہلے میں ایک صاحب تصوف کی درگاہ پہ حاضر تھا مجھے ساری رات وھاں قیام کرنا تھا اور فجر کے بعد رخصت ھونا تھا۔ رات کے تین بجے مجھے ایک عورت نے کہ جس کی آنکھوں میں بلا کا جلال تھا کہا بھائی میرے ساتھ آو، وہ مجھے اپنی نشت پر لے گئی اور کہنے لگی میں تمہں دو چیزیں دیتی ھوں اور اور جو خواھش تمہارے دل میں ھے وہ ترک کر دو سوچ لو، میں نے کہا جو میرے دل میں ھے وہ یقینا اس سے افضل ھے جو تم مجھے دینا چاھتی ھو کہنے لگی ھر شخص کے پاس دوسرے کا فیض ھوتا ھے جاؤ میں نے تمہارا حصہ دے دیا۔ عجیب بات ھے کہ نہ اس نے بول کر بتایا کہ وہ مجھے کیا عطا کر رھی ھے اور نہ ھی میں نے استفسار کیا لیکن مجھے یقین تھا کہ مجھے ضرور کچھ ملا ھے ۔ ایک اور بات میں آپ سے کہہ دوں پر نہیں ابھی نہیں۔ یقینا آمد کی کچھ باتیں ھیں مگر نیٹ پر لگاتے ھوئے ڈرتا ھوں بقول میاں محمد بخش

خاصاں دی گل عاماں اگے نیئں مناسب کرنی

نیٹ پر مزحیہ شاعری ھی بہتر ھے

شکریہ غزل بہن
سد ید مسعو د آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
سد ید مسعو د کا شکریہ ادا کیا گیا
ام غزل (12-04-09)
پرانا 12-04-09, 08:53 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,377
شکریہ: 10,920
1,994 مراسلہ میں 4,847 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ کی بات ٹھیک ہے کہ
(خاصاں دی گل عاماں اگے نیئں مناسب کرنی )
مگر ایک بات کہوں گی کہ اپنی بات بغیر کسی جھجک کے کہہ دینی چاہئیے ، کسی کیلئے اگر خفت کا باعث بنے گی تو ہوسکتا ہے کوئی اس سے فیض پالے ۔
باقی آپ بہتر سمجھتے ہیں۔
بہر حال آپ کا بہت بہت شکریہ۔
ام غزل آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
کرن, پہچان, پاک, لوگ, نفرت, ماں, محبت, آدمی, اللہ, انسان, تحریر, حضرات, خواتین, خوش, دستور, دعا, رشتے, زندگی, سفر, سال, شخص, علی, عبادت, عزت, غزل


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا عروج شاعر مشرق علامہ اقبال 9 15-05-11 01:07 PM
سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے گلاب خان خبریں 0 09-12-10 06:22 AM
بیت اللہ محسود نے خاموشی اختیار کر لی:حکیم اللہ محسود کا دعویٰ حیدر خبریں 6 14-08-09 12:01 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:13 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger