| آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی فورمز پر ایک دوسرے سے ایک بہت اچھا رشتہ بن جاتا ہے ، یہاں پر ہم اپنے خوشی اور دکھ کے لمحات شئر کریں گے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 1,302
کمائي: 30,696
شکریہ: 1,240
1,047 مراسلہ میں 3,045 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام و علیکم
میں آپ سب سے ایک بات کرنا ضروری سمجھتی ھوں ۔ وہ یہ کہ جب ھم اللہ کریم کا ذکر کرتے ھیں تو ھم سب جانتے ھیں ۔ کہ اللہ تعالی کی ذات واحد ھے۔ فرماتا ھے تو ٹھیک ھے لیکن جب ھم یہ کہتے ھیں کہ فرماتے ھیں ۔ اب( ھیں) جمح ھو جاتا ھے۔ میرا خیال ھے کہ ھم ذیادہ احترام میں ھیں لگاتے ھیں ۔جومناسب نہیں ھے۔جبکہ ھم اپنے ماں باپ کو آپ کہہ کر بلاتے ھیں لیکن ھم یہ لفظ اللہ تعالی کی ذات کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔اس لیے کہ وہ انسان یا بندہ نہیں ھے۔ وہ نور ھے ۔لہذا میں چاہوں گی ۔ باقی ساتھی بھی آ کر روشنی ڈالیں ۔ |
|
|
|
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
السلام علیکم
ستارہ بہن! اللہ آپ کے جذبہ توحید کو مزید جِلا بخشے اور قبول فرمائے۔ آپ کی بات بالکل درست ہے کہ اللہ تعالیٰ ذات اور صفات میں یکتا ہے۔ لیکن تقریبا تمام زبانوں میں احترام کے لیے جمع کا صیغہ بولنے کا اسلوب پایا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو "ہم" کہہ کر متعارف کرایا ہے خاص طور پر وہ مقامات جہاں اپنی قدرت، جلالت، اور عظمت بتائی ہے۔ مثلا: "آسمان کو ہم نے بنایا اور ہم بڑی وسعت والے ہیں" الذاریات "ہم نے آل فرعون کو غرق کر دیا" الانفال "ہم نے نوحّ کو ان کی قوم کی طرف بھیجا" سورۃ نوح اس کا مطلب یہ نہیں لیا جا سکتا کہ اللہ ایک سے زیادہ ہے اس لیے "ہم" کہا گیا۔ بلکہ یہ عظمت اور جلالت کا احساس دلانے کے لیے ہے۔ لہٰذا میرے علم کے مطابق جمع کا صیغہ بطور ادب استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیںہے۔ ضمنا ایک دوسری بات بھی عرض کرتا چلوں کہ نور روشنی کو کہتے ہیں اور ہر قسم کی روشنی بشمول "نور" اللہ کی مخلوق ہے۔ اللہ کو کسی مخلوق سے تشبیہہ نہیں دی جا سکتی۔ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا لیس کمثلہ شی ء (الشورٰی) "اس کی مثل کوئی چیز نہیں" |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
بہت خوب عبداللہ بھائی عمدہ جواب ہے۔ جزاک اللہ
|
|
|
|