| آخرت آخرت |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
:::: آخرت کے دوسرے مرحلے ''' برزخ ''' میں ، آخرت کی پہلی منزل ::::: قبر ::::::
انتہائی افسوس ناک معاملات میں سے ایک یہ بھی کہ ہماری صفوں میں کچھ ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو دِین کے معاملات کو اپنی عقل پر جانچتے ہیں اور اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کا انکار کرتے ہیں ، اِن ہی معاملات میں سے ایک ''' عالمِ برزخ اور اُس سے متعلق عذاب و ثوابِ قبر ''' بھی ہے ، کہ کچھ''' عقل مند ''' لوگ اِس کا انکار کرتے ہیں کیونکہ یہ بھی اُن کی عقل میں نہیں آتا ،دِین کے معاملات و مسائل میں عقل کی کیا حیثیت اور حد مقرر کی گئی ہے اور کہاں تک اور کیسے اُس کا اِستعمال خیر والا ہوتا ہے اِس موضوع پر کچھ تفصیل ''' موسیقی والے مضامین ''' میں بیان کر چکا ہوں،و للہ الحمد و المنۃ ، عذاب و ثواب قبر ایک ایسی حقیقت ہے جو صحیح احادیث میں بہت صراحت سے بیان کی گئی ہے ، یہاں صرف چند احادیث ذِکر کرتا ہوں تا کہ پڑہنے والوں کے دِل و ذہن کو کوئی ''' عقل مندی ''' والا فلسفہ تنگ نہ کرے ، اور شیطان کے کِسی وسوسے کا شِکار ہو کر وہ ایک ثابت شدہ حقیقت کو رد کرتے ہوئے بد عقیدگی کا مرض نہ پال لیں ، ::::: اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنھا کا کہنا ہے کہ ''''' ایک دِن دو بوڑہی یہودی عور تیں میرے پاس آئیں اورکہنے لگِیں کہ::: قبروں میں مُردوں کو عذاب ہوتا ہے ::: میں نے اُن کی بات کو جھوٹ کہا ، اور سچ نہ مانا ، اُن کے جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا کہ ::: اے اللہ کے رسول دو بوڑہی عورتیں یہ یہ بات کہہ رہی تھیں ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((((( صَدَقَتَا اِنَّہُم یُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسمَعُہُ البَہَائِمُ کُلُّہَا ::: اُن دونوں نے سچ کہا ، مُردوں کو قبر میں ایسا (شدید) عذاب ہوتا ہے جِسے سب جانور سُنتے ہیں ))))) اور اِس واقعہ کے بعد میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد عذابِ قبر سے (اللہ کی ) پناہ طلب فرمایا کرتے تھے ''''' صحیح البُخاری /حدیث ٦٠٠٥ /کتاب الدعوات /باب٣٦، صحیح مُسلم /حدیث ٥٨٦ /کتاب المساجد و الموضیع الصلاۃ /باب ٢٤، ::::: اُم مبشر رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ ایک دِن رسول اللہ صلی اللہ میرے پاس تشریف لائے اور میں قبیلہ نجار کے باغات میں سے ایک باغ میں تھی جِس میں اُن کے کچھ ایسے لوگوں کی قبریں بھی تِھیں جو جاہلیت میں(یعنی اِسلام سے پہلے یا اِسلام قُبُول کیے بغیر ) مر چکے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو سُنا اور باغ سے باہر تشریف لے گئے اور فرمایا ((((( استَعِیذُوا بِاللَّہِ من عَذَابِ القَبرِ ))))) میں نے عرض کِیا ::: اے اللہ کے رسول کیا اُنہیں اپنی قبروں میں عذاب دِیا جاتا ہے ؟ ::: تو فرمایا [COLOR="DarkRed"]((((( نَعم عَذَاباً تَسمَعُہُ البَہَائِمُ ::: جی ہاں ،ایسا (شدید) عذاب ہوتا ہے جِسے سب جانور سُنتے ہیں ))))) [/COLOR] مُسند احمد /حدیث٢٧٥٨٣/حدیث اُم مبشر کی دوسری روایت ، اِمام الہیثمی نے '''مجمع الزوائد ''' میں کہا ''' اِس حدیث کو احمد نے روایت کیا ہے اور اِس کے راوی سب کے سب صحیح (البُخاری ) والے ہیں ''' یعنی حدیث صحت کے لحاظ سے صحیح البخاری کے درجے والی ہے ، اور اِامام الالبانی نے بھی صحیح قرار دِیا ، سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ /حدیث ١٤٤٤ ، صحیح مسلم میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ زیادہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے ، ::::: انس رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((((( لَولَا اَن لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوتُ اللَّہَ اَن یُسمِعَکُم من عَذَابِ القَبرِ ::: اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تُم لوگ (مُردے) دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ سے دُعاء کرتا کرتا کہ وہ تُم لوگوں کو قبر کے عذاب میں سے کچھ سُنا دے ))))) صحیح مسُلم /حدیث ٢٧٦٨/کتاب الجنّۃ و صفۃ نعیمھا و اھلھا /باب ١٧، اِنشاء اللہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ صحیح احادیث کِسی بھی مُسلمان کو عذابِ قبر کے بارے میں کِسی ایسی ''' عقل مندی ''' کا شِکار نہیں ہونے دیں گی جو اُس کے لیے عذابِ قبر کا سبب بن جائے ، آئیے اب صحیح ثابت شدہ احادیث کے روشنی ''' آخرت کے دوسرے مرحلے برزخ کی پہلی منزل قبر ''' اور اُس میں ملنے والے ''' عذاب و ثوابِ قبر ''' کا مطالعہ کرتے ہیں ، ::::: برزخ میں ::::: عذابءِ قبر ، یا ، آرام و اِنعام ، مرنے والے کے اعمال کے مطابق اُسے ملے گا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوہرے داماد ، تیسرے بلا فصل ، اور مظلوم شہید خلیفہ ، عُثمان بن عفان رضی اللہ عنہُ کے غُلام ہانی رحمۃُ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ''''' جب کبھی عُثمان رضی اللہ عنہُ کِسی قبر پر رکتے تو اتنا روتے کہ اُن کی داڑھی تر ہو جاتی ، تو اُن سے کہا گیا ::: جنّت و جہنم کا ذِکر سُن کر آپ (اِس طرح) نہیں روتے ، اور قبر کو دیکھ کر روتے ہیں ؟ ::: تو اُنہوں نے فرمایا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا کہ ((((( اِنَّ القبرَ اَولَ مَنزِلٌ مِن مَنازِلِ الآخِرۃ فِاِن نَجَا مِنہ ُ فَمَا بعدَہ ُ ایسر مِنہ ُ ، و اِن لَم یَنجَحَ مِنہ ُ فَما بَعدَہ ُ اَشَّدُ مِنہ ))))) و قال ((((( مَا رایت ُ مَنظَراً قَط اِلَّا و القَبرُ اَفظع مِنہ ُ ::: قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے ، اگر وہ ( یعنی قبر والا ) اِس میں نجات پا گیا تو اُسکے آگے جو کچھ ہے وہ اُس سے آسان ہو گا ، اور اگر نجات نہ پا سکا تو اُسکے آگے جو کچھ ہے وہ اُس سے زیادہ مشکل ہو گا ))))) اور فرمایا (میں نے قبر سے بڑھ کر خوفناک منظر اور کوئی نہیں دیکھا ) سُنن الترمذی /حدیث ٢٣٠٨ / کتاب الزُھد ، باب ما جاء فی ذِکر الموت ، ابن ماجہ /حدیث ٤٢٦٧ / کتاب الزُھد / باب ذِکر القبر و البلیٰ ، اِمام الالبانی نے حسن قرار دِیا ، صحیح المشکوۃ المصابیح/حدیث ١٢٣ / کتاب الاِیمان / باب اِثبات عذاب القبر۔ :::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::::: ::::::::::::::::::::: انشاء اللہ تعالیٰ ، اگلے مضمون میں آخرت کے دوسرے مرحلے ، برزخ ، کی پہلی منزل قبر کے مراحل کا ذِکر کیا جائے گا ، والسلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ۔ Last edited by عادل سہیل; 21-12-09 at 01:23 AM. وجہ: correction and reformatting |
|
|
|
| 19 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | arslansun (22-02-09), sahj (03-10-09), فیصل ناصر (01-12-08), فاروق خان (15-02-08), وجی (03-12-08), محمد فدا (09-12-08), محمد عاصم (23-09-10), مرزا عامر (17-09-10), ابن جلال (13-10-08), احمد غزنوی (05-12-08), ارشد کمبوہ (06-03-11), تفسیر حیدر (08-01-09), شاہد جمیل حفیظ (08-12-08), ضِرار Derar (04-10-10), طارق راحیل (03-12-08), عُکاشہ (15-01-09), عبداللہ حیدر (17-09-10), عروج (10-10-10), غلام خان (14-10-10) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,263
شکریہ: 0
370 مراسلہ میں 826 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت شکریہ آپ کا، بہت اچھا لکھا ہے
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ
جزاک اللہ خیر ، بھائی عارف کریم ، دُعا خیر کرتے رہا کیجیئے۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | ابن جلال (13-10-08), ضِرار Derar (04-10-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
انتہائی افسوس ناک معاملات میں سے ایک یہ بھی کہ ہماری صفوں میں کچھ ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو دِین کے معاملات کو اپنی عقل پر جانچتے ہیں اور اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کا انکار کرتے ہیں ، اِن ہی معاملات میں سے ایک ''' عالمِ برزخ اور اُس سے متعلق عذاب و ثوابِ قبر ''' بھی ہے ، کہ کچھ''' عقل مند ''' لوگ اِس کا انکار کرتے ہیں کیونکہ یہ بھی اُن کی عقل میں نہیں آتا ،دِین کے معاملات و مسائل میں عقل کی کیا حیثیت اور حد مقرر کی گئی ہے اور کہاں تک اور کیسے اُس کا اِستعمال خیر والا ہوتا ہے اِس موضوع پر کچھ تفصیل ''' موسیقی والے مضامین ''' میں بیان کر چکا ہوں،و للہ الحمد و المنۃ ، رسول اکرم سے بہت سے بیانات و روایات ایسی منسوب ہیں جو قرآن کے واضح احکامات کے خلاف ہیں۔ اس ضمن میں کسی بھی محدث کی لکھی ہوئی اصل کتاب تک موجود نہیں۔ اس کے باوجود کچھ لوگوں کا یہ دعوی ہے کہ ان بعید از عقل اور اس سے بھی بڑھ کر بعید اس قرآن روایات پر ایمان لے آؤ، اس لئے کہ یہ رسول اکرم سے منسوب ہیں ، گو کہ ایسے منسوب کرنے کا کوئی ثبوت نہیں۔ سوائے سنی سنائی روایات کے۔ سولہویں صدی تک صحیح بخاری کی چھ جلدیں ملتی ہیں جو مجموعی ضخامت ، تعداد، متن اور ترتیب میںکسی طور پر آج کی موجود جلدوںسے میل نہیں کھاتی ہیں۔ اس کے ثبوت میں آپ دور نہ جائیں ۔ ان دو سائیٹس پر روایات کو دیکھئے۔ 1۔ http://hadith.al-islam.com/ یہ سعودی حکومت کی ویب سائیٹ ہے ۔ یہاں روایات کا متن، تعداد، ترتیب اور اسناد کا موازنہ ایک دوسری سائٹ سے کیجئے۔ 2۔ Compendium of Muslim Texts ان سینکڑوںمثالوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت ہی واضح حقیقت ہے کہ آج سے پہلے کے محدثین نے ان روایات کی حفاظت کوئی اچھی نہیں کی۔ ورنہ تعداد، متن، ترتیب اور اسناد کا اتنا فرق نہیں ملتا۔ لہذا جہاں روایات رسول اکرم سے منسوب ہیں۔ وہاں ان روایات سے نتائج اخذ کرنے کے لئے کم از کم اس کو قرآن حکیم کی کسوٹی پر پرکھنے کی احتیاط ضرور کرنی چاہئیے کہ رسول اکرم کی سنت مبارکہ اور اقوا ل مبارک قرآنی احکامات کے خلاف کیوں کر ممکن ہیں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ 4:59 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو اوراپنے میں سے (اہلِ حق) صاحبانِ اَمر کی، پھر اگر کسی مسئلہ میں تم باہم اختلاف کرو تو اسے (حتمی فیصلہ کے لئے) اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لوٹا دو اگر تم اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو، (تو) یہی (تمہارے حق میں) بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے اللہ تعالی کے احکامات ، قرآن کی شکل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ادا ہوئے۔ قرآن کے علاوہ اللہ اور اس کے رسول کا مشترکہ بیان اور کیا ہو سکتا ہے؟ عام وطیرہ یہ رہا ہے کہ اگر کوئی ان کتابوں کے بارے میں و جو آج میسر ہیں کوئی سوال بھی کرتا ہے تو اسے منکر الحدیث قرار دیتے ہیں۔ جبکہ ان میں پایا جانا والا بیشتر مواد، آج سے 300 سال سے پہلے ٹریس نہیں کیا جاسکتا۔ میرا نکتہ نظر یہ رہا ہے کہ رسول اکرم سے منسوب بیانات کبھی قرآن حکیم یعنی اللہ تعالی کے حکم کے خلاف نہیں ہوسکتے ، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اصول جو قرآن میںموجود ہیں ان کی تفسیر یا تفصیل رسول اکرم بیان نہیںکرسکتے ۔ یقیناً قرآن کے اصولوں ، احکامات اور فرائض کی تفصیل کے لئے ہی اللہ تعالی نے ایک بہت ہی بزرگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا۔ اب آئیے ّعذاب قبر کے فلسفے کو قرآن کی آیات کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ 1۔ "عذاب قبر " کی اصطلاح قرآن میں پائی ہی نہیں جاتی۔ اس ضمن میں کوئی مدد فرمائے تاکہ سب کی معلومات میں اضافہ ہو۔ 2۔ "عذاب قبر" کا فلسفہ بھی قرآن میں نہیں پایا جاتا۔ اس ضمن میں بھی کوئی مدد فرمائے تاکہ سب کی معلومات میں اضافہ ہو۔ بہت سی تفاصیل قرآن میں نہیں ملتی ہیں ، جو ہم کو قول و فعل رسول اکرم صلعم سے حاصل ہوتی ہیں۔ اس لئے اب عذاب قبر کے فلسفے کو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ قرآن کے مخالف ہے یا موافق ہے؟ اللہ تعالی قرآن حکیم میں فرماتے ہیں کہ: 1۔ ہر نفس موت کا ذائقہ چکھے گا 2۔ قیامت واقع ہوگی اور اچانک واقع ہوگی۔ 3۔ قیامت کے بعد سب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ 4۔ ان کو موت کی کیفئیت ایسی لگے گی جیسے ایک نیند یا اس سے کم لے کر اٹھے ہوںگویا کوئی احساس نہیں ہوگا۔ 5۔ اعمال کا حساب کیا جائے گا۔ 6۔ سزا اور جزا کا عمل شروع ہوگا۔ اللہ تعالی قرآن حکیم میں موت کے بعد ، دوبارہ اٹھائے جانے تک جو کہ ایک اہم ایمان کا نکتہ ہے ، کسی عذاب ، جزا یا سزا کا تذکرہ نہیںکرتا بلکہ دوبارہ اٹھائے جانے تک کسی بھی احساس کے غیر موجود ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کسی ایسی آیت کی غیرموجودگی میں جو واضح طور پر موت کے بعد ،جزا اور سزا سے پہلے ہی عذاب کی خبر سناتی ہو، یہ نظریہ خلاف قرآن بنتا ہے۔ اس ضمن میںآیات دیکھئے۔ 10:4 إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا وَعْدَ اللّهِ حَقًّا إِنَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ بِالْقِسْطِ وَالَّذِينَ كَفَرُواْ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيمٍ وَعَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُواْ يَكْفُرُونَ (لوگو!) تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (یہ) اللہ کا سچا وعدہ ہے۔ بیشک وہی پیدائش کی ابتداء کرتا ہے پھر وہی اسے دہرائے گا تاکہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے، انصاف کے ساتھ جزا دے، اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہے، اس کا بدلہ جو وہ کفر کیا کرتے تھے 39:71 وَسِيقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى جَهَنَّمَ زُمَرًا حَتَّى إِذَا جَاؤُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنكُمْ يَتْلُونَ عَلَيْكُمْ آيَاتِ رَبِّكُمْ وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَذَا قَالُوا بَلَى وَلَكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكَافِرِينَ جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ دوزخ کی طرف گروہ درگروہ ہانکے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ اُس (جہنم) کے پاس پہنچیں گے تو اُس کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور اس کے داروغے اُن سے کہیں گے: کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تم پر تمہارے رب کی آیات پڑھ کر سناتے تھے اور تمہیں اِس دن کی پیشی سے ڈراتے تھے؟ وہ (دوزخی) کہیں گے: ہاں (آئے تھے)، لیکن کافروں پر فرمانِ عذاب ثابت ہو چکا ہوگا 23:100 لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ تاکہ میں اس (دنیا) میں کچھ نیک عمل کر لوں جسے میں چھوڑ آیا ہوں۔ ہر گز نہیں، یہ وہ بات ہے جسے وہ (بطورِ حسرت) کہہ رہا ہوگا اور ان کے آگے اس دن تک ایک پردہ (حائل) ہے (جس دن) وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے 22:70 وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَّا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَن فِي الْقُبُورِ اور بیشک قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں اور یقیناً اﷲ ان لوگوں کو زندہ کر کے اٹھا دے گا جو قبروں میں ہوں گے 6:160 مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَمَن جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلاَ يُجْزَى إِلاَّ مِثْلَهَا وَهُمْ لاَ يُظْلَمُونَ جو کوئی ایک نیکی لائے گا تو اس کے لئے (بطورِ اجر) اس جیسی دس نیکیاں ہیں، اور جو کوئی ایک گناہ لائے گا تو اس کو اس جیسے ایک (گناہ) کے سوا سزا نہیں دی جائے گی اور وہ ظلم نہیں کئے جائیں گے 2:259 أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىَ يُحْيِـي هَـذِهِ اللّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَأَمَاتَهُ اللّهُ مِئَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِئَةَ عَامٍ فَانظُرْ إِلَى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ وَانظُرْ إِلَى حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِّلنَّاسِ وَانظُرْ إِلَى العِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جو ایک بستی پر سے گزرا جو اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی تو اس نے کہا کہ اﷲ اس کی موت کے بعد اسے کیسے زندہ فرمائے گا، سو (اپنی قدرت کا مشاہدہ کرانے کے لئے) اﷲ نے اسے سو برس تک مُردہ رکھا پھر اُسے زندہ کیا، (بعد ازاں) پوچھا: تُو یہاں (مرنے کے بعد) کتنی دیر ٹھہرا رہا (ہے)؟ اس نے کہا: میں ایک دن یا ایک دن کا (بھی) کچھ حصہ ٹھہرا ہوں، فرمایا: (نہیں) بلکہ تُو سو برس پڑا رہا (ہے) پس (اب) تُو اپنے کھانے اور پینے (کی چیزوں) کو دیکھ (وہ) متغیّر (باسی) بھی نہیں ہوئیں اور (اب) اپنے گدھے کی طرف نظر کر (جس کی ہڈیاں بھی سلامت نہیں رہیں) اور یہ اس لئے کہ ہم تجھے لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنا دیں اور (اب ان) ہڈیوں کی طرف دیکھ ہم انہیں کیسے جُنبش دیتے (اور اٹھاتے) ہیں پھر انہیں گوشت (کا لباس) پہناتے ہیں، جب یہ (معاملہ) اس پر خوب آشکار ہو گیا تو بول اٹھا: میں (مشاہداتی یقین سے) جان گیا ہوں کہ بیشک اﷲ ہر چیز پر خوب قادر ہے مندرجہ بالاء آیات سے ، انسان کی پیدائش، موت،، قیامت کا واقع ہونا، دوبارا اٹھایا جانا اور اس کے بعد نیک و بد عمل کا حساب ہونے کی ترتیب کا مکمل نظریہ سامنے آتا ہے۔ چونکہ موت واقع ہوجانے کے بعد کوئی احساس باقی نہیں رہے گا لہذا، دوبارہ اٹھایا جانا، گویا فوراً ہی لگے گا۔ عذاب قبر کا فلسفہ ان تمام بنیادی ایمان کے احکامات کی تردید کرتا ہےکہ ، انسان کا جسم ، اس کے حواس، مکمل طور پر قائم رہیںگے اور ان پر عذاب نازل ہوتا رہے۔ گویا انسانی زندگی کا خاتمہ ہی نہیں ہوا۔ اگر خاتمہ ہی نہیںہوا تو پھر دوبارہ پیدا ہونا بعید از عقل ہے۔ اس لئے یہ سوال زیادہ درست ہے کہ اس خلاف قرآن نظریہ کو رسول اکرم سے منسوب کس نے اور کب کیا؟ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 29-11-08 at 12:14 PM. |
|
|
|
|
|
#5 | |||||||||||||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے بہت کچھ منسوب کیا جاتا رہا اور کیا جاتا ہے ، اور الحمد للہ اللہ تعالی نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سُنت مبارک کی حفاظت کے لیے ہر دور میں ایسے لوگ مہیا فرمائے جو جھوٹی منسوب شدہ باتوں کو الگ اور سچی منسوب شدہ باتوں کو الگ کرتے چلے آ رہے ہیں ، کسی کو علوم حدیث کی خبر نہ ہو ، اور چند مفروضوں کی حقیقت سمجھے ہو تو اُس کی کم علمی سے حقیقت بدل نہیں جاتی ، محدثین کی لکھی ہوئی کتابیں باقی رہی یا نہیں ، یا سرے سے انہوں نے کچھ لکھا یا نہیں ، لکھائی ، اُن کی جمع کردہ روایت کی درستگی کی دلیل نہیں ، فاروق بھائی ، بلکہ اسناد ہیں ، جو اُن لوگوں کی بے مثال قوت حافظہ کے ذریعے محفوظ اور ایک دوسرے میں منتقل ہوتی چلی آئی ، تدوین حدیث ، اور علوم حدیث کے بارے میں بھائی عبداللہ حیدر نے کافی ، اور کافی اچھا مواد ارسال کیا ہوا ہے ، اُس کا مطالعہ فرمایے ، اور بنیادی اقسام حدیث کی تعریف کے بارے میں کچھ مواد میں نے بھی ارسال کیا تھا ، اُس کا بھی مطالعہ فرمایے ، مزید خدمت کے لیے آپ کا یہ بھائی ان شاء اللہ حاضر ہے ، بھائی صاحب عربی متون ،اور انگریزی تراجم میں سے ، متن ، تعداد ، اور اسناد کا موازنہ نہیں فرمایے ، ورنہ حیران و پریشان ہی رہیں گے ، یوں کیجیے ، کہ کہیں صحیح البُخاری ، صحیح مُسلم ، یا کسی بھی حدیث کی با سند کتاب کے کچھ مختلف مقامات سے طبع شدہ نسخے لیجیے ، اور ایک ایک حدیث کی سند اور متن دیکھتے چلیے ، اور پھر مجھے بتایے کہ متون ، اسناد اور تعداد میں کتنا اور کیسا فرق ملا آپ کو ؟؟؟ آپ سینکڑوں مثالیں تو کیا چند ایک بھی پیش نہیں کر سکتے ان شاء اللہ ، فاروق بھائی ، اگر آپ ایک حدیث کو مختلف محدیثن کی مختلف اسناد کی بنا پر مختلف اور ناقابل اعتماد جانتے ہیں ، تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ علوم حدیث سے بالکل اور بہت دُور ہیں ، معذرت کے ساتھ گذارش کرتا چلوں کہ ، میری اس بات کو ذاتیات پر محمول نہ جائے ، کیونکہ جب آپ """آج سے پہلے """ کے محدثین کی حفاظت حدیث کو """ کوئی اچھی """ حفاظت نہیں مانتے تو خو بخود اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ آپ علوم الحدیث سے کس حد تک واقفیت رکھتے ہیں ؟ جی میں آپ سے اتفاق رائے رکھتا ہوں کہ ہمیں کوئی بھی حدیث اپنانے سے پہلے اُسے اللہ کی کتاب کی کسوٹی پر ضرور پرکھنا چاہیے ، لیکن ، صحیح ثابت شدہ احادیث کو مخالف اور موافق قرار دینے کے لیے وہ تمام علوم سیکھنے چاہیں جن کی ضرور ت ہے ، نہ کہ چند فلسفوں کو اپنا کر صحیح ثابت شدہ احادیث کو رد کرنا چاہیے ، فاروق بھائی ، اس موضوع پر ایک عرصہ سے میری اور آپ کی گفتگو چل رہی ہے ، جو ان شاء اللہ جلد ہی کسی انجام تک پہنچ جائے گی خلاف قران اور موافق قران کو کیسے جانا جائے ، یہاں میں اُس موضوع کو شروع نہیں کرنا چاہتا ، فاروق بھائی ، یہ جو آیت مبارکہ آپ نے نقل کی ہے ، اور اس طرح کی دیگر آیات مبارکہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی اطاعت کی فرضیت کی واضح دلیل ہیں ، ان پر کس طرح عمل کیا جایا ؟؟؟ سنت تو ساری بقول آپ کے محفوظ ہی نہیں ، آج سے پہلے محدثین نے حدیث کی کوئی اچھی حفاظت کی ہی نہیں ، کیا آپ اُس محدث کا نام بتانا پسند فرمائیں گے جِس نے آج سے حدیث کی اچھی حفاظت شروع کی ہو ؟؟؟ اور جس حدیث کی وہ حفاظت کر رہا ہے ، کیا براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے دہن مبارک سے سن رہا ہے ؟؟؟ یا کسی سند کے ذریعے اُس تک پہنچ رہی ہے ؟؟؟ اور اور اور ، کئی سوالات ہیں جو کیے جانے چاہیں تا کہ اُن نئے محدثین یا محدث کی پہچان ہو سکے ، جو """آج کے بعد """ سے حدیث کی """ اچھی حفاظت """ کریں گے ، اور اُن کے قوانین کا بھی علم ہو جائے ، لیکن چونکہ ، عین ممکن ہے سابقہ روایت کے مطابق میرے ان سوالات کو آپ جواب کے قابل نہ قرار دے کر کوئی اور بات شروع کر دیں ، پھر بھی امید رکھتا ہوں کہ شاید کوئی علمی جواب عنایت فرما ہی دیا جائے ، اقتباس:
اقتباس:
ایک دفعہ پھر عرض کرتا ہوں ، میرے محترم بھائی ، تدوین اور تاریخ تدوین حدیث کا مطالعہ کیجیے ، اس موضوع پر آپ سے کافی گفتگو ہو چکی ہے ، فاروق بھائی ، شاید آپ کو پتہ ہی نہیں کہ مُسلمانوں کے پاس ، مکتبہ اُم القُریٰ ، مکتبہ الزاھریہ ، مکتبہ الامویہ ، وغیرہ میں کتنے پرانے پرانے ، مخطوطات یعنی ہاتھ سے لکھی ہوئی چھوٹی بڑی کتابیں اور اُن کے نسخے محفوظ ہیں ، اب اگر آپ """حدیث کی اِن کتابوں میں پایا جانے والا بیشتر مواد""" تین سو سال سے زیادہ پیچھے جا کر ٹریس نہیں کر سکتے تو اس کا یہ مطلب کہاں سے ہوا کہ وہ مواد تھا ہی نہیں ، با الفاظ دیگر آپ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ کتب الحدیث میں پایا جانا والا """بیشتر مواد"""" جھوٹ اور من گھڑت ہے کیونکہ تین سو سال پہلے سے پیچھے اُس کی اصل میسر نہیں ، میرے بھائی ، یہ بہت بڑا دعویٰ ہے ، جو کسی ایک کو نہیں پوری اُمت کے عُلماء کو جُھٹلاتا ہے ، کیا ہی بھلا ہو کہ آپ ہمیں اُس عظیم عالم اور محقق سے متعارف کروائیں جو ایسی عظیم تحقیق لے کر اُمت کو گمراہی سے نکالنے کے لیے آیا ہے ؟؟؟ اقتباس:
یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے صحیح ثابت شدہ منسوب قول ، فعل اور تقریر قران کے خلاف نہیں ہو سکتا ، اور یقینا اللہ نے اپنے فرامین اور احکامات کی قولی اور عملی تفیسر و شرح اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ذات مُبارک سے کروائی ، لیکن ،،، آپ کے فرمان کے مطابق وہ محفوظ نہیں رہ سکی ، کیونکہ """ آج سے پہلے """ محدثین اُس کی """ کوئی اچھی حفاظت """ نہیں کر سکے ، اور """ تین سو سال سے پیچھے احادیث میں بیان کردہ زیادہ تر مواد کی اصل میسر نہیں """ ، تو اب کیا کیجیے ؟؟؟؟ جس کو قران کی جس آیت کی جو سمجھ آئے ، قران کی جیسی سمجھ آئے اُس کے مطابق جو حدیث چاہے مان لے اور جو چاہے خلاف قران کہہ کر چھوڑ دے !!! اقتباس:
جسے آپ """ فلسفہ """ کہہ رہے ہیں ، اور جس کے بارے میں معلومات کی فراہمی میں مدد طلب فرما رہے ، ان شا اللہ آپ کی یہ طلب ابھی آپ کا یہ بھائی پوری کیے دے گا ، اقتباس:
ایک ایسا معاملہ جو قران میں تفصیل سے نہیں ملتا ، اُس معاملے کی تفصیل صحیح احادیث میں ملنے کے بعد آپ اپنی ہی باتوں کی خود ہی مُخالفت کرتے ہوئے صحیح ثابت شدہ احادیث میں بیان کردہ تفصیلات کو """ فلسفہ """ کہہ کر رد کر رہے ہیں !!! کوئی بتائے تو میں کہوں کیا !!! اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
پہلی بات تو یہ کہ اس کا جو ترجمہ آپ نے لکھا ہے وہ درست نہیں ، اللہ ہی جانے اس کا سبب کیا ہے ؟ اور دوسری بات یہ کہ بات اور موضوع کا تسلسل اس سے پہلی والی آیت کے ساتھ مکمل ہوتا ہے نہ کہ صرف اس آیت سے جو آپ نے نقل کی ہے ، آپ کا ایک جزوی بات کو اپنی دلیل بنانا کیا معنیٰ رکھتا ہے یہ آپ ہی بہتر بتا سکتے ہیں ، بھائی جی ، اس آیت سے پہلی والی آیت میں یہ موضوع شروع ہوتا ہے ، اور دونوں آیات کے متن سے موضوع اور مسئلہ کی وضاحت ہوتی ہے ، جبکہ آپ نے پہلی آیت حذف کر کے صِرف دوسری آیت کو اپنی بات کی دلیل بنانے کی کوشش فرمائی ہے ، اور اُس دوسری آیت کا ترجمہ بھی درست نہیں لکھا ،،،، اور باوجود اس کوشش کے ، الحمد للہ کہ صِرف ایک آیت اور آپ کا پیش کردہ ترجمہ بھی آپ کی بات کی دلیل نہیں بنتا ، ملاحظہ فرمایے اللہ تعالی نے فرمایا ہے (((حَتٰى إذا جِاء أحدهُم الموتُ قَال ربِ إرجِعُونِ Oلَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ ::: یہاں تک کہ جب اُن (کافروں )میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے تو وہ کہتا ہے اے میرے رب جو کچھ میں نے چھوڑا (یعنی دُنیا کی زندگی) اُس میں مجھے واپس بھیج دیجیے تا کہ میں اُس میں کچھ نیک عمل کر لوں ، ہر گِز (ایسا) نہیں ہے (کہ یہ پھر وہاں جا کر نیک عمل کرے گا ) یہ تو صرف اُس کے کہنے ( کی حد تک )کی بات ہے ، اور اِن (مر جانے والوں )کے پیچھے سے (دُنیا اور )دوبارہ اُٹھائے جانے کے دِن (کے درمیان )تک پردہ ہے ))) سورت المؤمنون ، آیت 99 ، 100 ، جی تو فاروق بھائی ،اِس مکمل آیت میں وہ بیان ہوا ہے جو ہماری بات کی دلیل ہے ، اور وہ ہے """ عالم ءِ برزخ """، اب مجھے یہ آپ سے یہ دریافت کرنا ہے ، میرے بھائی کہ اس آیت میں مذکور """برزخ """ کیا ہے ؟؟؟ اس کی کیا کیفیت ہے ؟؟؟ اس کی کیا تفصیل ہے ؟؟؟ اور ان سوالات کے جوابات میں کس کی بات مانی جائے گی ؟؟؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ؟؟؟ یا اُن کے مقابلے میں کسی اور کی ؟؟؟ پھر صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی ، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے براہ راست اللہ کلام ہی نہیں سُنا یا ، بلکہ اللہ نے اپنے کلام کے ساتھ ساتھ جو حِکمت نازل فرمائی وہ بھی سِکھائی ، اور ایسی سِکھائی کہ کائنات کا کوئی اُستاد کوئی عِلم و حِکمت اُس طرح نہیں سِکھا سکتا ، یا اُن کے مقابلے میں کسی """ فلسفہ """ اور غیر یقینی ، غیر عِلمی بات کو مانا جائے گا ؟؟؟ اقتباس:
اور نہ ہی اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ دفنائے جانے کے بعد سے ، قیامت کے دِن قبروں میں سے نکالے جانے تک قبر والے مُردہ ہی رہیں گے ، قیامت کے دِن قبروں والوں کو اُن کی قبروں میں سے نکال کر اللہ کی طرف پلٹائے جانے کا ذکر اللہ پاک نے ایک اور لفظ میں بھی فرمایا ہے جِس """ بعث ، یبعث """ کی مزید وضاحت ہے ، """ وَاللَّهُ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَاباً فَسُقْنَاهُ إِلَى بَلَدٍ مَّيِّتٍ فَأَحْيَيْنَا بِهِ الأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا كَذَلِكَ النُّشُورُ ::: اور اللہ وہ ہی ہے جو ہوا بھیجتا ہے جو بادلوں کو لیے چلتی ہے ، تو ہم (اللہ ) اُس کو مُردہ زمین کی طرف چلاتے ہیں اور پھر اُس بادل کے ذریعے زمین کو اُس کی موت کے بعد زندہ کرتے ہیں ، اور اسی طرح (قیامت کے دِن میں ) پلٹنا ہے """ سورت الفاطر ، آیت ۹ ، اور حدیث میں اس کی تفصیل بھی موجود ہے ، جو اس کی تائید ہے کہ """ یبعث """ سے مُراد مُردوں کو زندہ کر کے قبروں سے اُٹھایا جانا نہیں ، بلکہ قبروں والوں کو اُن کی قبروں سے نکالنا ہے ، اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
اقتباس:
جو اللہ تعالیٰ مکمل طور پر نیست و نابود ہو چکے جسموں کے ذرات کو پھر سے وہی بنا سکتا ہے ، جو وہ تھے ، وہ یقینا اس بات پر مکمل قدرت رکھتا ہے کہ وہ کسی بھی کیفیت میں اُنہیں کوئی راحت یا عذاب پہنچائے ، اللہ سُبحانہ و تعالیٰ کسی انسان پر ، کسی ذی رُوح پر موت طاری فرماتا ہے ، اُس کا جسم دُنیا والوں کی نظروں سے غائب کر دیتا ہے ، فنا کر دیتا ہے ، جب چاہے ، جیسے چاہے ، جہاں چاہے ، اُس رُوح کو کسی بھی قِسم کی کیفیت اور ہیئیت میں کوئی بھی احساس و ادراک دے سکتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ یہ سب دُنیا میں بھی کرتا ہے ، برزخ میں بھی کرتا ہے ، اور آخرت میں بھی کرے گا ، جو اللہ تعالیٰ حیوانات و جمادات کو وہ احساس و ادارک دے سکتا ہے جس کا حضرت انسان کو اندازہ بھی نہیں ، تو کسی ایسے کو جس پر دنیاوی زندگی کے مطابق موت طاری ہو چکی ، اُسے اللہ تعالی اس طرح مکمل احساس و ادارک دینے پر پوری طرح سے قادر ہے کہ اُس کے ساتھ کھڑے ہوئے زندہ انسان اُس کے کسی احساس و ادارک کو محسوس نہ کر سکیں ، اب آئیے ، فاروق بھائی میں آپ کو وہ آیات سنا وں جو قبر کے ثواب یا عذاب کی دلیل ہیں ، (1) سورت المؤمنون کی وہ دو آیات جِن پر ابھی ابھی بات ہوئی ہے ، (2) اللہ تعالی کا فرمان ہے ((( فَوَقَاہُ اللَّہُ سَیِّئَاتِ مَا مَکَرُوا وَحَاقَ بِآلِ فِرعَونَ سُوء ُ العَذَابِ O النَّارُ یُعرَضُونَ عَلَیہَا غُدُوّاً وَعَشِیّاً وَیَومَ تَقُومُ السَّاعَۃُ أَدخِلُوا آلَ فِرعَونَ أَشَدَّ العَذَابِ O :::اور اللہ نے اُس( ایمان والے )کو فرعون کی قوم کی مکار یوں سے بچا لیا اور فرعون کے تابع فرمانوں کو بُرے عذاب سےگھیر لیا O (کہ ) وہ سب (ہر ) صُبح اور شام جہنم کے سامنے لائے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہو گی (اُن سے کہا جائے گا، اب اے)فرعونیوں داخل ہو جاؤ اور زیادہ شدید عذاب میں O ))) سورت الغافر ، آیت 45 ، 46 ، فاروق بھائی ، غور فرمایے ، مر چکے فرعونیوں کو بُرا عذاب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ ہر صُبح شام جہنم کے سامنے لاتا ہے ، اور قیامت تک ایسا ہوتا رہے گا ، یہ عالم برزخ میں عذاب قبر کا ایک منظر ہے ، جو خود اللہ تعالیٰ بیان فرما رہے ہیں ، اور صاف سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ اُن فرعونیوں کو اس عذاب کا بالکل ٹھیک اور مکمل طور پر احساس ہوتا ہے ، اگر نہ ہو تو عذاب کیسا ، اور اللہ اُسے عذاب کیوں فرمائے ؟ اور پھر قیامت والے دِن اُس سے زیادہ بڑے عذاب میں داخل ہونےکا کہا جانا اسی صورت میں دُرست ہو سکتا ہے جب کہ ایک چھوٹے عذاب کا احساس ہو ، تب ہی تو وہ لوگ اُس سے بڑے والی بات سمجھ پائیں گے ، اور جان پائیں گے کہ اب تک جو کچھ ملتا رہا وہ کم عذاب تھا اور اب اُس سے بھی زیادہ شدید عذاب میں داخل کیا جا رہا ہے ، کیونکہ جب دو چیزوں میں موازنہ کیا جاتا ہے تو لازم ہے کہ دونوں کی صِفات اور کیفیات کا اندازہ ہو ، فاروق بھائی ، یہ بات اللہ کی ہے کسی اور کی نہیں ، کہ وہ ان فرعونیوں کو ایک برے عذاب میں مبتلا کیے ہوئے ہے ، اور قیامت والے دن تک اس میں مبتلا رکھے گا اور پھر اُس دِن انہیں ، بتا کر سُنا کر ، اُس سے زیادہ شدید عذاب میں داخل کر ے گا ، یہ ایک انتہائی واضح دلیل ہے ، برزخ کی زندگی میں ملنے والے عذاب کی ، اور مزید تفصیلات ، اللہ پاک نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی زُبان مبارک سے بیان کروائی ، جس میں عذاب کی دوسری کیفیات بیان ہوئی ، اور انعامات اور راحتوں کا بیان ہوا ، پس یہ کوئی فلسفہ نہیں ، اللہ کے بیان کردہ ایک مقام میں پیش آنے والے معاملات و واقعات کی خبر اور بیان ہے ،،، ، و للہ الحمد و المِنّۃ ، فاروق بھائی ، جو کچھ کہا گیا ہے ، وہ ایک مُسلمان بھائی کی طرف سے دوسرے بھائی کے لیے نصیحت ہے ، یا د دہانی ہے ، اور اللہ سُبحانہ و تعالیٰ کی شانءِ رحمتءِ بیکراں پر یقین کے ساتھ ہے ، اور اس دُعا کے ساتھ ہے کہ اللہ اسے ہم سب کے لیے خیر و برکت کا سبب بنائے اور بغیر کسی تردد کے حق قبول کرنے کا سبب بنائے ،و السلام علیکم۔ |
|||||||||||||||
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | arslansun (22-02-09), sahj (03-10-09), مرزا عامر (17-09-10), ابرارحسین (29-05-09), احمد غزنوی (05-12-08), ضِرار Derar (04-10-10), عُکاشہ (03-12-08), عروج (10-10-10) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() |
بھائی آپ نے نہ ایک بھی دلیل نہیں دی کہ جزا و سزا یا پھر جنت و جہنم دوبارہ اٹھائے جانے سے پہلے قبر میںہی ملیں گی۔ اور آپ کو آیات کے معانی سمجھنے میں بھی دشواری ہے کہ آپ برزخ یعنی آڑکو زندگی تصور کرتے ہیں۔ اب آپ کے ذمے دو دلائیل ہیں۔
1۔ یہ یادواشت والی کہانی کو اب ایک طرف رکھئے اور اصل قرآن کی طرح ان مشہور محدثین کی اصل کتب پیش کیجئے۔ اور جب تک آپ کے پاس یہ کتب نہیں ہیں ان کو دلیل نہ بنائیے۔ 2۔ برزخ کی زندگی کس آئت سے واضحثابت ہے ، فراہم کیجئے۔ آپ کی بنا احساس کی موت کے بارے میںقرآن کی آیت فراہم کی جاچکی ہے۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#7 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
![]() 23:100 لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ Tahir ul Qadri تاکہ میں اس (دنیا) میں کچھ نیک عمل کر لوں جسے میں چھوڑ آیا ہوں۔ ہر گز نہیں، یہ وہ بات ہے جسے وہ (بطورِ حسرت) کہہ رہا ہوگا اور ان کے آگے اس دن تک ایک پردہ (حائل) ہے (جس دن) وہ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے Ahmed Ali تاکہ جسے میں چھوڑ آیا ہوں اس میں نیک کام کر لوں ہر گز نہیں ایک بات ہی بات ہے جسے یہ کہہ رہا ہے اور ان کے آگے قیامت تک ایک پردہ پڑا ہوا ہے Ahmed Raza Khan شاید اب میں کچھ بھلائی کماؤں اس میں جو چھوڑ آیا ہوں ہشت یہ تو ایک بات ہے جو وہ اپنے منہ سے کہتا ہے اور ان کے آگے ایک آڑ ہے اس دن تک جس دن اٹھائے جائیں گے، Shabbir Ahmed اُمید ہے کہ میں کروں گا نیک عمل اپنی چھوڑی ہُوئی دُنیا میں ہرگز نہیں! یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے۔ اب تو اُن کے پیچھے برزخ ہے اُس دن تک کہ سب دوبارہ اُٹھائے جائیں گے۔ Fateh Muhammad Jalandhary " تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کیا کروں۔ ہرگز نہیں۔ یہ ایک ایسی بات ہے کہ وہ اسے زبان سے کہہ رہا ہوگا (اور اس کے ساتھ عمل نہیں ہوگا) اور اس کے پیچھے برزخ ہے (جہاں وہ) اس دن تک کہ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے، (رہیں گے والسلام |
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
عادل صاحب ۔ سلام مسنون۔
بھائی آپ کے دونوں دلائل آپ کی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ 1۔ پہلی دو آیات صرف اور صرف روحکا ایک آڑ مٰیں جسے برزخکا نام دیا گیا ہے۔ قیامت تک رہنا ثابت کرتی ہیں۔ جسم کو کسی طور بھی عالم برزخ میں نہیںثابت کرتیں اور نہ ہی کسی زندگی کے بارے میں بات کرتی ہیں۔ ان آیات سے جسمانی طور پر جسم کا دوبارہ پیدا ہونا، بناء حساب کتاب کے کسی بھی جزا سزا کا دیا جانا - وغیرہ ثابت نہیں ۔ 2۔ دوسری دو آیات 40:44 اور 40:45 (سورۃ غافر کی آیات 44 اور 45) صرف یہ بتاتی ہیں کہ آل فرعون کو قیامت برپا ہونے پر عذاب دیا جائے گا۔ عربی میںدیکھئے النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ - وہ آگ جس کے آگے یہ (اشارہ ہے آل فرعون کی روحوں کی طرف، مردو مٹی ہوئے جسموں کی طرف کوئی اشارہ نہیں) پیش کئے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ صبح و شام ---- اور جس روز قائم ہوگی الساعۃ۔ تو (حکمیہ طور پر ) داخل کردو ان کو اس شدید عذاب میں (کا حکم دیا جائے گا)۔ اس آیت میں بھی یہ نہیں کہا جارہا کہ ان کو صبح شام عذا ب دیا جاتا ہے۔ بلکہ یہ کہا جارہا ہے کہ ان کو اس النار کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ۔ اس کا مطلب قطعا یہ نہیں کہ یہ لوگ زندگی سے بھرپور اور با حواس ہیں۔ لہذا یہ ممکن ہے یہ ان احساس سے عاری روحوں کو قیامت کے وقت تک ایسے ہی پیش کیا جاتا رہے گا۔ اور جب سب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے تو پھر ان کو دوبارہ اٹھا کر ان کا حساب کتاب کرکے (جیسا کہ دوسری آیات سے ثابت ہے) ان لوگوں کو ان کے دوبارہ پیدا کئے گئے جسموں کے ساتھ جہنم میں داخل کردیا جائے گا۔ والسلام |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | مرزا عامر (17-09-10) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان اللہ تعالی کے احکامات ، قرآن کی شکل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ادا ہوئے۔ قرآن کے علاوہ اللہ اور اس کے رسول کا مشترکہ بیان اور کیا ہو سکتا ہے؟ اقتباس منجانب عادل سہیل: فاروق بھائی ، قُران اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا مشترکہ بیان نہیں ، بڑے بھائی ، یہ صرف اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ، جو تقریبا سارے کا سارا ، جبرئیل علیہ السلام کی زبان سے سُن کر ، مُحمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی زُبان مبارک سے ادا ہوا ، بھائی صاحب آپ کے دریافت کردہ اس فلسفہ ءِ اشتراک میں جبرئیل علیہ السلام کو بھی شامل ہونا چاہیے ، لیکن آپ نے اُن علیہ السلام کا ذِکر نہیں فرمایا ؟؟؟؟ بھائی آپ کو اپنی بات دوسرے الفاظ میں سمجھاتا ہوں۔ قرآن صرف اللہ کا کلام ہے۔ صرف اور صرف اللہ تعالی کا۔ یہ ہم تک اس کے رسول کے ذریعے پہنچا، کوئی بھی دوسرا ذریعہ نہیں تھا اس کی ترسیل کا۔ صرف یہی وہ کلام ہے جو اللہ کا کلام ہے اور رسول کے ذریعے پہنچا۔ اور کوئی بھی کلام ایسا نہیں - جو اللہ کا ہو اور رسول کے ذریعے بھی پہنچا ہو - اب جب اللہ تعالی حکم دیتے ہیں کہ -- 4:59 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو اوراپنے میں سے (اہلِ حق) صاحبانِ اَمر کی، پھر اگر کسی مسئلہ میں تم باہم اختلاف کرو تو اسے (حتمی فیصلہ کے لئے) اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لوٹا دو اگر تم اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو، (تو) یہی (تمہارے حق میں) بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے جی تو اب ہم اللہ اور رسول (دونوں )کی طرف کیسے لوٹائیں گے ؟ یقیناً وہ کلام دیکھیں گے جو اللہ نے فرمایا اور رسول کی زبان سے ہم تک پہنچا۔ اگر کسی بات میں اللہ تعالی کا کلام شامل نہیں تو وہ اس اصول پر پورا کیسے اترے گا؟ یہی خوبی ہے اللہ کے کلام کی کہ اس میں ولیل موجود ہے کہ بندوں کا کلام اس میں جوڑا ہی نہیں جاسکتا۔ بات صرف غور کرنے کی ہے۔ انشاء اللہ تعالی امید ہے ان جوابات سے آپ کی تشفی ہوگی ۔ والسلام |
|
|
|
|
|
#10 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
سمجھ کر بھی نہ سمجھے کوئی تو کیا کیجیے ، جزاک اللہ ، میری دشواری کا احساس کرنے پر ، اللہ آپ کے احساس کی بھی اصلاح فرمائے ، فاروق بھائی ، اگر یہ ہی میں بھی کہوں کہ آپ کو آیات کے معانی اور مفاہیم سمجھنے میں غلطی ہے ، کیونکہ آپ آیات کو صرف تراجم کی روشنی میں ، اپنے اختیار کردہ اُس فلسفے کے مطابق سمجھنا چاہتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرامین ، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے فرامین ، تابعین ، تبع تابعین رحمہم اللہ کے فرامین ، أئمہ اُمت کے متفق علیہ فرامین کے خلاف ہے ، میرے بھائی ، جو آیات میں نے پیش کی ہیں اُن کا مفہوم ان ہی مصادر سے لے کر پیش کی ہیں ، صدیوں بعد آنے والے خود فہمی میں مبتلا مفکران اسلام کے خود ساختہ اور اُمت کے متفق علیہ عقائد کے خلاف بنائے ہوئے فلسفے سے نہیں لیے ، معذرت خواہ ہوں فاروق بھائی ، جب آپ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں تو مجبورا جی چاہتا ہے کہ پہلے آپ کا اور جن کے فلسفوں سے آپ متاثر ہیں اُن کا دینی مبلغ علم جانا جائے ، جانا جائے کہ علوم التفسیر ، اسباب النزول ، ناسخ و المنسوخ ، علوم الحدیث ، علوم الفقہ ، علوم المصطلح الحدیث ، علوم الاصول الفقہ کا کیا مطالعہ ہے ؟ کیا جانتے ہیں کہ اللہ کے فرامین اور احکام کو کس طرح سمجھنا چاہیے ؟ اور، اور، اور، بھائی صاحب ، یہ یاداشت کہانی نہ تھی ، حقیقت تھی لیکن اسے کہانی بنا لیا گیا ، اور کئی بے چارے اِس کہانی کو حقیقت سمجھ کر اسلام کی نصف سے بڑی اصل اور اساس کو ناقابل یقین اور نا قابل اعتماد قرار دیے ہوئے شریعت کے متفق علیہ احکام اور عقائد کی خلاف ورزی کرتے ہیں """ و لَکِنّھُم لا یشعُرُون ::: لیکن وہ اس کا شعور نہیں رکھتے """ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ آپ خود ہی اپنی باتوں کی خلاف ورزی کرتے ہی چلے جاتے ہیں ، اس کے بارے میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں جس کا آپ کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا اور نہ ہی ان شا اللہ آ سکتا ہے ، اب پھر پوچھتا ہوں ، کہ ، اگر محدثین کی اصل کتابوں کا نہ ہونا احادیث کے قبول و رد کا معیار ہے تو کچھ کو آپ قبول کیوں کرتے ہیں اور کچھ کو رد کیوں ؟؟؟ اگر آپ یہ کہیں آپ کے فلسفے کے مطابق جو احادیث آپ کو قران کے موافق لگتی ہیں آپ صرف انہیں ہی قبول فرماتے ہیں تو میں یہ پوچھوں گا کہ ایسی صورت میں پھر محدثین کی اصل کتابوں کے وجود والی شرط کیا ہوئی ؟؟؟ فاروق بھائی آپ ان مندرجہ بالا اور سابقہ سوالات کے علمی جوابات مہیا فرمایے ، پھر میں آپ کے سوالات کے جوابات دوں گا ، ان شا اللہ ، اُن سوالات کا جو اس دھاگے کے عنوان اور موضوع سے متعلق ہیں ، کتابت اور تدوین حدیث کے بارے میں اگر آپ پھر سے گفتگو کرنا چاہیں تو ایک اور دھاگہ کھول لیتے ہیں ، ان شا ء اللہ تعالیٰ اُس میں بات کریں گے ، والسلام علیکم۔ Last edited by عادل سہیل; 08-12-08 at 04:30 AM. وجہ: املا کی درستگی |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 | ||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میری سمجھ کی دشواری کے احساس کا ایک دفعہ پھر شکریہ ، بھائی ، ترجمے سے زیادہ اہم بات ، ایک آیت میں سے جزوی معنی بیان کرنے کی تھی میں نے لکھا تھا ، اقتباس:
و السلام علیکم۔ |
||
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#12 | |||||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
کسی آیت سے کیا ثابت ہے ، یہ ہم نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے سیکھنا ہے ، نہ کہ اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف فلسفے سے ، اقتباس:
""" النـار ::: جہنم """ ، یُعرَضُونَ علیھا ::: وہ لوگ اُس جہنم کے سامنے پیش کیے جائیں گے """ ، """ غُدُوًّا وَعَشِيًّا ::: ہر صبح اور شام """ ، کیوں پیش کیے جائیں گے ؟ تا کہ عذاب کا احساس کر سکیں ، اور پھر ، """ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ ::: اور جس دن قیامت قائم ہو گی """ اپن سے کہا جائے گا ، """ أَدخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ ::: داخل ہو جاو فرعونیو """ ، فاروق بھائی ، یہاں """ أَدخِلُوا """ حُکم کا صیغہ ہے ، اور اس کو دو طرح سے پڑھا جاتا ہے ، اگر ہمزہ کے فتح کے ساتھ پڑھا جائے تو فرشتوں سے خطاب کا معنی دے گا ، اور اگر ہمزہ کے ضمہ کے ساتھ پڑھا جائے تو آل فرعون سے خطاب کا معنی دے گا ، اور دونوں قرات مسلمانوں میں رائج تھیں ، اور ہیں ، کہاں داخل ہو جاو ، """ أَشَدَّ الْعَذَابِ ::: اور زیادہ شدید عذاب میں """ اب اگر آپ کے فلسفے کے مطابق صرف روحوں کو جہنم کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ، جنہیں کسی لذت یا تکلیف کا احساس بغیر جسم کے نہیں ہوتا ، تو پھر """ أَشَدَّ الْعَذَابِ ::: اور زیادہ شدید عذاب میں """ کا کیا مقصد ؟؟؟ یہ سب کچھ میں پہلے بھی کچھ مختلف الفاظ میں عرض کر چکا ہوں ::::: اقتباس:
اقتباس:
اللہ ہم سب کو حق جاننے پہچاننے ، سمجھنے اور اپنانے کی توفیق عطا فرمائے ، والسلام علیکم۔ |
|||||
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 | |||
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
فاروق بھائی اس میں میری بات کو کوئی جواب نہیں ، پہلے آپ نے قران کو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا """ مشترکہ بیان """ قرار دیا ، اور اب اس کی وضاحت میں ، خود ہی اپنے """ بیان """ کی تردید فرما دی ، جی بھائی صاحب ، کوئی شک نہیں کہ قران صرف اوور صرف اللہ کا کلام ہے ، اور کوئی شک نہیں کہ اس کلام کا بہت ہی بڑا حصہ اللہ کیی طرف سے بذریعہ جبرئیل علیہ السلام ، مُحمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم تک پہنچا ، اور پھر محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ذریعے اُن کی اُمت تک ، لیکن صرف یہ ہی وہ کلام نہیں جو اللہ کی طرف سے وحی کی صورت میں محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر اترتا رہا ، وہ کلام جسے براہ راست اللہ کا کلام کہا اور مانا جاتا ہے ، وہ قران میں ہے ، اور اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ارشادات بھی اللہ کی طرف سے کی گئی وحی ہیں ، اور اس بات کی گواہی اللہ تعالی نے خود دہ ہے ، اس موضوع پر میری آپ سے پہلے گفتگو ہو چکی ہے ، اقتباس:
کیا بات کہی ، معاذ اللہ ، اللہ تعالیٰ کو عربی نہیں آتی تھی جو آپ کا مفہوم والی عبارت اتنے دور از قیاس الفاظ میں ارشاد فرمائی ، اگر صرف اپنا ذکر فرماتا اور رسول کا ذکر نہ کرتا ، تو آپ کی تاویل کے مطابق بات ہو جاتی ، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سنت مبارکہ کو ترک کرنے کا حکم ہی دینا تھا تو رسول کا ذکر کرنے کا مقصد ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ اس طرح کا کوئی حکم دے دیتا """ و من لم یحکم بما انزل اللہ ،،،،، ::: اور جو اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہ کرے ،،،،، """ ساتھ رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی اطاعت اور ان کے فیصلے قبول کرنے کے حکم کا یہ ہی مفہوم ہوتا جو آپ نے فرمایا ہے تو پھر رسول کی حیثیت ایک ڈاکیے سے زیادہ نہٰ رہتی ، """ و ما انزلنا الیک الکتاب الا لتبین لھم الذی اختلفوا فیہ و ھدی و رحمۃ لقوم یومنون ::: اور ہم نے آپ کی طرف کتاب صرف اس لیے نازل کی ہے کہ لوگ جس میں اختلاف کرتے ہیں ، آپ (کتاب کے ذریعے ) اُس کی وضاحت فرما دیجیے ، اور ایمان والوں کے لیے (یہ کتاب ہم نے ) رحمت اور ھدایت کے طور پر نازل کی """ جناب ، اللہ تعالی تو اپنی کتاب اور اُس کتاب کی شرح جس کی ذمہ داری اللہ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو سونپی دونوں کو الگ الگ بیان فرماتا ہے ، اور آپ دونوں کو ایک قران ہی قرار دیتے ہیں !!!!!! اللہ کی بات مانیں یا آپ کا فلسفہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی ٓلہ وسلم کی حثیت کو بالکل کچھ اور ہی بنائے دے رہا ہے ، اقتباس:
بات واقعتا بہت ہی غور کرنے کی ہے ، الحمد للہ ، میری تسلی و تشفی اللہ تعالیٰ کے فرامین کی صحیح ثابت شدہ احادیث میں میسر تفسیر سے ہوتی ہے ،اس کے علاوہ سے نہیں ، و السلام علیکم۔ |
|||
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
برادر من، سلام علیکم۔
آپ نے دو عدد اعتراضات اٹھائے ہوئے ہیں۔ 1۔ اختلاف کی صور ت میں رسول اکرم اور اللہ تعالی کی لوٹائے جانے کی مد میں۔ 2۔ برزخ کی مد میں ۔ میں یکے بعد دیگرے آپ کے دونوں اعتراضات کا مناسب جواب فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہوں اس امید اور دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت عطا فرمائیں۔ 1۔ اختلاف کی صورت میںاللہ اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رجوع کرنا۔ 4:59 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو اوراپنے میں سے (اہلِ حق) صاحبانِ اَمر کی، پھر اگر کسی مسئلہ میں تم باہم اختلاف کرو تو اسے (حتمی فیصلہ کے لئے) اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف لوٹا دو اگر تم اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو، (تو) یہی (تمہارے حق میں) بہتر اور انجام کے لحاظ سے بہت اچھا ہے اس مد میں کچھ انسانی احکام پرستوں کا نکتہ نظر یہ رہا ہے کہ اللہ کی --- یا ---- پھر رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات مانو۔ یہ لوگ بہت آسانی سے درج ذیل آیت کی اطلاقی ترجمہ أَطِيعُواْ اللّهَ وَ أَطِيعُواْ الرَّسُولَ کا ترجمہ اللہ تعالی کی اطاعت ---- یا رسول اللہ صلعم کی اطاعت کرتے ہیں۔ جبکہ آپ جانتے ہیںکہ یہاں استعمال ہونے والے وَ کے معنی --- اور -- کے ہیں نہ کہ --- یا ---- اس طرح آپ --- فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ --- کو دیکھئے، کہ اگر کوئی کہے کہ جناب آپ اللہ تعالی کی اطاعت کیجئے اور قرآن میںدیکھئے یا پھر رسول کی اطاعت کیجئے تو کتب روایات میں دیکھئے تو یہ --- یا پھر --- کسی طور بھی درست نظریہ نہیں ہے۔ چونکہ اطاعت کا حکم اور لوٹائے جانے یعنی ریفرنس یا دلیل کے طور پر استعمال کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ کلام اللہ تعالی کا ہو اور رسول نے اس کو ادا کیا ہو۔ میرے ایمان کے مطابق، ایسا کلام جو کہ اللہ تعالی کا ہو ، ہمارے سامنے صرف اور صرف قرآن ہے (ماسوائے اس کلام کے جو قرآن سے پہلے نازل ہوا) ۔ اس کے علاوہ کسی بھی کلام کو اگر کوئی اللہ کا کلام سمجھتا ہے تو یہ اس کا اپنا ایمان ہے۔ آپ کو ترجمہ تو ہمیشہ --- اور --- کے ساتھ ملے گا لیکن اس کے اطلاقی معانی یہ لئے جائیں گے کہ یا تو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں انسانی روایات سے ہدایت لو ---- یا ---- اللہ تعالی سے ہدایت لو۔ بہت سے ایسے بھی ہیں کہوہ صرف روایات سے ہی کام چلا لیتے ہیں ۔ اللہ کےکلام کے نزدیک بھی نہیںجاتے۔ اس برزخوالے معاملے میں بھی کچھ یہی حال ہے۔ کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے برزخکے بارے میں ایسی کہانیاں اور روایات منسوب کی جارہی ہیں --- عذا ب قبر --- کے نام پر جو قرآن سے ثابت ہی نہیں ہیں۔ تو یہ برزخ ہے کیا ، اس کی تفصیل کیا ہے؟ میرا خیال ہے کہ اس بات کو اس صدی سے پہلے سمجھنا بہت ہی مشکل تھا۔ سب سے پہلے تو آپ دیکھئے برزخ کے لغوی معانی ، پھر دیکھئے قرآنی معانی، اور پھر اس کے بعد دنیاوی معانی۔ آپ کو میںنے لفظ تقوی کے معانی بھی یہیں سمجھائے تھے، جس پر آپ نے اعتراضکیا تھا، جس کے جواب میں آپ کو ایک مناسب روایت کا حوالہ دیا تھا۔۔ استدعا یہ ہے کہ آپ اس کو انا کا مسئلہ بنا کر نا پڑھئے، بلکہ اس دعا کے ساتھ پڑھئے کہ اللہ ہم سب کو بہترین ہدایت سے نوازیں۔ 1۔ لغوی معانی۔ چونکہ اللہ تعالی نے قرآن عام فہم عربی زبان میں ادا کیا ، اس لئے ایسا ممکن نہیں کے لفظ برزخکے معانی کوئی نہ جانتا ہو۔ آئیے دیکھتے ہیں لغوی معانی۔ 1۔ برزخ - وقفہ، سکتہ، ربط کا ٹوٹ جانا 2۔ خشکی کا ایک تنگ ٹکڑا یا راستہ جو دو بڑے خشک علاقوں کو ملاتا ہو 3۔ ایک ایسا عنصر جو خراب کنڈکٹر ہو، کہ جس سے ایک طرف کا احساس دوسری طرف نہ ہوتا ہو، جیسے بجلی کا یا حرارت کا غیر موصل 4۔ کسی عمل سے پہلے عمل ، جس کے بارے میں کوئی سوال نہ کیا جائے۔ 5۔ ایک ایسی جالی ، یا پردہ جو ایک جہت سے دوسری جہت کی حفاظت کرتا ہو۔ اب دیکھئے قرآن کے معانی۔ 55:19 مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ اسی نے دو سمندر رواں کئے جو باہم مل جاتے ہیں 55:20 بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ اُن دونوں کے درمیان ایک آڑ ہے وہ (اپنی اپنی) حد سے تجاوز نہیں کرسکتے 25:53 وَهُوَ الَّذِي مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَحِجْرًا مَّحْجُورًا اور وہی ہے جس نے دو دریاؤں کو ملا دیا۔ یہ (ایک) میٹھا نہایت شیریں ہے اور یہ (دوسرا) کھاری نہایت تلخ ہے۔ اور اس نے ان دونوں کے درمیان ایک پردہ اور مضبوط رکاوٹ بنا دی 23:99 حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ (یہ لوگ باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب آن گھڑی ہوگی ان میں سے کسی (کے سر) پر موت تو کہے گا اے میرے مالک! مجھے واپس بھیج دے۔ 23:100 لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ اُمید ہے کہ میں کروں گا نیک عمل اپنی چھوڑی ہُوئی دُنیا میں ہرگز نہیں! یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے۔ اب تو اُن کے پیچھے برزخ ہے اُس دن تک کہ سب دوبارہ اُٹھائے جائیں گے۔ یہاں صرف اتنا کہا جارہا ہے کہ جب ان نہ ماننے والون میں سے کسی کے سامنے موت آجائے گی تو وہ حسرت کرے گا کہ کاش اس کو مزید وقت مل جائے ، لیکن اب وقت نہیںرہا عمل کرنے کا، اب اس موقع سے اور دوبارہ اٹھائے جانے تک اس کی روحایک رکی ہوئی کیفیت میںہے گویا کہ دنیا سے اس وقت تک ایک پردہ ہے جب تک کہ وہ دوبارہ اٹھایا نہ جائے ۔ لہذا اس عالم میں اس کو کسی قسم کا احساس ہونا ممکن نہیں ۔ قرآن زندوں اور مردوں کو بہت صاف صاف واضح کرتا ہے۔ مزید آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ سزا اور جزا یعنی جنت اور جہنم دوبارہ اٹھائے جانے کے بعد ہی ملیںگی۔ اب دیکھئے اس کو جدید ترین معلومات کی روشنی میں۔ آپ اپنے کمپیوٹر کا ایک مکمل بیک اپ بنائیے۔ یہ بیک اپ آپ کسی سی ڈی یا نیٹ ورک پر بنا سکتے ہیں۔ اب اس کمپیوٹر کو تباہ کر دیجئے اور ایک دوسرے نئے کمپیوٹر پر یہی بیک اپ دوبارہ لوڈ کرلیجئے آپ کو اپنا کمپیوٹر پھر سے مل جائے گا۔ اسی طرح انسان ایک کمپیوٹر کی مانند ہے اور اس کی روح ، سوفٹ ویر کی مانند۔ قرآن ہمیشہ انسان پر عذاب یا تو زندہ لوگوں کے بارے میں بتاتا ہے یا پھر دوبارہ اٹھائے جانے پر۔ یعنی عذا ب کے لئے جسم کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ گو کہ ہمارے حساب سے تو ایک مرنے والے کے مرنے کے بعد زمانہ بیت رہا ہے لیکن احساس سے عاری ایک روح جو کہ کسی جگہ محفوظ ہے اس کو وقت کے گذرنے کا احساس نہیں ، لہذا، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے تک کسی وقت کا کوئی احساس نہیں ہوگا۔ یہ بات قرآن سے ثابت ہے۔ لہذا مرنے والے کو ایسا لگے گا کہ ادھر مرا اور ادھر اٹھا۔ یہ اٹھنا دوبارہ اٹھایا جانا ہوگا۔ لہذا اس مرنے والے کو وقت کے کھونے کا کوئی احساس ہی نہیں ہوگا۔ وہ مرنے کے بعد صفر وقت کا احساس رکھے گا۔ چونکہ وقت کا احساس ہی نہیں ہے ، لہذا قبر کے عذاب کا سلسلہ ممکن ہی نہیںہے۔ آپ کے دوسرے آیت کے سیٹ میں یہ کہا جارہا ہے کہ ان کو --- صبح شام --- یعنی ہروقت جہنم کے سامنے رکھا جارہا ہے اور قیامت واقع ہوتے ہی ، ان کا حساب ہوگا اور ان کو جہنم میں ڈال دینے کا حکم دیا جائے گا۔ آپ نے ترجمہ کی وضاحت کی ، معلومات میںاضافہ کا شکریہ۔ لیکن آپ قرآن کے دوبارہ اٹھائے جانے کے تناظر میں ان آیات کو دیکھئے۔ اگر ہم ان آیات سے یہ معانی لیں کہ مردوں کی روحوںپر عذاب جاری ہے تو یہ دوبارہ اٹھائے جانے کے نظریہ کی تردید ہے۔ قرآن کہیں بھی مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے درمیان کسی طور بھی روحپر کسی عذاب کا تذکرہ نہیں کرتا۔ انسانی جسم کو دوبارہ بنانا بھی ایسا کوئی مشکل نہیں۔ آج ایسی ٹیکنالوجی موجود ہے جس کی مدد سے ایٹموں کی مناسب ترتیب دی جا سکتی ہے۔ ابھی یہ ٹیکنالوجی انسانوں کے پاس نئی ہے لیکن ایسا ممکن ہے کہ انسانی ڈی این اے کو دوبارہ بنایا جاسکے اور اس سے پورے جسم کو دوبارہ بنایا جاسکے۔ اللہ تعالی نے یہ بات بہت پہلے قرآن میں کی۔ اس پر ایک آرٹیکل الگ لکھوں گا۔ اب آئیے روح کے بیک اپ کی طرف تو بھائی آپ یہ آرٹیکل دیکھیں۔ اس ٹیکنالوجی سے ایسا ممکن ہے کہ آپ کائنات میں کہیں بھی بناءکسی واسطے کے رئیل ٹائم میں کمیونی کیٹ کرسکیں۔ Photon Quantum Mechanics ایک اور ریفرنس Quantum Photon Polarization Parallel Computer Processing آسان زبان میں ، اس آرٹیکل کے مطابق ، یہ ممکن ہے کہ فوٹان کے جوڑوںکو الگ الگ کیا جاسکے ۔ اس طرح کے جوڑوں کی یہ خاصیت ہے کہ اگر ایک فوٹان کو الگ اور دوسرے فوٹان کو کائنات میںکہیں بھی رکھیں تو ایک فوٹان بیم کی پولارٹی کو دوسری طرف گھمادینے سے دوسرا فوٹان بیم خود بخود دوسری سمت میں گھوم جاتا ہے، اس پر فاصلہ اثر انداز نہیں ہوتا۔۔ جس کی وجہ ابھی معلوم نہیں۔ اس طرح یہ ممکن ہے کہ دو فوٹان کو الگ الگ رکھ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پیغام کو اسی کے اسی وقت بھیجا جاسکے ، اس طرح معلومات صفر وقت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتی ہیں۔ ہم نہیںجانتے کہ انسان کے اعمال اسی یا اس سے بہتر کسی ٹیکنالوجی سے کسی جگہ ریکار ڈ ہورہے ہیں۔ لیکن یہ بات قرآن کہتا ہے کہ ہماری مکمل روح کسی جگہموجود ہے، جس جگہ کے درمیان اور ہمارے درمیان ایک پردہ ہے، اور قرآن روح کے اس ارفع کے بارے میں بھی بتاتا ہے۔ لہذا جہاں تک ہم کو آج تک علم ہے، انسان کا دوبارا بنایا جانا ایک آسان کام ، اس کی روح کو محفوظ رکھا جانا اور اس میں اس کی روح کواس جسم میں دوبارا ڈالا جانا عین ممکن ہے۔ یہ وہ دعوی ہے جو کہ قرآن نے 1400 سے زائید برس پہلے کیا اور آج اس کا ہونا ممکن نظر آتا ہے۔ انشاء اللہ اس کا مظاہرہ ہم قیامت کے بعد دیکھ لیںگے۔ ان تمام نکات کی روشنی میں عذاب قبر کا فلسفہ ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ دوبارہ اٹھائے جانے پر ہی اعمال کے فیصلے کی بنیاد پر ہی جزا اور سزا کا فیصلہ ہوگا۔ والسلام Last edited by فاروق سرورخان; 10-12-08 at 11:14 AM. |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | arslansun (22-02-09) |
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,301
کمائي: 86,555
شکریہ: 1,997
3,504 مراسلہ میں 12,350 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
میں نے اعتراضات نہیں اُٹھائے ، آپ کے فلسفوں کے وضاحت طلب کی تھی ، بہرحال جہاں ذاتی خیالات کی بنا پر اللہ کی بات کا مفہوم کچھ کا کچھ لیا جاتا ہو وہاں مجھ جیسے کی بات کو کوئی بھی نام دیا جانا بعید نہیں ، فاروق بھائی ، بصورت اختلاف مسئلہ کو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف پلٹائے جانے کے حُکم کے بارے میں جو کچھ آپ نے لکھا ، اور اُس کی تا ئید کے لیے """ و """ یعنی """ اور """ کو بمعنیٰ """ أو یعنی یا """ والی بات لکھی ، اور اس کو ایک نامعلوم انوکھی اصطلاح """ اطلاقی معنیٰ """ کے طور پر پیش کیا ،اس پر سوائے حیرت زدہ افسوس کے اور کیا کیا جائے ، ایسی بات تو مجھ جیسا عجمی طالب علم بھی نہیں کر سکتا ، اللہ جانے وہ کون لوگ ہیں جن سے آپ کو یہ بات سننے یا پڑھنے میں ملی ، مجھے تو پچھلے بیس سال کے مطالعے میں کسی اردو عربی تفسیر ، لغت ، اعراب ، وغیرہ کی کتاب میں یہ بودی بات نہیں ملی ، کیا آپ بتانا پسند فرمائیں گے کہ یہ کن لوگوں کا کہنا ہے ؟؟؟ چلیے چھوڑیے ، ایک اور سوال کو صف میں لگانے کا کیا فائدہ ، کسی مسلمان کے بارے میں برا خیال نہیں رکھنا چاہیے ، پس میں یہ خیال کرتا ہوں کہ آپ کی یہ بات آپ نے اپنے فلسفے کے لیے آپ کی ہی طرف سے آپ کے خیالات سے اخذ نہ کی ہو گی ، ہو سکتا ہے آپ کو واقعتا کسی نے ایسی کوئی اطلاع پہنچائی ہی ہو کہ کچھ لوگ """ و """ کو بمعنیٰ """ یا """ لیتے ہیں ، بہر حال اس غیر علمی ، غیر منطقی ، ناقابل اعتماد بہانے کا مصدر کچھ بھی ہو ،آپ تو یہ مانتے ہیں نا کہ اس آیت میں """ و """ کا معنیٰ """ اور """ ہے ، نہ کہ """ یا """ ، پس اس لحاظ سے ترجمے کی حد تک ہم متفق ہیں ، لیکن مفہوم میں اختلاف رکھتے ہیں ، اور اس کے بارے میں پہلے سے کیے ہوئے سوالیہ گذارشات میں سے کچھ دہرانا ہی کافی سمجھتا ہوں ، کہ ::: """ اللہ کے فرامین اور احکامات کو کس کی بات اور عمل کے مطابق سمجھا جائے گا ؟؟؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ؟؟؟ یا اُن کے مقابلے میں کسی اور کی ؟؟؟ پھر صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی ، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے براہ راست اللہ کلام ہی نہیں سُنا یا ، بلکہ اللہ نے اپنے کلام کے ساتھ ساتھ جو حِکمت نازل فرمائی وہ بھی سِکھائی ، اور ایسی سِکھائی کہ کائنات کا کوئی اُستاد کوئی عِلم و حِکمت اُس طرح نہیں سِکھا سکتا ، یا اُن کے مقابلے میں کسی """ فلسفہ """ اور غیر یقینی ، غیر عِلمی بات کو مانا جائے گا ؟؟؟ """" چلیے ان سوالات کو بھی چھوڑیے کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ ان شاء اللہ آپ ان کے کوئی ایسے علمی جوابات نہیں دے پائیں گے جو آپ کے فلسفے کے مددگار ہوں ، آپ اور میں اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ """ أطعیوا اللہ و أطعیو الرسول """ اور """ فَرُدوہُ اِلیٰ اللہ و الرسول """ کا معنیٰ و مفہوم """ اللہ اور اُس کے رسول """ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کی أطاعت کرنا ہے ، """ یا """ والا معاملہ نہیں ، دونوں کی اطاعت لازم ہے کسی ایک کو چھوڑ کر صرف کسی ایک کی اطاعت مکمن ہی نہیں ، بھائی صاحب ، پس اس اتفاق کی موجودگی میں آپ کا مندرجہ بالا یہ فرمان کہ ::: """ اس برزخوالے معاملے میں بھی کچھ یہی حال ہے۔ کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے برزخکے بارے میں ایسی کہانیاں اور روایات منسوب کی جارہی ہیں --- عذا ب قبر --- کے نام پر جو قرآن سے ثابت ہی نہیں ہیں۔ """" اور اس فرمان کو بنیاد بنا کر کی گئی بات ، ہماری گفتگو یا بحث میں کوئی قابل توجہ جگہ نہیں پا سکتے ، کیونکہ اگر کہیں حقیقت میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو """ أطعیوا اللہ و أطعیو الرسول """ میں """ و """ کو بمعنیٰ """ یا """ لیتے ہوں ، تو آپ کی یہ ساری بات اُن لوگوں کے لیے ہے ، اور الحمد للہ نہ میں اُن میں سے ہوں اور نہ آپ ، بھائی جی ، ایک دفعہ پھر آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ ایسی باتیں مت کیا کیجیے جس کا کوئی علمی ثبوت آپ نہیں دے سکتے ، بلکہ جس شاید آپ اُس عِلم کی ابجد بھی نہیں جانتے جس کے ذریعے روایات کی صحت و کمزوری کو جانچا جاتا ہے ، آپ کے ساری اُمت کے مُخالف فلسفے کی بنا پر روایات کو نہیں جانچا جا سکتا ، بھائی صاحب ، کیا آپ نے کبھی سوچا کہ جب آپ کسی روایتءِ حدیث کو بغیر جانے پہچانے ، بغیر جانچے پرکھے """ کہانی """ یا """ منسوب شُدہ """ روایت قرار دیتے ہیں تو کتنے مُلسمانوں کو جھوٹا قرار دیتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ کا حُکم ہے کہ """ ولا تَقف ما لَيس لكَ به عِلم إن السَّمعَ والبَصرَ والفُؤادَ كُل أولئكَ كانَ عَنهُ مَسؤولا ::: اُس (بات اور کام) پر مت رُکو (یعنی اُسے مت کرو )جس کا تمہیں عِلم نہیں ، بے شک سماعت ، بصارت اور دِل سب کے بارے میں سوال ہو گا """ سورت الإسراء ، آیت 36 ، |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے عادل سہیل کا شکریہ ادا کیا | arslansun (22-02-09), sahj (03-10-09), مرزا عامر (17-09-10), ضِرار Derar (04-10-10), عبداللہ حیدر (17-09-10) |
![]() |
| Tags |
| color, پہچان, پسند, قید, قرآن, قرآن حکیم, لوگ, نیند, نماز, موت, مسائل, ایمان, اللہ, بھائی, جھوٹ, حدیث, حسن, دُعا, داڑھی, دریافت, عقل, صحیح, صحابہ, صحت, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ََِِ"" اپنا وزن کم کریں "" | مژگان | فیشن اور بیوٹی ٹپس | 29 | 01-01-12 03:34 AM |
| انٹرنیٹ میں انقلابی سہولتوں کا اضافہ: "بنگ" اور "ویوز" | Hashims | Search Engines | 8 | 02-09-11 03:24 PM |
| اسلامی سکرین سیور """ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ؟ """" | عادل سہیل | اسلام اور معاشرہ | 17 | 23-02-11 08:37 PM |
| سہر ے والوں نے"خوشی" کیلئے تین "جنا زے "تیار کردیے | جاویداسد | خبریں | 1 | 11-11-10 04:27 PM |
| "کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا | حیدر | خبریں | 6 | 11-10-10 04:49 PM |