| آئیے ذہانت آزمائیے آئیے ذہانت آزمائیے |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
ہر مجرم کو اپنی بےگناہی ثابت کرنی ہو گی
یا کوئی اس وقت تک مجرم نہیں جب تک اس پہ کوئی گناہ ثابت نہیں ہوتا۔ ۔ ۔ ۔ ؟؟ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے محمدمبشرعلی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#2 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() ![]() ![]() |
کوئی بھی شخص اس وقت تک مجرم نہیں ہوتا جب تک اس پہ فردِ جرم عائد نہیں ہوجاتی یعنی کہ اس کا جرم ثابت نہیں ہوجاتا ۔
__________________
![]() |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا | حیدر (31-01-10), راجہ اکرام (08-01-10) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلامی تعلیمات کی رو سے بھی اور دیگر قوانین کی رو سے بھی یہ طے ہے کہ
every one is innocent until proven guilty – اور اسلام میں بھی اصل برات ہے جب تک جرم ثابت نہ ہو جائےit is a legal right that the accused in criminal trials has in many modern countries. تفصیلات کے لئے اہل علم کا انتظار
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
|
|
|
| راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (31-01-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: Islamabad
عمر: 44
مراسلات: 2,396
کمائي: 87,046
شکریہ: 1,684
2,007 مراسلہ میں 5,942 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کوئی بھی شخص اس وقت تک ملزم ہوتا ہے مجرم نہیں ہوتا جب تک کہ اس کا جرم ثابت نہیں ہوجاتا ۔
|
|
|
|
| ڈاکٹرنور کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (31-01-10) |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
شکریہ
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2007
مراسلات: 956
کمائي: 31,088
شکریہ: 1,294
713 مراسلہ میں 2,273 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جب تک کسی پر جرم ثابت نہ ہو وہ مجرم نہیںٹھہرایا جا سکتا لیکن اگر کوئی ایک پائی ٹیکس ادا کیے بغیر کروڑ پتی یا ارب پتی بن جائے اور کام بھی کچھ نہ کرتا ہو تو اس سے یہ ضرور پوچھنا چاہیے کہ بھائی میرے "جیل میں رہتے ہوئے یہ اتنی ترقی کیسے کر لی
"
|
|
|
|
|
|
#8 | |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 19,927
کمائي: 298,246
شکریہ: 24,741
15,344 مراسلہ میں 39,164 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
جب پتہ چل گیا کہ یہ ترقی کیسے ہوئی، پھر دیکھا جائے گا کہ ترقی کا طریقہ درست ہے یا غلط پھر فیصلہ ہوگا کہ یہ مجرم ہے یا نہیں۔ |
|
|
|
|
|
|
#10 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: lahore
عمر: 28
مراسلات: 9
کمائي: 496
شکریہ: 21
9 مراسلہ میں 27 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تو کیا ا یک مجر م کو آزاد چھوڑ دیا جاءے ک اس کے خلاف کوئ ثبوت نہیں اور وہ جرم پے جرم کرتا جاءے ایک مرتبہ حضرت علی کے دور میں ایک چور پکرا گیا اس چور نے کہا اس نے پہلی بار چوری کی ہے اسے چھوڑ دیا جاءے تو حضرت علی نے فرمایا کے تم جھوٹ بولتے ھو پہلی غلطی تو ا للہ بھی معاف کردیتا ھے تب جانچ کروائ گئ تو معلوم ھوا کے وہ پہلے بھی چوری کرتا رہا ھے اس لئے اللہ بھی ایسے لوگوں کی ہی پکڑ رکھتا ہے اور ھم جرم ثابت نا ھونے پر اسے چھوڑ دیتں ھیں
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ayesha کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() |
صاحبہ اللہ کمی بیشی معاف فرمائے یہ
یہ آپ(ص) کا ہی دیا ہوا قانون ہے کہ 100 مجرم چاہے چھوٹ جائیں لیکن کسی بے گناہ کو سزا نہیں ملنی چاہیے، اسلام میں مجرموں کے متعلق واضع احکامات ہیں کہ شرپسند لوگوں کر آزاد نہ چھوڑا جائے۔ ۔ ۔ ۔ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے محمدمبشرعلی کا شکریہ ادا کیا | حیدر (31-01-10), راجہ اکرام (31-01-10) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 427
کمائي: 9,115
شکریہ: 139
313 مراسلہ میں 771 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
یہاںتو اس کے برعکس ہی نظر آتا ہے جو مجرم ہیں وہی آقا بنے ہوئے ہیں ۔ جن کے پاس کچھ نہیں ان کو ملزم بنا کر مجرم بنا دیا گیا ہے۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے شریف کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,081
کمائي: 110,108
شکریہ: 12,555
4,514 مراسلہ میں 15,389 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
1- ہر وہ انسان یا ہر ملزم خود جانتا ھے کہ وہ انوسینٹ ھے یا مجرم۔ 2- رہی بات ملزم اور مجرم کی تو یہ معاملہ کورٹ پروسیڈنگ کے بعد کنفرم ہوتا ھے کہ ملزم انوسینٹ ھے یا مجرم ھے۔ تو اس کے لئے مجھے آپ کو تھوڑی کورٹ پروسیڈنگ بتانی پڑے گی۔ کورٹ میں ایک جج ہوتا ھے، کچھ کیس ایسے ہوتے ہیں کہ اگر کسی نے جرم کیا ھے تو وہ جرم یک طرفہ ھے اور اس کے سامنے کوئی نہیں تو اس کا وکیل جج کو اس کی بے گناہی سے ثبوت پیش کرے گا اب اس میں جج کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ ملزم کو یا اس کے وکیل کو اس پر کراس کویسچن کرے تو اس کے لئے اس ملزم کے سامنے کراس کویسچن کرنے کے لئے کورٹ سرکاری وکیل مہیا کرتی ھے جو جج کی طرف سے ملزم کو الٹے سیدھے سوال کرتا ھے، اور اس کی پوری کوشش ہوتی ھے کہ اس کا وکیل اس کے ڈفینڈ میں جو بھی ثبوت فراہم کر رہا ھے وہ ان کو اپنے سوالوں سے چیلنج کرتا ھے۔ جج کا کام یہ ہوتا ھے کہ دونوں وکیلوں کو سننا اور اس پر پوائنٹ لکھنا اور پھر جج جس طرح بھی متمعین ہو جائے اپنا فیصلہ سناتا ھے ملزم کے حق میں یا اس کے خلاف۔ اگر تو ملزم انوسینٹ ثابت ہو گیا تو باعزت بری اور اگر کوئی چارج لگ گیا تو مجرم اور اگر مجرم ثابت ہو جائے تو پھر جو وکیل کورٹ کی طرف سے مخالفت کر رہا ہوتا ھے اس کی فیس بھی مجرم کو ادا کرنی پڑتی ھے۔ 3- کورٹ پروسیڈنگ ایک بہت بڑا جوا ھے جس میں جج ایک بت کا کام کرتا ھے جسے جو دکھایا جاتا ھے اس نے اس پر فیصلہ دینا ہوتا ھے بھلے وہ صحیح اندازہ بھی لگا رہا ہوتا ھے مگر وہ اندازوں پر فیصلہ نہیں دے سکتا۔ اگر کوئی مجرم جس کے پاس پیسہ ھے وہ بڑا سے بڑا وکیل کر کے اس کا وکیل اس ملزم کو انوسینٹ ثابت کر دیتا ھے اور اگر کوئی ملزم جس نے وہ جرم کیا ہی نہیں جسے ملزم بنا کر عدالت میں پیش کیا جا رہا ھے اگر تو وہ سامنے والی پارٹی کی نظر میں کمزور ھے تو سامنے والی پارٹی اپنے پیسہ کے بل بوتے پر مہنگا وکیل ہائر کر کے اس انوسینٹ ملزم کو مجرم ثابت کرنے کے جھوٹے ثبوت عدالت میں پیش کر دیتا ھے جس پر جج اس انوسینٹ ملزم کو مجرم بنا دیتا ھے۔ نوٹ:- تو اسی لئے نمبر 1 والا فارمولا ٹھیک ھے کہ جس میں ملزم کا ضمیر خود کہے کہ وہ ملزم انوسینٹ ھے یا مجرم۔ والسلام
__________________
Last edited by کنعان; 31-01-10 at 02:57 AM. |
|
|
|
|
|
|
#15 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 14,060
کمائي: 75,527
شکریہ: 50,033
10,120 مراسلہ میں 32,014 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جب تک جرم ثابت نہیں ہو جاتا ، تب تک کسی کو مجرم نہیں کہا جا سکتا نہ ہی کسی پر جرم کی حد لاگو کی جا سکتی ہے۔ اسلامی زریں دور میں بارہا مثالیں موجود ہیں جن میں گواہی کی مقدار (گواہ پورے نہ ہونا )پوری نہ ہونے کے سبب ملزم کو چھوڑ دیا گیا۔بے شک وہ بار بار جرم ہی کیوں نہ کرے۔
اگر یہ اصول نہ ہو تو پھر معاشرے میں انارکی پھیل جائے اور انسانی تہذیب تباہ ہو کر رہ جائے۔ خاص کر پاکستانی معاشرےجیسے حالات میں کہ جہاں منافقت،جھوٹ، بہتان،دشنام طرازی، مخالف رہنماؤں پر کیچڑ اچھالنے کی سیاست ہو وہاں پر تصور کریں کہ اگر یہ اصول نہ ہوتا تو پھر ہر کوئی ایک دوسرے کو پھانسی چڑھا چُکا ہوتا۔ اللہ بہتر جانتا ہے۔ہم کچھ نہیں جانتے |
|
|
|
| حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا | راجہ اکرام (31-01-10) |
![]() |
| Tags |
| color, innocent, legal, size, ہوتا, ہوجاتا, فردِ, کوئی, کرنی, پہ, یعنی, وقت, قوانین, مجرم, ؟؟, اپنی, الزام, اسلامی, ثابت, جرم, رو, سوال۔, شخص, علم, عائد |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا | عروج | شاعر مشرق علامہ اقبال | 9 | 15-05-11 01:07 PM |
| سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے | گلاب خان | خبریں | 0 | 09-12-10 06:22 AM |
| بیت اللہ محسود نے خاموشی اختیار کر لی:حکیم اللہ محسود کا دعویٰ | حیدر | خبریں | 6 | 14-08-09 12:01 AM |