واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شعر و شاعری > آئیں شاعری سیکھیں



آئیں شاعری سیکھیں آئیں شاعری سیکھیں


قومی سلطنتوں میں شعرا کی قدر مفید ہوتی ہے مگر شخصی حکومت میں مضر ہوتی ہے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-09-07, 11:47 AM   #1
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,570
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default قومی سلطنتوں میں شعرا کی قدر مفید ہوتی ہے مگر شخصی حکومت میں مضر ہوتی ہے

قومی سلطنتوں میں شعرا کی قدر مفید ہوتی ہے مگر شخصی حکومت میں مضر ہوتی ہے

قومی سلطنتوں میں شعرا کی قدر مفید ہوتی ہے مگر شخصی حکومت میں مضر ہوتی ہے
عرب کے سوا اور ملکوں میں بھی شعرا کی قدر دانی کا ایسا ہی حال رہا ہے۔ قومی سلطنتوں میں جہاں بادشاہ حاکم علی الاطلاق نہیں ہوتا۔ ایسی قدردانیوں سے شاعری بے انتہا ترقی پاتی ہے۔ شاعر جب تک تمام قوم میں مقبول نہیں ٹھہر جاتا سلطنت سے اس کی کچھ تقویت اور امداد نہیں ہوتی اور قوم میں وہی شاعر مقبول ہو سکتا ہے جو شاعری کے فرائض بغیر امید و بیم کے نہایت آزادی کے ساتھ ادا کرتا ہے۔ نہ اس کو سلطنت کی دستگیری کی کچھ پرواہ ہے اور نہ بادشاہ کے مواخذہ کا کچھ خوف ہے۔ لیکن خود مختار سلطنتوں میں شاعر کو ہر حال میں دربار کی رضا جوئی کا لحاظ رکھنا اور آزادی سے دست بردار ہونا پڑا ہے یہاں تک کہ اس کے سچے جوش اور ولولے جن کے بغیر شعر کو ایک قالب بے روح سمجھنا چاہیے۔ سب رفتہ رفتہ خاک میں مل جاتے ہیں۔ نہ وہ اپنے دل کی امنگ سے کسی کی مدح کر سکتا ہے نہ سچے جوش سے کسی کی ہجو لکھ سکتا ہے۔ مروان بن ابی حفصہ جو کہ خلیفہ مہدی کے زمانہ میں مشہور شاعر تھا اس نے معن بن زائدہ کے مرثیہ میں جس کی شجاعت اور سخاوت ضرب المثل تھی یہ شعر لکھ دیا تھا۔


و قلنا این نرحل بعد معن

و قد ذھب النوال فلا نوالا


مہدی نے اس کو دربار میں بلا کر یہ شعر پڑھوایا اور نہایت بے عزتی کے ساتھ دربار سے نکلوا دیا۔ لکھا ہے کہ جعفر برمکی کے سوا پھر کسی امیر یا خلیفہ نے اس کو صلہ نہیں دیا۔ جہاں وہ قصیدہ کہہ کر لے جاتا وہاں سے یہ جواب ملتا “فیاضی تو معن کے ساتھ گئی“۔ جعفر برمکی جس کا ایک زمانہ اور خاص کر شعرا مرہون احسان تھے اس کے مرثیے لکھنے پر بہت سے شاعر ہارون کے حکم سے قتل کیے گئے۔ رقاشی نے اکثر شعرا کے قتل کے بعد خفیہ ایک مرثیہ لکھا تھا، اس کے اخیر میں کہتا ہے:


اما و اللہ لو لا خوف واش

و عین للخلیفۃ لاتنام

لطفنا حول قبرک و استلمنا

کما للناس بالحجرا استلام


ترجمہ: واللہ اگر غماز کا اور خلیفہ کی چشم بیدار کا خوف نہ ہوتا تو ہم تیری قبر کے گرد طواف کرتے اور بوسہ دیتے جیسے کہ لوگ حجر اسود کو بوسہ دیتے ہیں۔

"
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
لوگ, مواخذہ, اللہ, امیر, جواب, حکم, حال, دل, زمانہ, شاعری, علی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
رات اور چاند میں جب سرگوشی ہوتی ہے The Great احمد فراز 3 29-11-11 06:06 AM
مومن کے ہر معاملے میں بھلائی ہوتی ہے۔ میاں شاہد صحیح المسلم 3 07-08-10 10:51 AM
محبت نہ اتنی پاس ہوتی تو دل کو آس ہوتی The Great مزاحیہ شاعری 0 14-09-09 01:37 PM
ہائی نہیں ہوتی The Great شعر و شاعری 0 28-06-08 01:06 PM
محبت کس قدر یاس آفریں معلوم ہوتی ہے میاں شاہد چراغ حسن حسرت 0 12-04-08 04:09 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 03:43 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger