واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شعر و شاعری > آئیں شاعری سیکھیں



آئیں شاعری سیکھیں آئیں شاعری سیکھیں


علمِ عروض - سبق نمبر5

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-08-07, 03:33 PM   #1
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,565
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default علمِ عروض - سبق نمبر5

علمِ عروض - سبق نمبر5

علمِ عروض - سبق نمبر5


بحریں اور وزن


سید تفسیر احمد

اردو میں ایک شعرکےمصرعوں کی لمبای کے لے، دو الفاظ استمعال ہوتے ہیں۔ وزن یا بحردونوں کا مطلب ایک ہی ہے۔ شعر کےدونوں مصرعوں کا وزن ایک ہی ہونا چاہے۔ ہر زبان میں شاعری کی بحر وں کےاصول ہوتے ہیں مثلاًہندی، فارسی اور انگریزی کی شاعری میں ان زبانوں کی اپنی بحریں ہیں۔انگریزی میں بحر کو "میٹر“ کہتے ہیں۔

زیر، زبر اور پیش کی علامتوں کو‘اعراب‘ کہتے ہیں۔ اعراب لفظ کی آواز میں تبدیلی ( حرکت ) لاتے ہیں۔ وہ حروف جن پراعراب ہوں یعنی حرکت یا جنبش ہو ان کو ‘محترک‘ حروف کہتے ہیں وہ حرف جس پر کوئی اعراب یعنی لفظ کی آواز نہ بدلے اس کو ‘ساکن‘ کہتے ہیں۔

ہر لفظ متحرک اور ساکن کے دہرانے سے بنتا ہے۔ مثلاً لفظ ۔ " پَر" میں " پ" متحرک ہے اور" ر" ساکن ۔ لفظ“ کَار“ ۔ میں" ک " محترک " ا " اور" ر" ساکن ہیں۔ ایک لفظ میں چھوٹے یا بڑے حرکات یا تہجی کےارکان (صلےِ بل) ہوتے ہیں۔ ان کی لئے کچھ ماہرشاعری (اَن اسٹریس صلےِ بل ۔ جن ارکان پر آواز نہ بڑھائی جائے ہو ) اور ( اسٹریس صلےِ بل ۔ جن ارکان پر آواز بڑھائی جائے ہو ) کےالفاظ استمعال کرتے ہیں۔ حروف صحیح ( کاسونینٹ ) کے درمیان حروف علت ( واویل ) ' و ، ا ، ی ' کی گنتی سے ہم بتا سکتےہیں کےایک لفظ میں کتنے چھوٹے یا بڑے حرکات ہیں۔ لفظ کا وزن متحرک اور ساکن کی ملاوٹ ہے۔ دو الفاظ، ہم وزن کہلاتے ہیں اگران میں متحرک اورساکن ایک جیسے ہوں ۔
لفظ وزن کےلیےتین شرائط ہیں:

ایک۔ حرف کی تعداد برابر ہو۔

دو۔ دونوں لفظوں میں حرکات اور ساکنات ہوبہو ہوں۔

تین۔ حرف صحیح پر کون سا اعراب استعمال ہو رہا ہےاس سے لفظ کےوزن پرفرق نہیں پڑتا۔

اردو میں بحریں عربی اور فارسی سےآئیں ہیں۔ عربی میں انکی تعداد 16 ہے۔ اردو نے3 بحریں فارسی زبان سےلی ہیں۔ بحروں کو سمجھنے کیلئے عربی کے ارکان کو جاننا ضروری ہے۔ ارکان تعداد میں دس ہیں۔

ارکان

1۔ فاعلن
2۔ فعولن
3۔ فاعلا تن
4۔ مستفعلن
5۔ مفاعلین
6۔ فاع لاتن
7۔ مس فاع لاتن
8۔ مفعولاتن
9۔ متفاعلن
10۔ مفاعلتن

علم عروض میں ایک رکن اور بحر کا نام سالِم ہے۔ سالم کے لغتی مانع ثابت اور مکمل ہیں۔ مشلاً اگر ایک رکن کو ایک مصرعہ میں د ہرائیں ( فاعلن ، فاعلن ، فاعلن ، فاعلن ) تو یہ مصرعہ سا لِم کہلائے گا۔ بحرسالم کو بحر مکرر بھی کہتے ہیں۔ِ
عروض کے ارکان کا تغّیر( تبدیلیاں ) زحِاف کہلاتا ہے۔اگر ایک مصرعہ میں رکنوں کو تبدیل کریں ( فاعِلاتن ، مُستفاعلن ، فاعلن ) تو یہ مصرعہ زحاف یا شِکستہ کہلاتا ہے

استعمال کے لحاظ سے بحر کی دو قسمیں ہیں

1 - مفرد بحر: بحریں جس میں ایک ہی رکن کی تکرار ہوتی ہے - مولانا حالی کا نیچے لکھا ہوا مصرعہ مفرد بحر کی ایک مثال ہے۔ مفرد بحر میں ایک ہی رکن کی تکرار ہے۔ مرادیں غریبوں کی برلانے والا عروض کے ارکان کا تغّیر(تبدیلیاں) - فاعلون فاعلو ن فاعلون

2 - مرکب بحر: بحریں جو ایک سے ذیادہ سے ارکان بنتی ہیں۔انکی مثال ہم بعد میں دیکھیں گے۔

لمبائی کے لحاظ سے بحر کی دو قسمیں ہیں

1۔ مُسمن ( یعنی آٹھ ارکان والی)۔وہ بحریں جن کے ہر مصرعے میں چار ارکان ہوتے ہیں۔شعر کے دونوں مصرعوں کو ملا کر اس میں آٹھ ارکان ہوتے ہیں۔ مرادیں غریبوں کی برلانے والا مسمن بحر کی ایک مثال ہے

2 ۔ مسدّس ( یعنی چھ ارکان والی)۔وہ بحریں جن کے ہر مصرعے میں تین ارکان ہوتے ہیں۔شعر کے دونوں مصرعوں کو ملا کر اس میں چھ ارکان ہوتے ہیں۔ میں مسدس کی مثال بعد میں دوں گا۔اگر کسی بحر کے ہر مصرعے میں تین( 3) کے بجائے چھ ( 6 ) ہوں تو بحر کو پھر بھی مسدس کہا جاتا ہے - اور اگر چار کے بجائے آٹھ 8
ارکان ہوں تو بحر کو پھر بھی مسمن ہی کہتے ہیں لیکن ان کے بعد بیان میں مدائف (یعنی دوگنا) لکھتے ہیں۔

بعض ایسی بحریں ہیں جن کے ہر مصرعے میں چار(4) ارکان اسطرح سے ہوتے ہیں کہ پہلے دو (2) ارکان کی تکرار سے ان کی تشکیل ہوتی ہے۔ مثلاً عروض کے ارکان کا تغّیر(تبدیلیاں) فاعیلاتون - فاعلو ن - فاعیلاتو ن - فاعلو ن - ایسی بحر کو بحرِ شکستہ یا بحرِمکرر کہتے ہیں۔ پروفیسرعابد: آپ لوگ اس چارٹ کو کچھ دیر غور سے دیکھیں۔ ہر شحص صرف ایک دفعہ جواب دے گا۔
پروفیسرعابد : شاعری کے کتنے ارکان ہوتے ہیں؟
رفعت: شاعری کے ' دس' ارکن ہیں
پروفیسرعابد : اس چارٹ میں پہلے دو ارکان کیا ہیں؟
شبنم: فاعلن او ر فعولن
پروفیسرعابد: فاعلن اور فعولن میں کتنے حروف ہیں؟
اظہر: ان دونوں میں پانچ ، پانچ حروف ہیں ۔
پروفیسرعابد : فاعلن کی ہجے کیا ہے؟
سادیہ: فَ ۔ ا ۔ عِ ۔لُ ۔ ن
پروفیسرعابد : فا علن میں کتنے گروپ نظر آتے ہیں؟
بتول: پانچ حروف کو لال اور نیلے رنگ سے دو گروپ میں علحیدہ کیا گیا ہے
پروفیسرعابد : پہلے اور دوسرے گروپ میں کتنے حروف یکجا ہیں؟
ندیم : پہلے گروپ میں ' دو ' اور دوسرے گروپ میں ' تین ' حروف ہیں۔
پروفیسرعابد : لال اور نیلے گروپ کی کیا خصوسیت ہیں؟
تفسیر: پہلے گروپ میں پہلے حروف ' ف ' پر زبر ہے اس لئے یہ متحرک ہے اور دوسرا ' ا ' ساکن ہے ۔ دوسرے گروپ یں پہلے د و حروف ' ِعِ ' اور ' لُ ' متحرک ہیں اور متحرک ' ن ' ساکن۔ ہے ۔
پروفیسرعابد : یہ سوال سب کیلئے ہے ۔ جن کو جواب کا پتہ ہے اپنے ہاتھ بلند کریں۔ فاعلن اور فعولن کے جن حرفوں سے بنے ہیں ان میں آپ کو کیا فرق نظر آتا ہے؟
چند لوگوں نے اپنے ہاتھ اُٹھائے۔ پروفیسر نے نگہت کو اشارا کیا۔
نگہت: میں یہ سمجھتی ہوں کے فعولن اور فا علن ایک دوسرے کے تضاد ہیں۔ یعنی وہ ایک دوسرے کے الُٹے ہیں۔
پروفیسر نے زاہد سے پوچھا کیا نگہت صحیح کہتی ہیں؟
بلکل صحیح کہتی ہیں۔ یہ میری بڑی بہن ہیں اور مجھے گھر جا کر پیٹنا نہیں ہے۔ زاہد بولا
ساری کلاس ہنسنے لگی۔
زاہد بولا ۔ مگر جب میں غور سے دیکھتا ہوں تو مجھے

فَاعِلُن میں
متحرک ۔ ساکن ۔ متحرک ۔ متحرک ۔ ساکن

فَعُولُن میں
متحرک ۔ متحرک ۔ ساکن ۔ متحرک ۔ساکن

پرو فیسر عابد نے کہا چلو ہم ان دونوں گروپ کو آسانی کے لئے نام دے دیتے ہیں۔دو حرفی لفظ کو ' سبب ' کہتے ہیں اور سہ حرفی لفط کو ' وتد' کہتے ہیں - اب ہم ان دو الفاظ کا مطالحہ کرتے ہیں۔ جَل ،گیا.

دو حرفی لفظ
متحرک ۔ساکن ۔ متحرک ۔ساکن

سہ حرفی لفط
متحرک ۔ متحرک ۔ ساکن ۔ متحرک ۔ساکن

چلیں ان لوگوں سے سوال کی جائےگا جنہوں نے تبادلہ خیال میں اب تک حصہ نہیں لیا۔
پروفیسرعابد : تمہارا نام کیا ہے ؟
' ارسلان ' سر
پروفیسرعابد : اسلان ۔ جل میں کتنے حروف ہیں؟ اور وہ کیا ہیں؟
ارسلان: دو ۔ج اور ل ۔ ج متحرک ہے اور ل ساکن
]پروفیسرعابد : بہت اچھا۔ اور آپ کون ہیں؟
'نسرین، سر
پروفیسرعابد : گیا میں کتنے حروف ہیں؟ اور وہ کیا ہیں؟
نسرین: تین۔گَ۔یَ۔١ ۔ پہلے دو گ اور ی متحرک ہیں اور ١ ساکن
تفسیر تم یہا ں آو اور تحت سیاہ پر فاعلن کی ہجے اسطرح لکھو کے حروف میں فاصلہ ہو۔
میں نے ہجے اسطرح لکھی -

فَ ا عِ لُ ن

اب ہم ان کے نیچے جل گیا لکھیں گے۔ ارسلان تم اس کے نیچے جل کی ہجے لکھو

فَ ا عِ لُ ن
جَ ل ۔ ۔ ۔
پروفیسرعابد: ارسلان تم نے ج کو ف کے نیچے کیوں لکھا -
ارسلان : اسکی دو وجوہات ہیں ایک تو ج دو لفظوں میں پہلا لفظ ہے اور دوسرے یہ متحرک ہے۔

پروفیسرعابد: نکہت اب اسےمکمل کرو اور تم گیا لکھو
فَ ا عِ لُ ن
جَ ل گَ یَ ا

پروفیسرعابد: بتول تم گیا جل کو فاعلن کے وزن میں لکھو

فَ ا عِ لُ ن
گَ یَ ا جَ ل



پروفیسر عابد نے سوال کیا۔ کیا ہر شخص کی سمجھ میں یہ آیا؟
ساری کلاس نے ایک ساتھ کہا۔ جی
اچھا اب تک جو ہم نے سیکھا ہے اس کا استمعال کرتے ہیں۔میں نے گروپ آپ کے لئے الگ کر دئے ہیں۔
پروفیسرعابد : اس شعر کی وزن جاننے کیلئے کچھ قداعد کے اصول ضروری ہیں۔
اصول : فارسی کے الفاظوں میں و کا استعمال :۔اگر 'و ' 'خ' کے بعد آتا ہے تو اسکو خارج کردیتے ہیںاور پیش استعمال کرتے ہیں اور 'و ' وزن میں حصہ نہیں لیتا۔ یہ الفاظ قواعد استثنا ہیں: خوب ، خون ، خوف
اصول : خیر میں 'ی' کی آواز نہیں سننائی دیتی۔ اسلئے مشاعروں میں جا کر شاعروں کو سننا ضروری ہے تاکہ آپ الفاظوں کی آوازیں پہچان سکیں۔
اصول : مرکب لفظوں کو منفرد میں تقسیم کرسکتے ہیں اسلئے ' آ ' کو ' اـ + ا ' میں توڑ سکتے ہیں۔ لیکن منفرد لفظوں کو ملا نہیں سکتے۔
اصول : لفظ کے آخیر میں 'ں ' وزن میں حصہ نہیں لیتا۔

مثال نمبر 1
بے خودی / تو ہے آ / خر بتا / کیا کریں

بے خودی / تو ہے آ / خیر بتا / کیا کریں
فَاعِلُن / فَاعِلُن / فَاعِلُن / فَاعِلُن
بِ ے *خُ دِ ی / تُ و ہَ ے *اَ ا / خِ ر بَ تَ ا / کیِ ا کَ رَ یِ

* یہاں ہم نے مرکب لفظ آ کو اَ اور ا میں توڑا ہے۔

مثال نمبر 2
ہو گے / ہم خود / سے جدا / کیا کریں
ہو گے / ہم خود / سےجدا / کیا کریں فَاعِلُن / فَاعِلُن / فَاعِلُن / فَاعِلُن
ہ و گ یَ ے / ہَ م خ و د / سِ ے جَ دَ ا / کیِ ا کَ رَ یِ



الف - یہ ترتیب غلط ہے۔ صحیح جوڑ ملاؤ

اعراب = جن میں کوئی جنبش نہ ہو
ساکن = وہ حروف جن پر اعراب ہوں
16 بحریں = فارسی سے آئیں ہیں
متحرک = زیر، زبر اور پیش کی علامتوں کو کہتے ہیں
مفرد = بحر ہر مصرعے میں تین( 3 ) کے بجائے چھ ( 6 ) ارکان ہو تے ہیں
3 بحریں = عربی سے آئی ہیں
مسمن = ایک رکن کو شعردونوں مصرعہ میں دہرائیں
شکستہ = ایک شعر میں کے دونوں مصروں میں چار چار ایک ہی رکن دُہرایا گیا ہےہو
سالم = ایسی بحریں ہیں جن کے ہر مصرعے میں چار(٤) ارکان اسطرح سے ہوتے ہیں کہ پہلے دو (٢) ارکان کی تکرار سے ان کی تشکیل ہوتی ہے -
مرکب = بحریں جو ایک سے ذیادہ ارکان سے بنتی ہیں
مسدس = وہ بحریں جن کے ہر مصرعے میں تین ارکان ہوتے ہیں۔شعر کے دونوں مصرعوں کو ملا کر اس میں چھ ارکان ہوتے ہیں۔
مدائف = بحریں جس میں ایک ہی رکن کی تکرار ہوتی ہے۔

1- فارسی کے الفاظ میں و کا استعمال :۔
اگر' و ' خ کے بعد آتا ہے تو اسکو خارج کردیتے ہیں اور پیش استعمال کرتے ہیں اور 'و ' وزن میں حصہ نہیں لیتا.

الفاظ قواعد استثنا (exceptions)ہیں: خوب ، خون ، خوف

2 - خیر میں ' ی' کی آواز نہیں سننائی دیتی۔ اسلئے مشاعروں میں جا کر شاعروں کو سننا ضروری ہے تاکہ آپ الفاظوں کی آوازیں پہچان سکیں۔

3 - مرکبلفظوں کو منفرد میں تقسیم کرسکتے ہیں اسلئے ' آ ' کو ' ا + ا ' میں توڑ سکتے ہیں۔ لیکن منفرد لفظوں کو ملا نہیں سکتے۔

4 -لفظ کے آخیر میں ' ں ' وزن میں حصہ نہیں لیتا۔

(پ) دس اراکین اور ان کی ہجے لکھے

مثال:
رکن = فَاعِلنُ
ہجے = فَ ا عِ لُ ن

(ت) پیٹرن
فَاعِلُن فَاعِلُن فَاعِلُن فَاعِلُن

مثال نمبر 2
ہو گے / ہم خود / سے جدا / کیا کریں
ہو گے / ہم خود / سےجدا / کیا کریں فَاعِلُن / فَاعِلُن / فَاعِلُن / فَاعِلُن
ہ و گ یَ ے / ہَ م خ و د / سِ ے جَ دَ ا / کیِ ا کَ رَ یِ

زندگی ایک کا فر ادا کیا کریں

بات بے بات جب ہوں خفا کیا کریں
ہم بیاں آپ سے مددعا کیا کریں

عا شقی ہے کہ ہے ایک بلا کیا کریں
کوئی بتلا ئے بحر ِ خدا کیا کریں

دل کو ضد ہے کہ کوہِ ملام کیا کریں
رک کر ہم قیامت بپا کیا کریں

درد بڑھ تا گیا دن گزر کیا کریں
روکا کب وقت کا قافلہ؟ کیا کریں

جان شعروں میں تیرے نہیں کیا کریں
لوگ پھر مرحبا مرحبا کیا کریں


خواجہ میردرد
1785-1721



خواجہ میردرد محبت اور سوز و گداز کے شاعر تھے انکو دہلی کے انداز کی شاعری میں میر تقی میر اور میر سودا کے برابر کا درجہ حاصل ہے۔ خواجہ میردرد ایک مجذوب تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ ظاہری دنیا دائمی دنیا کا نقاب ہے اور ہم سب اپنے وطن (دائمی دنیا) سے جلاوطن ہوئے ہیں



- 1 -

تجھ کو جو یہاں جلوہ فرما نہ دیکھا
برابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا

میرا غنچہِ دل ہے وہ دل گرفتہ
کے جس کو کسو نے کبھی وانا دیکھا

عزت محبت ملامت بلائن
تیرے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا

کیا مجھ کو داغوں نے سردیِ چراغاں
کبھو تو نا آکر تماشہ نہ دیکھا

تغافل نے تیرے یہ کچھ دن دیکھا
ادھر تو نے لیکن دیکھا نہ دیکھا

ہجابِ رخِ یار تھی آپ ہی ہم
کھلی آنکھ جب کوئی پردہ نہ دیکھا

شب و روز اے درد رپاے ہوں ان کے
کسو نے جسے یان سمجھا نہ دیکھا


- 2 -

میرا جی ہے جب تک تیری جستجو ہے
زبان جب تلک ہے یہی گفتگو ہے

خدا جانے کیا ہو گاانجام اس کا
میں بے صبرا اتنا ہوں وہ تند خو ہے

تمنا ہے تیری اگر ہے تمنا
تیری آرزو ہے اگر آرزو ہے

کیا سیر ہم نے گلزارِ دنیا
گلِ دوستی میں عجب رنگِِ بو ہے

غنیمت ہے یہ دید وا دیدِیاراں
جہان مند گی انکھ، میں ہوں نہ تو ہے

نظر میرے دل کی پڑی درد کس پر
جدھر دیکھتا ہوں وہی روبرو ہے
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
saadi (13-11-07), shafresha (27-03-10), نورالدین (27-03-10), راجہ اکرام (28-03-10)
پرانا 01-09-07, 05:20 PM   #2
Administrator
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: دل
مراسلات: 2,759
کمائي: 8,483
شکریہ: 0
560 مراسلہ میں 1,026 بارشکریہ ادا کیا گیا
زبیر کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کیا کمال سلسلہ شروع کیا ہے فوٹو ٹیک بھائی آپ نے
زبیر آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 22-09-07, 08:08 PM   #3
Senior Member
 
ایم اے راجا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: Mirpurkhas, Sindh
عمر: 38
مراسلات: 391
کمائي: 700
شکریہ: 25
121 مراسلہ میں 166 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایم اے راجا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایم اے راجا کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: علمِ عروض - سبق نمبر5

خرم بہت محنت کی ہے اور ہمارا دل جیت لیا ہے واہ واہ۔۔۔۔
ایم اے راجا آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 22-09-07, 08:46 PM   #4
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,565
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: علمِ عروض - سبق نمبر5

بہت شکریہ جناب آپ کا میں نے تو یہ تلاش کر کے یہاں ارسال کیے ہیں محنت تو ان کی ہے جن صاحب نے یہ لکھے ہیں
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 27-03-10, 08:59 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: یہیں کہیں آس پاس
مراسلات: 1,869
کمائي: 41,090
شکریہ: 10,636
1,419 مراسلہ میں 4,361 بارشکریہ ادا کیا گیا
نورالدین کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں نورالدین کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Smile دوسروں کی کاوش کا فائدہ

ماشاء اللہ خرم شہزاد خرم بھائی
آپ کے اس پرانے کاوش کی مجھے اب ضرورت پڑی ہے
اور میں نے اپنے ایک ڈرامہ پراجیکٹ کے لیے اس سے فائدہ اٹھا یا ہے
فی االحال اپنی وہ شاعری دکھا نہیں سکتا کیوں کہ کچا پن بہت ہے صرف ذہن کو رواں کرنے کے لیے لکھا ہے ۔

مگر یہ سن کر حیرت ہو رہی ہے کہ آپ تفسیر احمد صاحب کا تذکرہ ایک اجنبی کی حیثیت سے کر رہے ہیں
تفسیر احمد صاحب ہمارے ملک کے سائنسی ،ادبی ، تحقیقاتی اور علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں
میں ان کے رسالے ماہ نامہ گلوبل سائنس کا پرانا قاری ہوں
خاص کر نظام تعلیم پر ان کے ادارے کے تنقیدی مضامین بھی میں دل چسپی سے پڑھتا ہوں ۔۔
آپ نے غالباً ان کے کسی ویب سائٹ سے یہ مضامین اٹھائے ہیں
مگر ایک گزارش تھی کہ اس قسم کی محنتوں کو جب آپ دوسرے فورم پر لکھ رہے ہیں تو ان سے اجازت بھی لے لیا کریں ۔
نام لکھ کر آپ نے ماشا ء اللہ بہت ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے مگر کیا آپ نے اس سے پہلے ان سے اجازت لی ہے
کیوں کہ میں نے بھی ان سے ان کے "گلوبل سائنس " سے کچھ تحریروں کو دوسری جگہوں پر چھاپنے کے لیے اجازت مانگی تھی جو انہوں نہیں دی ( اور ان کا موقف بھی صحیح تھا ) با وجود اس کے میرا بھی ایک مضمون ان کے ماہ نامے میں چھپا تھا ۔۔۔جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کاپی رائٹ کے معاملے میں کافی سخت واقع ہوئے ہیں ۔۔


اور ایک بات اور وہ یہ کہ ان مضامین کو رنگوں سے بھی آراستہ کر دیں جیسے
استاد کے الفاظ الگ رنگ میں اور طلباء کے الفاظ الگ رنگ میں او خاص الفاظ و معانی الگ رنگ میں ۔۔
امید ہے آپ میری باتوں پر برا نہیں منائیں گۓ۔۔
__________________
انسان کو زندگی میں وہی کام کرنا چاہیے جس کی اسے ضرورت ہو ۔
نورالدین آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نورالدین کا شکریہ ادا کیا
پرانا 29-03-10, 04:24 PM   #6
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,565
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نورالدین مراسلہ دیکھیں
ماشاء اللہ خرم شہزاد خرم بھائی
آپ کے اس پرانے کاوش کی مجھے اب ضرورت پڑی ہے
اور میں نے اپنے ایک ڈرامہ پراجیکٹ کے لیے اس سے فائدہ اٹھا یا ہے
فی االحال اپنی وہ شاعری دکھا نہیں سکتا کیوں کہ کچا پن بہت ہے صرف ذہن کو رواں کرنے کے لیے لکھا ہے ۔

مگر یہ سن کر حیرت ہو رہی ہے کہ آپ تفسیر احمد صاحب کا تذکرہ ایک اجنبی کی حیثیت سے کر رہے ہیں
تفسیر احمد صاحب ہمارے ملک کے سائنسی ،ادبی ، تحقیقاتی اور علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں
میں ان کے رسالے ماہ نامہ گلوبل سائنس کا پرانا قاری ہوں
خاص کر نظام تعلیم پر ان کے ادارے کے تنقیدی مضامین بھی میں دل چسپی سے پڑھتا ہوں ۔۔
آپ نے غالباً ان کے کسی ویب سائٹ سے یہ مضامین اٹھائے ہیں
مگر ایک گزارش تھی کہ اس قسم کی محنتوں کو جب آپ دوسرے فورم پر لکھ رہے ہیں تو ان سے اجازت بھی لے لیا کریں ۔
نام لکھ کر آپ نے ماشا ء اللہ بہت ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے مگر کیا آپ نے اس سے پہلے ان سے اجازت لی ہے
کیوں کہ میں نے بھی ان سے ان کے "گلوبل سائنس " سے کچھ تحریروں کو دوسری جگہوں پر چھاپنے کے لیے اجازت مانگی تھی جو انہوں نہیں دی ( اور ان کا موقف بھی صحیح تھا ) با وجود اس کے میرا بھی ایک مضمون ان کے ماہ نامے میں چھپا تھا ۔۔۔جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کاپی رائٹ کے معاملے میں کافی سخت واقع ہوئے ہیں ۔۔


اور ایک بات اور وہ یہ کہ ان مضامین کو رنگوں سے بھی آراستہ کر دیں جیسے
استاد کے الفاظ الگ رنگ میں اور طلباء کے الفاظ الگ رنگ میں او خاص الفاظ و معانی الگ رنگ میں ۔۔
امید ہے آپ میری باتوں پر برا نہیں منائیں گۓ۔۔
نورالدین صاحب السلام علیکم
جناب آپ نے تاریخ تو دیکھی ہو گی 30-08-07, 10:33 کہ یہ کتنا پُرانا مضمون ہے اصل میں یہ مضمون جناب استادِ محترم تفسیر صاحب کی آنے والی کتاب سے اقتباس ہے جو کہ مضمون کی شکل میں ہے
اصل میں یہ مضمون اس وقت کا ہے جب تفسیر صاحب اردو محفل پر ہوا کرتے تھے اور انھوں نے اپنی کتاب تقریباََ اردو محفل پر پوسٹ کی ہوئی تھی اس کے علاوہ دانشکدہ پر بھی ان کی یہی کتاب موجود ہے اور اب القم پر بھی موجود ہے اور جہاں تک اجازت کی بات ہے اور جہاں تک مجھے یاد ہے کہ میں نے ان سے اجازت لی ہوئی تھی بہت پہلے جب میرا ان سے رابطہ تھا اب تو میں ابوظہبی میں آ گیا ہوں اس لیے ان سے رابطہ نہیں‌رہا آپ کی تسلی کے لیے آج پھر ان کو فون کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور پھر ان سے اجازت لیتا ہوں پھر آپ کو بتاؤں گا انشاءاللہ
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (29-03-10), نورالدین (29-03-10)
جواب

Tags
فوٹو, کمال, ٹیک, پہچان, قواعد, لوگ, نکہت, نظر, مکمل, میر تقی میر, محبت, بھائی, تلاش, جیت, جواب, خون, خدا, خرم, دل, سودا, شاعری, شخص, عشق, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:59 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger