| آئیں شاعری سیکھیں آئیں شاعری سیکھیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,565
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
عرب میں شعرا کی قدر
شعرا کی قدر تمام دنیا میں ہمیشہ سے ہوتی آئی ہے۔ سلطنتوں نے ہمیشہ ان کی قدر کی ہے اور قوموں نے ان کے دل بڑھائے ہیں۔ عرب میں شاعر قوم کی آبرو سمجھا جاتا تھا۔ جب کسی قبیلہ میں کوئی شخص شاعری میں ممتاز ہوتا تھا تو اور قبیلوں کے لوگ اس قبیلہ کو آ کر مبارک باد دیتے تھے اور سب مل کر خوشیاں کرتے تھے۔ قبیلوں کی عورتیں اپنے بیاہ کے زیور پہن کر آتی تھیں اور فخریہ اشعار گاتی تھیں کہ ہم میں ایسا شخص پیدا ہوا جو تمام قبیلہ کی ناک رکھنے والا، ان کے نسب اور زبان کی حفاظت کرنے والا اور ان کے کارہائے نمایاں اخلاف و اعقاب تک پہنچانے والا ہے۔ شعرا کی ناز برداری یہاں تک کی جاتی تھی کہ اگر وہ کوئی محال سوال کر بیٹھتا تو بھی صراحتاً اس کو رد نہ کیا جاتا تھا۔ ایک بار اعشٰی بہت سا مال و اسباب لیے بلاد بنی عامر میں ہو کر گزرا اور رہزنوں کے خوف سے اثنائے راہ میں علقمہ بن علاثہ کے ہاں ٹھہر گیا اور پناہ چاہی۔ اس نے بسر و چشم قبول کی۔ا اعشٰی نے کہا تو نے مجھے جن و انس سے پناہ دی؟ علقمہ نے کہا ہاں۔ اعشٰی نے کہا اور موت سے؟ وہ بولا یہ تو امکان سے خارج ہے۔ اعشٰی وہاں سے ناراض ہو کر عامر بن الطفیل کے ہاں چلا گیا۔ اس نے دونوں باتوں کی حامی بھر لی۔ اعشٰی نے کہا موت سے کیونکر پناہ دی؟ کہا میری پناہ میں تجھے موت آ جائے گی تو تیرا خونبہا تیرے وارثوں کو بھیج دوں گا۔ اعشٰی بہت خوش ہوا اور اس کی مدح میں قصیدہ کہا اور علقمہ کی ہجو لکھی۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|