واپس چلیں   پاکستان کی آواز > اردو ادب اورشاعری > شعر و شاعری > آئیں شاعری سیکھیں



آئیں شاعری سیکھیں آئیں شاعری سیکھیں


شعر کی ماہیت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-09-07, 12:03 PM   #1
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,565
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default شعر کی ماہیت

شعر کی ماہیت

شعر کی ماہیت شعر کی بہت سی تعریفیں کی گئی ہیں۔ مگر کوئی تعریف ایسی نہیں جو اس کے تمام افراد کو جامع اور مانع ہو دخول غیر سے۔ البتہ لارڈ مکالے نے جو کچھ شعر کی نسبت لکھا ہے گو اس کو شعر کی تعریف نہیں کہا جا سکتا لیکن جو کچھ شعر سے آج کل مراد لی جاتی ہے اس کے قریب قریب ذہن کو پہنچا دیاتا ہے وہ کہتے ہیں کہ " شاعری جیسا کہ دو 8 ہزار برس پہلے کہا گیا تھا ایک قسم کی نقالی ہے جو اکثر اعتبارات سے مصوری، بت تراشی اور ناٹک سے مشابہ ہے مگر مصور بت تراش اور ناٹک کرنے والے کی نقل شاعر کی نسبت کسی قدر کامل تر ہوتی ہے شاعر کی کہ کسی چیز سے بنی ہوئی ہے؟ الفاظ کے پرزوں سے، اور الفاظ ایسی چیز ہیں کہ اگر ہومر اور ڈینٹے جیسے صناع بھی ان کو استعمال کریں تو بھی سامعین کے متخیلہ میں اشیائے خارجی کا ایسا صحیح اور ٹھیک نقشہ اتار سکتے جیسا موقلم اور چھینی کے کام دیکھ کر بارے میں خیال اترتا ہے۔ لیکن شاعر کا میدان وسیع اس قدر ہے کہ بت تراشی، مصوری اور ناٹک یہ تینوں رن اس کی وسعت کو نہین پہنچ سکتے۔ بت تراش فقط صورت کی نقل اتار سکتا ہے۔ مصور صورت کے ساتھ رنگ کو بھی جھلکا دیتا ہے اور ناٹک کرنے والا بشرطیکہ شاعر نے اس کے لیے الفاظ مہیا کر دیے ہوں صورت اور رنگ کے ساتھ حرکت بھی پیدا کر دیتا ہے۔

مگر شاعری باوجودیکہ اشیائے خارجی کی نقل میں تینو فنون کا کام دے سکتی ہے اس کو تینوں سے اس بات کی فوقیت ہے کہ انسان کا بطون صرف شاعری ہی کی قلمرو ہے۔ نہ وہاں مصوری کی رسائی ہے نہ بت تراشی کی اور نہ ناٹک کی مصوری اور ناٹک وغیرہ انسان کے خصائل یا جذبات اس قدر ظاہر کر سکتے ہیں جس قدر کہ چہرہ یا رنگ اور حرکت سے ظاہر ہو سکتے ہیں اور یہ بھی ہمیشہ ادھورے اور نظر فریب نمونے ان کیفیات کے ہوتے ہیں جو فی الواقع انسان کے بطون میں موجود ہیں۔ مگر نفس انسانی کی باریک گہری اور بوقلموں کی کیفیات صرف الفاظ ہی کے ذریعہ سے ظاہر ہو سکتی ہے۔ شاعری کائنات کی تمام اشیائے خارجی اور ذہنی کا نقشہ اتار سکتی ہے۔ عالم محسوسات، دولت کے انقلابات، سیرت انسانی، معاشرت نوع انسانی تمام چیزیں جن کا تصور مختلف اشیا کے اجزا کو ایک دوسرے سے ملا کر کیا جا سکتا ہے۔ سب شاعری کی سلطنت میں محصور ہیں۔ شاعری ایک سلطنت ہے جس کی قلمرو اسی قدر وسیع ہے جس قدر خیال کی قلمرو۔"

ایک اور محقق نے شعر کی تعریف اس طرح کی ہے کہ " جو خیال ایک معمولی اور نرالے طور پر لفظوں کے ذریعہ سے اس لیے ادا کیا جائے کہ سامع کا دل اس کو سنکر خوش یا متاثر ہو وہ شعر ہے خواہ نظم میں ہو اور خواہ نثر میں۔"

مذکورہ بالا تقریروں کا مطلب زیادہ دل نشین کرنے کے لیے ہم اس مقام پر چند مثالیں ذکر کرنی مناسب سمجھتے ہیں۔




[ترمیم] (1) فردوسی کہتا ہے
بمالید چا چی کمال را بدست

بہ چرم کوزن اندر آورد شست


ستوں کرد چپ را و خم کرد راست

خروش از خم چرخ چا چی بخاست


ان دونوں شعروں میں رستم کی وہ حالت دکھائی ہے کہ وہ اشکبوس کشانی سے لڑنے کے لیے پیادہ میدان کارزار میں گیا ہے اور اس پر وار کرنے کے لیے کمان میں تیر جوڑا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان شعروں کے مضمون کو اگر ایک غیر شاعر معمولی طور پر بیان کرتا تو صرف اس قدر کہنا کافی تھا کہ رستم نے کمان کے چلہ میں تیر جوڑا لیکن اس بیان میں اس حالت کی جبکہ وہ تیر چلانے کے لیے کمان تانے کھڑا تھا نقل مطلق نہیں پائی جاتی۔ البتہ جو اسلوب فردوسی نے اس کے بیان میں اختیار کیا ہے اس میں جہاں تک کہ الفاظ مساعدت کر سکتے تھے اس حالت کی کافی طور پر نقل اتاری گئی ہے لیکن چونکہ ایک ایسی حالت ہے جو آنکھ سے محسوس ہو سکتی ہے اس لیے اس کو ایک بت تراش یا ایک مصور فردوسی کی نسبت زیادہ واضح اور زیادہ نمودار صورت میں ظاہر کر سکتا ہے۔




[ترمیم] (2) سعدی شیرازی
چناں قحط سالے شد اندر دمشق

کہ یاراں فراموش کردند عشق


اس شعر میں دمشق کے کسی قحط کا وہ عالم بیان کیا ہے جو وہاں کے باشندوں پر طاری تھا۔ اس مضمون کو ایک غیر شاعر اس سے زیادہ بیان نہیں کر سکتا کہ خلقت بھوکی پیاسی مر رہی تھی یا اناج اور پانی نایاب تھا یا اسی قسم کی معمولی باتیں جو قحط کے زمانہ میں عموما پیش آتی ہیں لیکن منتہائے سختی قحط کی تصویر جن لفظوں میں کہ سعدی نے کھینچی ہے ایسے معمولی بیانات سے ہرگز نہیں کھینچ سکتی۔ اور چونکہ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جو محسوس نہیں ہو سکتی اس لیے شاعر کے سوا مصور اور بت تراش دونوں اس کی نقل اتارنے سے عاجز ہیں۔ البتہ ایکٹر ایسا تماشا دکھانے سے کسی قدر عہدہ برآ ہو سکتا ہے۔ بشرطیکہ شاعر نے اس کے کافی الفاظ مہیا کر دیئے ہوں۔




[ترمیم] (3) ابن دراج اندلسی
ایک قصیدہ میں اپنے شیر خوار بچہ کی وہ حالت جب کہ وہ خود گھر والوں سے رخصت ہو کر کہیں دور جانے والا ہے اور بچہ اس کے منہ کو تک رہا ہے، بیان کرتا ہے :


عیی بمرجوع الخطاب و لخطہ

بموقع اھوا الفوس خبیر


یعنی وہ بات کا جواب دینے سے تو عاجز ہے مگر اس کی آنکھ ان اداؤں سے واقف ہے جو دلوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اس شعر میں استاد نے ایک محض وجدانی کیفیت کی تصویر کھینچی ہے جس کی محاکات زمانہ حال کے مصور، بت تراش اور ایکٹر بھی بلاشبہ کسی قدر کر سکتے ہیں۔ لیکن نہ ایسی جیسی کہ شاعر نے کی ہے۔ نیز شاعر کے سوا کسی کو یہ اسلوب بیان ہرگز نہیں سوجھ سکتا۔ کیونکہ جس مطلب کو اس نے اس پیرائے میں بیان کیا ہے اس کا ماحصل صرف اس قدر ہے کہ رخصت ہوتے وقت جو وہ میری طرف دیکھتا تھا اس پر بے اختیار پیار آتا تھا۔ اس معمولی بات کو وہ اس طرح ادا کرتا ہے کہ وہ شیر خوار بچہ جس کے منہ میں بول تک نہ تھا اس کی آنکھ ایک ایسے بھید سے واقف تھی جس سے اکثر بڑے بڑے عاقل اور دانش مند واقف نہیں ہوتے۔ یعنی یہ کہ کس طرح اوروں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں۔




[ترمیم] (4) نظیر نیشا پوری
بہ زیر شاغ گل افعی گزیدہ بلبل را

نوا گران نخوردہ گزند را چہ خبر


فصل بہار میں پھولوں کے کھلنے یا ہوا مین اعتدال پیدا ہونے یا بدن میں دوران خون کے تیز ہو جانے سے جا نشاط اور امنگ بلبل کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے اور جس کو شعرا گل و گلشن کے عشق سے تعبیر کرتے ہیں اور جس کے جوش اور دلوں میں وہ دن بھر چہکتا رہتا ہے۔ اس حالت اور کیفیت کو شاعر نے افعی کے کاٹے کی لہر سے تعبیر کیا ہے۔ گویہ تمثیل بھی اسی حالت کی اصل حقیقت ظاہر کرنے سے قاصر ہو مگر جس قدر کہ اس حالت کا تصور ان لفظوں کے ذریعہ سے پیدا ہوتا ہے اتنا تھی تصویر یا ناٹک کے ذریعہ سے نہیں ہو سکتا۔ گویا اس کیفیت کا ظاہر کرنا مصوری، بت تراشی اور ناٹک کی دسترس سے باہر ہے۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 22-09-07, 06:46 PM   #2
Senior Member
 
ایم اے راجا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: Mirpurkhas, Sindh
عمر: 38
مراسلات: 391
کمائي: 700
شکریہ: 25
121 مراسلہ میں 166 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایم اے راجا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایم اے راجا کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: شعر کی ماہیت

کیا بات ہے زبردست۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
ایم اے راجا آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 22-09-07, 06:56 PM   #3
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
عمر: 29
مراسلات: 14,897
کمائي: 5,560,008,153
شکریہ: 12,384
6,493 مراسلہ میں 15,156 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: شعر کی ماہیت

بہت خوب خرم بھائی
بہت عمدہ شئیرنگ ہے جناب
محمدعدنان آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 25-09-07, 07:18 PM   #4
Senior Member
 
The Great's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 19
مراسلات: 5,770
کمائي: 82,443
شکریہ: 2
2,016 مراسلہ میں 3,241 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: شعر کی ماہیت

بہت بڑھیا لکھا ھے اپ نے جناب
The Great آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
پرانا 26-09-07, 09:13 AM   #5
ناظم اعلی
 
خرم شہزاد خرم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,565
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: شعر کی ماہیت

آپ سب کا بہت شکریہ کے آپ نے میرے انتخاب کو پسند کیا شکریہ
خرم شہزاد خرم آف لائن ہے  
Digg this Post!Add Post to del.icio.usBookmark Post in TechnoratiFurl this Post!
Reply With Quote
جواب

Tags
کمال, پسند, نظر, آج, انسان, استاد, بلبل, ترمیم, تصویر, جواب, خون, خوش, خبر, خرم, دل, زمانہ, شاعری, شعر, عالم, عشق, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا سوچتے ہو، پھولوں کی رت بیت گئی، رُت بیت گئی خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 3 21-12-10 05:54 PM
مولانا فضل الرحمان، نصیربھٹہ اور کشمالہ طارق سمیت 148ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل جاویداسد خبریں 15 22-10-10 12:49 PM
عیسائیت کی تبلیغ کا الزام 6امریکیوں سمیت 10 افراد ہلاک جاویداسد خبریں 1 08-08-10 09:46 PM
آئین میں اٹھارہویں ترمیم۔۔۔۔۔۔ جمہوریت کے چہرے پر آمریت کا ایک اور بد نماداغ Zullu230 سیاست 6 29-06-10 12:18 AM
جمہوریت کی بحالی کیلئے یورپی یونین کا کردار نہایت اہم ہے،نواز شریف عبدالقدوس خبریں 0 08-12-07 12:19 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:19 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Search Engine Friendly URLs by vBSEO 3.3.1
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifikationen durch TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger