| آئیں شاعری سیکھیں آئیں شاعری سیکھیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,565
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شاعری سوسائٹی کے تابع
مگر باوجود ان تمام باتوں کے جو کہ شعر کی تائید میں کہی گئی ہیں۔ ممکن ہے کہ سوسائٹی کے دباؤ یا زمانہ کے اقتضا سے شعر پر ایسی حالت طاری ہو جائے کہ وہ بجائے اس کے کہ قومی اخلاق کی اصلاح کرے اس کے بگاڑنے اور برباد کرنے کا ایک زبردست آلہ بن جائے۔ قاعدہ ہے کہ جس قدر سوسائٹی کے خیالات، اس کی رائیں، اس کی عادتیں، اس کی رغبتیں، اس کا میلان اور مذاق بدلتا ہے اسی قدر شعر کی حالت بدلتی رہتی ہے اور یہ تبدیلی بالکل بے ارادہ معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ سوسائٹی کی حالت کو دیکھ کر شاعر قصداً اپنا رنگ نہیں بدلتا بلکہ سوسائٹی کے ساتھ ساتھ وہ خود بخود بدلتا چلا جاتا ہے۔ شفائی صفاہانی کی نسبت جو کہا گیا ہے کہ اس کے علم کو شاعری نے اور شاعری کو ہجو گوئی نے برباد کیا۔ اس کا منشا وہی سوسائٹی کا دباؤ تھا۔ اور عبید زاکانی (1) نے جو علم و فضل سے دست بردار ہو کر ہزل گوئی اختیار کی۔ یہ وہی زمانہ کا اقتضا تھا۔ جس طرح خوشامد اور نذر بھینٹ کا چٹخارا رفتہ رفتہ ایک متدین اور راست باز جج کی نیت میں خلل ڈال دیتا ہے اسی طرح دربار کی واہ واہ اور صلہ کی چاٹ ایک آزاد خیال اور جذبیلے شاعر کو چپکے چپکے ہی بھٹئی، جھوٹ اور خوشامد یا ہزل و تمسخر پر اس طرح لا ڈالتی ہے کہ وہ اسی کو کمال شاعری سمجھنے لگتا ہے۔ خود مختار بادشاہ جن کا کوئی ہاتھ روکنے والا نہیں ہوتا اور تمام بیت المال جس کا جیب خرچ ہوتا ہے اس کی بے دریغ بخشش شعرا کی آزادی کے حق میں سم قاتل ہوتی ہے۔ وہ شاعر جس کو قوم کا سرتاج اور سرمایۂ افتخار ہونا چاہیے تھا۔ ایک بندۂ ہوا و ہوس کے دروازہ پر دریوزہ گروں کی طرح صدا لگاتا اور شیئا للہ کہتا ہوا پہنچتا ہے۔ اول اول مدح و ستائش میں سچ سے بالکل قطع نظر نہیں کی جاتی۔ کیونکہ قومی عروج کی ابتدا میں ممدوح اکثر مدح کے مستحق ہوتے ہیں اور شاعر کی طبیعت سے آزادی کا جوہر دفعتہً زائل نہیں ہو جاتا لیکن جب واقعات نبڑ جاتے ہیں اور مداح سرائی کی “کر“ ہمیشہ کے لیے شاعر کے ذمہ لگ جاتی ہے تو اس کی شاعری کا مدار صرف جھوٹی تہمتیں باندھنے پر رہ جاتا ہے۔ پھر جب آفتابِ اقبال کا دورہ جس کی عمر طبیعی شخصی سلطنتوں میں اکثر سو برس سے زیادہ نہیں ہوئی ختم ہونے کو ہوتا ہے اور سلاطین و امرا میں خوبیاں جن کے سبب سے جمہورا نام کے شکر و سپاس و مدح و ستائش کے مستحق اور شعرا کی مداحی سے مستغنی ہوں باقی نہیں رہتیں تو ان کو شاعروں کی بھٹئی کے سوا کوئی ایسی چیز نہیں سوجھتی جس کو سن کر ان کا نفس موٹا ہو۔ لہذا ان کو شعرا کی زیادہ قدر کرنی پڑتی ہے۔ اس سے جھوٹی شاعری کو اور زیادہ ترقی ہوتی ہے پھر بہت سے نا شاعر جب شاعروں کو گراں بہا صلے اور خلعت و انعام برابر پاتے دیکھتے ہیں تو ان کو بہ تکلف اپنے تئیں شاعر بنانا پڑتا ہے لیکن چونکہ ان کی طبیعت میں شاعرانہ جدت و اختراع کا مادہ نہیں ہوتا وہ اصلی شاعروں کی نہایت بھونڈی تقلید کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ جس طرح بڑھاپے کی تصویر بچپن سے کچھ مناسبت نہیں رکھتی اسی طرح رفتہ رفتہ شعر کی صورت گویا مسخ ہو جاتی ہے اور شاعری کا ماحصل سوا اس کے کہ اس سے قربِ سلطانی ہوتا ہے اور کچھ نہیں رہتا۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|
| خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا | فاروق سرورخان (30-11-09) |
![]() |
| Tags |
| کمال, واقعات, نظر, ممکن, معلوم, انعام, بچپن, تصویر, جھوٹ, زمانہ, شاعری, شعر, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| لاہور:نوازشریف کے قریبی عزیز سہیل ضیاء بٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کیس میں گرفتار | گلاب خان | خبریں | 1 | 02-09-10 12:24 PM |
| میرا گاوں جنڈانوالہ کی سوسائٹی اور سیلاب کے لیے امداد | محمدخلیل | خبریں | 3 | 01-09-10 10:35 PM |
| کراچی کی بدترین تباہی ، لوٹ مار پر سول سوسائٹی کیوں خاموش ہے ، مصطفیٰ کمال | ابن ضیاء | خبریں | 0 | 08-01-08 01:22 PM |
| ہاؤسنگ سوسائٹی کے الاٹیز کو پلاٹنہ دینے پر بلڈر کا ریمانڈ | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 05-01-08 11:11 AM |
| سول سوسائٹی سے مل کر لاہور تا اسلام آباد لانگ مارچ کریں گے،نواز شریف | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 12-12-07 10:33 AM |