| آئیں شاعری سیکھیں آئیں شاعری سیکھیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,481
کمائي: 1,182,887,786,566
شکریہ: 7,483
3,652 مراسلہ میں 9,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس کثرت کا سبب
بظاہر اس کثرت کے دو سبب معلوم ہوتے ہیں۔ ایک مدح و ستائش پر ممدوح کی طرف سے صلہ و انعام ملنے کا رواج جس کی وجہ سے ہر موزوں طبع کو عام اس سے کہ وہ شاعر بننے کے لائق ہو یا نہ ہو شاعری اختیار کرنے کا خیال ہوتا تھا۔ دوسرے ہر درجہ کے شعر پر سامعین کی طرف سے جا و بے جا تحسین و آفرین ہونے کا دستور۔ اور پچھلا سبب پہلے سے بھی زیادہ شعر گوئی کی تحریک کرنے والا تھا۔ کیونکہ صلہ و انعام کا لالچ صرف انہیں لوگوں کو ہوتا تھا جنہیں اس کی احتیاج تھی۔ لیکن واہ واہ سننے کی خواہش میں بادشاہ اور امیر اور غریب سب برابر تھے۔ ان دونوں سببوں سے مسلمانوں کی شاعری کو دو طرف سے صدمہ پہنچا۔ جب صلے اور انعام مستحق اور غیر مستحق دونوں کو برابر ملنے لگے اور تحسین و آفریں کی بوچھاڑ محل اور بے محل ہر درجہ کے شعر پر ہونے لگی تو جو لوگ فی الحقیقت صلہ و تحسین کے مستحق تھے ان کے دل بجھ گئے اور شاعری کی اعلی لیاقتیں جو ان کی طبیعت میں ودیعت تھیں وہ خریداروں کی بےتمیزی کے سبب جیسی چاہیے ظاہر نہ ہونے پائیں۔ اور جو مستحق نہ تھے ان کے دل بڑھے اور ان کو قوم میں اپنی بساند پھیلانے اور شاعری پر ظلم کرنے کا موقع ملا۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
|
|
|